<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 10:12:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 10:12:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ڈیلٹا سے متاثر ویکسینیشن والے مریضوں میں بیماری کی شدت معمولی ہوتی ہے، تحقیق
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1165516/</link>
      <description>&lt;p&gt;ویکسینیشن مکمل کرانے والے افراد اگر کووڈ کی قسم ڈیلٹا سے متاثر ہو جائیں تو بھی ان میں بیماری کی معتدل یا سنگین شدت کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بات سنگاپور میں ہونے والی ایک نئی طبی &lt;a href="https://www.medrxiv.org/content/10.1101/2021.07.28.21261295v1.full.pdf"&gt;تحقیق&lt;/a&gt; میں سامنے آئی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سنگاپور کے مختلف طبی اداروں کی اس مشترکہ تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے بلکہ پری پرنٹ سرور medRxiv پر ان کو جاری کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں بتایا گیا کہ ویکسینیشن سے بریک تھرو انفیکشنز (ویکسینیشن کے بعد کووڈ سے متاثر ہونے والے مریضوں کے لیے استعمال ہونے والی طبی اصطلاح) کی صورت میں کووڈ سے منسلک ورم کا خطرہ کم ہوتا ہے، علامات کم نظر آتی ہیں بلکہ بغیر علامات والی بیماری کا امکان زیادہ ہوتا ہے اور کلینکل نتائج بہتر رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق میں 18 سال یا اس سے زائد عمر کے 218 افراد کا تجزیہ کیا گیا تھا جو ڈیلٹا قسم سے بیمار ہوئے تھے اور انہیں 5 ہسپتالوں یا طبی مراکز میں داخل کرایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان میں سے 84 افراد کو کووڈ سے بچاؤ کے لیے ایم آر این اے ویکسینز استعمال کرائی گئی تھی اور 71 کی ویکسینیشن مکمل ہوچکی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;130 مریضوں کی ویکسینیشن نہیں ہوئی تھی جبکہ باقی 4 کو دیگر ویکسینز استعمال کرائی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ ویکسین استعمال نہ کرنے والے اور ویکسینیشن کے مرحلے سے گزرنے والے ڈیلٹا کے مریضوں میں ابتدا میں وائرل لوڈ کی شرح ملتی جلتی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جو ان تحقیقی رپورٹس کے نتائج سے مطابقت نہیں رکھتا جن میں بتایا گیا تھا کہ ویکسنیشن کے بعد کووڈ سے متاثر ہونے والے مریضوں میں وائرل لوڈ کی سطح کم ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم سنگاپور کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ویکسنیشن والے مریضوں میں وائرل لوڈ بہت تیزی سے کلیئر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق سے یہ بھی عندیہ ملتا ہے کہ ویکسنیشن سے مریضوں سے دیگر افراد میں وائرس کی منتقلی کا امکان کم ہوتا ہے، تاہم محققین کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے زیادہ بڑے پیمانے پر تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سنگاپور میں اس وقت کورونا کی زیادہ متعدی قسم ڈیلٹا کے کیسز دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سنگاپور میں اب تک 61 فیصد آبادی کی ویکسینیشن مکمل ہوچکی ہے جبکہ 77 فیصد کو ایک خوراک دی جاچکی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ویکسینیشن مکمل کرانے والے افراد اگر کووڈ کی قسم ڈیلٹا سے متاثر ہو جائیں تو بھی ان میں بیماری کی معتدل یا سنگین شدت کا خطرہ بہت کم ہوتا ہے۔</p>

<p>یہ بات سنگاپور میں ہونے والی ایک نئی طبی <a href="https://www.medrxiv.org/content/10.1101/2021.07.28.21261295v1.full.pdf">تحقیق</a> میں سامنے آئی۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>سنگاپور کے مختلف طبی اداروں کی اس مشترکہ تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے بلکہ پری پرنٹ سرور medRxiv پر ان کو جاری کیا گیا۔</p>

<p>تحقیق میں بتایا گیا کہ ویکسینیشن سے بریک تھرو انفیکشنز (ویکسینیشن کے بعد کووڈ سے متاثر ہونے والے مریضوں کے لیے استعمال ہونے والی طبی اصطلاح) کی صورت میں کووڈ سے منسلک ورم کا خطرہ کم ہوتا ہے، علامات کم نظر آتی ہیں بلکہ بغیر علامات والی بیماری کا امکان زیادہ ہوتا ہے اور کلینکل نتائج بہتر رہتے ہیں۔</p>

<p>اس تحقیق میں 18 سال یا اس سے زائد عمر کے 218 افراد کا تجزیہ کیا گیا تھا جو ڈیلٹا قسم سے بیمار ہوئے تھے اور انہیں 5 ہسپتالوں یا طبی مراکز میں داخل کرایا گیا۔</p>

<p>ان میں سے 84 افراد کو کووڈ سے بچاؤ کے لیے ایم آر این اے ویکسینز استعمال کرائی گئی تھی اور 71 کی ویکسینیشن مکمل ہوچکی تھی۔</p>

<p>130 مریضوں کی ویکسینیشن نہیں ہوئی تھی جبکہ باقی 4 کو دیگر ویکسینز استعمال کرائی گئی تھیں۔</p>

<p>تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ ویکسین استعمال نہ کرنے والے اور ویکسینیشن کے مرحلے سے گزرنے والے ڈیلٹا کے مریضوں میں ابتدا میں وائرل لوڈ کی شرح ملتی جلتی تھی۔</p>

<p>جو ان تحقیقی رپورٹس کے نتائج سے مطابقت نہیں رکھتا جن میں بتایا گیا تھا کہ ویکسنیشن کے بعد کووڈ سے متاثر ہونے والے مریضوں میں وائرل لوڈ کی سطح کم ہوتی ہے۔</p>

<p>تاہم سنگاپور کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ویکسنیشن والے مریضوں میں وائرل لوڈ بہت تیزی سے کلیئر ہوتا ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>تحقیق سے یہ بھی عندیہ ملتا ہے کہ ویکسنیشن سے مریضوں سے دیگر افراد میں وائرس کی منتقلی کا امکان کم ہوتا ہے، تاہم محققین کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے زیادہ بڑے پیمانے پر تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔</p>

<p>سنگاپور میں اس وقت کورونا کی زیادہ متعدی قسم ڈیلٹا کے کیسز دیگر اقسام کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔</p>

<p>سنگاپور میں اب تک 61 فیصد آبادی کی ویکسینیشن مکمل ہوچکی ہے جبکہ 77 فیصد کو ایک خوراک دی جاچکی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1165516</guid>
      <pubDate>Wed, 04 Aug 2021 00:00:56 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/08/61098b553a276.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/08/61098b553a276.jpg"/>
        <media:title>یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
