<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 17:31:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 17:31:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشروم جھیل: سوات کی جھیلوں میں خوبصورت اضافہ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1166486/</link>
      <description>&lt;p&gt;بیس کیمپ سے تقریباً 6، 7 گھنٹوں کی ایک طویل اور تھکا دینے والی مسافت طے کرنے کے بعد جیسے ہی مشروم جھیل (Mushroom Lake) پر میری پہلی نظر پڑی، تو نہ جانے کیوں مجھے احساس ہوا کہ سوات کو خداوند  نے بڑی فیاضی کے ساتھ فطری حُسن سے نوازا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بیشتر لوگ اسے سوات کے میدانی علاقوں میں تلاشتے ہیں جبکہ یہ حُسن، فلک بوس پہاڑوں کی چوٹیوں، ان کی گود میں نیلے پانیوں کی برفیلی جھیلوں کی شکل میں دیکھنے کو ملتا ہے، بلندی سے گرنے والی آبشاروں کی شکل میں دیکھنے کو ملتا ہے یا پھر بڑے بڑے بانڈہ جات (چکیل، باکسر، ٹیپ، کُو، دیسان، جانشئی وغیرہ) کی صورت میں دیکھنے کو ملتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سوات کی پوری وادی سے بھرپور لطف اٹھانے کے لیے بلاشبہ ایک زندگی کم ہے۔ مشروم جھیل کے کنارے بیٹھ کر مجھے خیال آیا کہ واقعی سوات کے فطری حُسن سے محظوظ ہونے کے لیے دوسری بار دنیا میں آنا پڑے گا۔ جھیل کنارے بیٹھے بیٹھے مجھے کشور کمار کی آواز میں گایا ہوا یہ مشہور نغمہ یاد آیا اور گنگنایا بھی کہ&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تیرا ساتھ ہے کتنا پیارا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;کم لگتا ہے جیون سارا&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;تیرے ملن کی لگن میں&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;ہمیں آنا پڑے گا دنیا میں دوبارہ&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='612638e89482b'&gt;جھیل کا نام 'مشروم' کیسے پڑا؟&lt;/h2&gt;

&lt;p&gt;جھیل کنارے بیٹھے مجھے سب سے پہلے خیال یہ آیا کہ اس کا نام 'مشروم' ہی کیوں پڑا؟ حالانکہ اس کا پرانا نام 'بلی ڈنڈہ' یعنی 'بَلی جھیل' ہے۔ گوگل میپ پر تلاشیں تو بَلی نامی کوئی جھیل ہاتھ نہیں آتی۔ شاہی باغ میں بھی کھوکھے اور ریسٹورنٹ والے مقامی لوگ اسے 'مشروم' پکارتے ہیں۔ انہی کے بقول ہمارے بڑے اسے 'بَلی' کے نام سے پکارتے تھے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مقامی لوگوں کے مطابق بہار کے موسم میں جیسے ہی جھیل کے آس پاس برف پگھل جاتی ہے، تو انواع و اقسام کی خود رُو کھمبیاں (Mushrooms) اُگ آتی ہیں۔ مقامی لوگ انہیں اکٹھا کرکے شہر میں مہنگے داموں فروخت بھی کرتے ہیں۔ انہیں مختلف ادویات بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ مذکورہ انواع و اقسام کی کھمبیوں کی وجہ سے جھیل کا نام بھی 'مشروم' (Mushroom) پڑگیا۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='612638e89489c'&gt;جھیل تک کیسے جایا جائے؟&lt;/h2&gt;

&lt;p&gt;سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے کالام تک سڑک پکی کردی گئی ہے۔ 96 کلومیٹر کا یہ راستہ اگر رش زیادہ نہ ہو، تو ساڑھے 3 گھنٹے میں باآسانی طے کیا جاسکتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کالام سے آگے اُتروڑ تک 17 کلومیٹر کی سڑک کچی ہے، جہاں تک عام گاڑی کی مدد سے باآسانی رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اُتروڑ سے آگے کا راستہ (تقریباً 11 کلومیٹر) نہ صرف کچا ہے بلکہ پُرخطر بھی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ اُتروڑ سے شاہی باغ تک فور بائے فور گاڑی کرائے پر حاصل کی جائے۔ گوکہ اب جبہ (بیس کیمپ) تک کچی سڑک کا اہتمام ہوچکا ہے اور گاڑی وہاں تک جایا کرتی ہے، مگر بہتر یہی ہے کہ شاہی باغ سے جبہ تک پیدل سفر کیا جائے۔ یہ ایک طرح سے 3 یا ساڑھے 3 گھنٹوں پر مشتمل ہر لحاظ سے ایک بہترین ہائیک ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b8835054ac.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/08/611b8835054ac.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/08/611b8835054ac.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b8835054ac.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="جبہ کے لیے سفر شروع ہوا چاہتا ہے" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;جبہ کے لیے سفر شروع ہوا چاہتا ہے&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b8831d8a1a.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/08/611b8831d8a1a.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/08/611b8831d8a1a.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b8831d8a1a.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="جبہ، جو مشروم جھیل کے لیے ایک طرح کا بیس کیمپ ہے" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;جبہ، جو مشروم جھیل کے لیے ایک طرح کا بیس کیمپ ہے&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b8833b9c5f.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/08/611b8833b9c5f.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/08/611b8833b9c5f.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b8833b9c5f.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="مشروم جھیل کے لیے سفر کا آغاز" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;مشروم جھیل کے لیے سفر کا آغاز&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مشروم جھیل کے لیے 'جبہ' کو بیس کیمپ تصور کرلیں۔ یہ خود ایک بہت ہی پیاری جگہ ہے جہاں شرقاً غرباً پہاڑی سلسلے ہیں اور ان کے درمیان مشروم جھیل سے نکلنے والے پانی کی بل کھاتی ندی ہے۔ جبہ میں خیمے لگانے کے لیے ایک سے ایک بہتر جگہ مل سکتی ہے۔ رات کو پُرسکون خاموشی، اگست جیسے گرم مہینے میں آگ تاپنے کا عمل اور نیند نہ آتے سمے اختر شماری (تارے گننا) گویا سونے پر سہاگا کے مصداق ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگلی صبح تازہ دم جھیل تک پیدل سفر شروع ہوتا ہے۔ اسے ایک صبر آزما مرحلہ مان لیں۔ چٹانوں سے سرکنے والے بڑے بڑے پتھر (Boulders) سب سے پہلے راستہ روکے کھڑے نظر آتے ہیں۔ ان سے آگے کھلے میدان شروع ہوتے ہیں جو مویشیوں کی چراہ گاہ ہیں۔ ان کے درمیان نیلے پانی کی بل کھاتی ندی اور خود رو رنگ برنگے پھول ایک الگ سماں باندھتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b883640ec0.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/08/611b883640ec0.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/08/611b883640ec0.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b883640ec0.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="راستے میں بل کھاتی ندی سحر طاری کرنے کے لیے کافی ہے" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;راستے میں بل کھاتی ندی سحر طاری کرنے کے لیے کافی ہے&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b8833e689b.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/08/611b8833e689b.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/08/611b8833e689b.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b8833e689b.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="جگہ جگہ ایسے خود رو پھول لہلہاتے کھڑے دکھائی دیتے ہیں" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;جگہ جگہ ایسے خود رو پھول لہلہاتے کھڑے دکھائی دیتے ہیں&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کھلے میدانوں میں 2 گھنٹے کی پیدل مسافت طے کرنے کے بعد ایک آبشار دیکھنے کو ملتی ہے، جو سیدھی مشروم جھیل سے نکل کر نیچے میدان میں گرتی ہے۔ آبشار سے آدھے گھنٹے کی مسافت پر جھیل کے لیے دیوقامت پہاڑ پر چڑھائی کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='612638e8948c1'&gt;جھیل تک پیدل جانے والا راستہ کیسا ہے؟&lt;/h2&gt;

&lt;p&gt;چڑھائی کا عمل شروع کرنے سے پہلے پانی کی بوتل بھر لی جائے تو بہتر ہے کیونکہ آگے پورے راستے میں پانی کا نام و نشان دکھائی نہیں دیتا۔ تقریباً ایک گھنٹہ چڑھائی کا عمل پورا کرنے کے بعد قبلہ رُخ 90 درجے کے زاویے سے مُڑنا پڑتا ہے، جہاں سے نیچے دکھائی دینے والی گہری کھائی اچھے خاصے جی دار بندے کو بھی چکرا کے رکھ دیتی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b88366f124.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/08/611b88366f124.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/08/611b88366f124.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b88366f124.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="90 درجے پر موڑ مڑنے کے بعد کا پڑاؤ" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;90 درجے پر موڑ مڑنے کے بعد کا پڑاؤ&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b8836484be.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/08/611b8836484be.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/08/611b8836484be.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b8836484be.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="پہاڑ کی چوٹی سے نظر آنے والی ایک چھوٹی سی جھیل" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;پہاڑ کی چوٹی سے نظر آنے والی ایک چھوٹی سی جھیل&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تقریباً آدھا گھنٹہ پھونک پھونک کر قدم رکھنے کے بعد پہاڑ کے اوپر ایک چھوٹا سا مرغزار دیکھنے کو ملتا ہے۔ مرغزار سے جھیل کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پہاڑی سلسلے کی چوٹیاں، گلیشیئر اور آبشار، یہ وہ نشانیاں ہیں جو دُور سے مشروم جھیل کی موجودگی کا احساس دلاتی ہیں۔ اس مقام سے ٹھیک ڈھائی یا 3 گھنٹے کی صبر آزما مسافت طے کرنے کے بعد جیسے ہی جھیل پر پہلی نظر پڑتی ہے تو آدمی بے ساختہ کشور کمار کی آواز میں گایا ہوا نغمہ گنگنانے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ 'تیرا ساتھ ہے کتنا پیارا۔۔۔!'&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b883576843.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/08/611b883576843.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/08/611b883576843.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b883576843.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="مشروم جھیل کا منظر" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;مشروم جھیل کا منظر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b953659d31.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/08/611b953659d31.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/08/611b953659d31.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b953659d31.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="مشروم جھیل میں ہوا کے دباؤ سے بننے والی لہریں" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;مشروم جھیل میں ہوا کے دباؤ سے بننے والی لہریں&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b883615807.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/08/611b883615807.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/08/611b883615807.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b883615807.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="جھیل کنارے مراقبہ جاری ہے" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;جھیل کنارے مراقبہ جاری ہے&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='612638e8948e4'&gt;مشروم جھیل کی انفرادیت کیا ہے؟&lt;/h2&gt;

&lt;p&gt;مشروم جھیل، سطحِ سمندر سے 13 ہزار 500 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ فلک بوس پہاڑوں کی چوٹیوں کے درمیان زمرد رنگ کے پانی کی اس جھیل کا شمار بلاشبہ پاکستان کی اونچی، بڑی اور خوبصورت جھیلوں میں ہوتا ہے۔ چوٹیوں پر پڑی برف پگھل کر جھیل کا پیٹ بھرتی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جھیل سے نکلنے والا پانی، آبشار کی شکل میں گِر کر ندی کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور آگے دریائے سوات میں گِر کر اپنی شناخت کھو بیٹھتا ہے۔ مئی کے وسط سے ستمبر کے وسط تک کا دورانیہ جھیل کی سیر کے لیے آئیڈیل ہے۔ باقی مہینوں میں یہ برف سے اَٹی رہتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b8835e1d9b.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/08/611b8835e1d9b.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/08/611b8835e1d9b.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b8835e1d9b.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="مقامی ٹریکر، مشروم جھیل کے پُرسکون ماحول کا لطف اٹھا رہا ہے" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;مقامی ٹریکر، مشروم جھیل کے پُرسکون ماحول کا لطف اٹھا رہا ہے&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b883526414.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/08/611b883526414.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/08/611b883526414.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b883526414.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="جھیل کا دلفریب نظارہ ہو، خوبصورت خود رو پھول ہوں اور سکون ہو، تو اور کیا چاہیے!" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;جھیل کا دلفریب نظارہ ہو، خوبصورت خود رو پھول ہوں اور سکون ہو، تو اور کیا چاہیے!&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;h2 id='612638e894928'&gt;جھیل کی سیر کرنے والوں کے لیے چند ہدایات&lt;/h2&gt;

&lt;ul&gt;
&lt;li&gt;جھیل کی سیر کرنے والوں کے لیے سب سے ضروری ہدایت یہ ہے کہ جنہیں ٹریکنگ
کا تجربہ نہ ہو، وہ جانے کی زحمت بالکل نہ کریں۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;ٹریک سوٹ، بہترین ٹریکنگ شوز، اونی ٹوپی، دستانے، برساتی، ہائیکنگ اسٹک،
سن گلاسز، مضبوط رسّی اور خیمے کے ساتھ ساتھ پیاز بھی رکھ لی جائے، کیونکہ وہ سطحِ سمندر سے 12 یا 13 ہزار فٹ کی بلندی پر
آکسیجن کی کمی سے جی متلاتے وقت سونگھنے یا چکھنے کے کام آتی ہے۔ یوں
طبیعت بحال رہتی ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;گہری کھائی والا موڑ کاٹتے وقت محتاط رہیں کیونکہ معمولی سی غلطی بھی
جان سے ہاتھ دھونے کے برابر ہے۔&lt;/li&gt;
&lt;li&gt;آخری اور سب سے ضروری بات، جھیل جانے والے افراد اُتروڑ، گبرال یا پھر
شاہی باغ سے اپنے ساتھ مقامی گائیڈ کو لے جانا نہ بھولیں۔ یوں آپ کو
احساسِ تحفظ کے ساتھ ساتھ بہترین رہنمائی بھی مل جائے گی۔&lt;/li&gt;
&lt;/ul&gt;

&lt;p&gt;مجھے مشروم جھیل کا نظارہ کرتے وقت کشور کمار کے نغمے کے ساتھ انگریزی کی یہ ضرب المثل بھی یاد آئی کہ The best view comes after the hardest climb یعنی کٹھن ترین چڑھائی کے بعد ہی نظارہ ملتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/6  w-full  media--right    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2019/05/5cd25f4691d19.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/05/5cd25f4691d19.jpg 250w, https://i.dawn.com/large/2019/05/5cd25f4691d19.jpg 250w, https://i.dawn.com/primary/2019/05/5cd25f4691d19.jpg 250w' sizes='(min-width: 992px)  250px, (min-width: 768px)  250px,  250px' alt="" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			امجد علی سحاب روزنامہ آزادی اسلام آباد اور باخبر سوات ڈاٹ کام کے ایڈیٹر ہیں۔ اردو کو بطور مضمون پڑھاتے ہیں۔ اس کے ساتھ فری لانس صحافی بھی ہیں۔ نئی دنیائیں کھوجنے کے ساتھ ساتھ تاریخ و تاریخی مقامات میں دلچسپی بھی رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بیس کیمپ سے تقریباً 6، 7 گھنٹوں کی ایک طویل اور تھکا دینے والی مسافت طے کرنے کے بعد جیسے ہی مشروم جھیل (Mushroom Lake) پر میری پہلی نظر پڑی، تو نہ جانے کیوں مجھے احساس ہوا کہ سوات کو خداوند  نے بڑی فیاضی کے ساتھ فطری حُسن سے نوازا ہے۔ </p>

<p>بیشتر لوگ اسے سوات کے میدانی علاقوں میں تلاشتے ہیں جبکہ یہ حُسن، فلک بوس پہاڑوں کی چوٹیوں، ان کی گود میں نیلے پانیوں کی برفیلی جھیلوں کی شکل میں دیکھنے کو ملتا ہے، بلندی سے گرنے والی آبشاروں کی شکل میں دیکھنے کو ملتا ہے یا پھر بڑے بڑے بانڈہ جات (چکیل، باکسر، ٹیپ، کُو، دیسان، جانشئی وغیرہ) کی صورت میں دیکھنے کو ملتا ہے۔</p>

<p>سوات کی پوری وادی سے بھرپور لطف اٹھانے کے لیے بلاشبہ ایک زندگی کم ہے۔ مشروم جھیل کے کنارے بیٹھ کر مجھے خیال آیا کہ واقعی سوات کے فطری حُسن سے محظوظ ہونے کے لیے دوسری بار دنیا میں آنا پڑے گا۔ جھیل کنارے بیٹھے بیٹھے مجھے کشور کمار کی آواز میں گایا ہوا یہ مشہور نغمہ یاد آیا اور گنگنایا بھی کہ</p>

<p><strong>تیرا ساتھ ہے کتنا پیارا</strong></p>

<p><strong>کم لگتا ہے جیون سارا</strong></p>

<p><strong>تیرے ملن کی لگن میں</strong></p>

<p><strong>ہمیں آنا پڑے گا دنیا میں دوبارہ</strong></p>

<h2 id='612638e89482b'>جھیل کا نام 'مشروم' کیسے پڑا؟</h2>

<p>جھیل کنارے بیٹھے مجھے سب سے پہلے خیال یہ آیا کہ اس کا نام 'مشروم' ہی کیوں پڑا؟ حالانکہ اس کا پرانا نام 'بلی ڈنڈہ' یعنی 'بَلی جھیل' ہے۔ گوگل میپ پر تلاشیں تو بَلی نامی کوئی جھیل ہاتھ نہیں آتی۔ شاہی باغ میں بھی کھوکھے اور ریسٹورنٹ والے مقامی لوگ اسے 'مشروم' پکارتے ہیں۔ انہی کے بقول ہمارے بڑے اسے 'بَلی' کے نام سے پکارتے تھے۔ </p>

<p>مقامی لوگوں کے مطابق بہار کے موسم میں جیسے ہی جھیل کے آس پاس برف پگھل جاتی ہے، تو انواع و اقسام کی خود رُو کھمبیاں (Mushrooms) اُگ آتی ہیں۔ مقامی لوگ انہیں اکٹھا کرکے شہر میں مہنگے داموں فروخت بھی کرتے ہیں۔ انہیں مختلف ادویات بنانے میں استعمال کیا جاتا ہے۔ مذکورہ انواع و اقسام کی کھمبیوں کی وجہ سے جھیل کا نام بھی 'مشروم' (Mushroom) پڑگیا۔</p>

<h2 id='612638e89489c'>جھیل تک کیسے جایا جائے؟</h2>

<p>سوات کے مرکزی شہر مینگورہ سے کالام تک سڑک پکی کردی گئی ہے۔ 96 کلومیٹر کا یہ راستہ اگر رش زیادہ نہ ہو، تو ساڑھے 3 گھنٹے میں باآسانی طے کیا جاسکتا ہے۔ </p>

<p>کالام سے آگے اُتروڑ تک 17 کلومیٹر کی سڑک کچی ہے، جہاں تک عام گاڑی کی مدد سے باآسانی رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ اُتروڑ سے آگے کا راستہ (تقریباً 11 کلومیٹر) نہ صرف کچا ہے بلکہ پُرخطر بھی ہے۔ بہتر یہی ہے کہ اُتروڑ سے شاہی باغ تک فور بائے فور گاڑی کرائے پر حاصل کی جائے۔ گوکہ اب جبہ (بیس کیمپ) تک کچی سڑک کا اہتمام ہوچکا ہے اور گاڑی وہاں تک جایا کرتی ہے، مگر بہتر یہی ہے کہ شاہی باغ سے جبہ تک پیدل سفر کیا جائے۔ یہ ایک طرح سے 3 یا ساڑھے 3 گھنٹوں پر مشتمل ہر لحاظ سے ایک بہترین ہائیک ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b8835054ac.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/08/611b8835054ac.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/08/611b8835054ac.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b8835054ac.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="جبہ کے لیے سفر شروع ہوا چاہتا ہے" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">جبہ کے لیے سفر شروع ہوا چاہتا ہے</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b8831d8a1a.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/08/611b8831d8a1a.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/08/611b8831d8a1a.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b8831d8a1a.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="جبہ، جو مشروم جھیل کے لیے ایک طرح کا بیس کیمپ ہے" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">جبہ، جو مشروم جھیل کے لیے ایک طرح کا بیس کیمپ ہے</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b8833b9c5f.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/08/611b8833b9c5f.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/08/611b8833b9c5f.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b8833b9c5f.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="مشروم جھیل کے لیے سفر کا آغاز" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">مشروم جھیل کے لیے سفر کا آغاز</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>مشروم جھیل کے لیے 'جبہ' کو بیس کیمپ تصور کرلیں۔ یہ خود ایک بہت ہی پیاری جگہ ہے جہاں شرقاً غرباً پہاڑی سلسلے ہیں اور ان کے درمیان مشروم جھیل سے نکلنے والے پانی کی بل کھاتی ندی ہے۔ جبہ میں خیمے لگانے کے لیے ایک سے ایک بہتر جگہ مل سکتی ہے۔ رات کو پُرسکون خاموشی، اگست جیسے گرم مہینے میں آگ تاپنے کا عمل اور نیند نہ آتے سمے اختر شماری (تارے گننا) گویا سونے پر سہاگا کے مصداق ہیں۔</p>

<p>اگلی صبح تازہ دم جھیل تک پیدل سفر شروع ہوتا ہے۔ اسے ایک صبر آزما مرحلہ مان لیں۔ چٹانوں سے سرکنے والے بڑے بڑے پتھر (Boulders) سب سے پہلے راستہ روکے کھڑے نظر آتے ہیں۔ ان سے آگے کھلے میدان شروع ہوتے ہیں جو مویشیوں کی چراہ گاہ ہیں۔ ان کے درمیان نیلے پانی کی بل کھاتی ندی اور خود رو رنگ برنگے پھول ایک الگ سماں باندھتے ہیں۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b883640ec0.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/08/611b883640ec0.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/08/611b883640ec0.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b883640ec0.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="راستے میں بل کھاتی ندی سحر طاری کرنے کے لیے کافی ہے" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">راستے میں بل کھاتی ندی سحر طاری کرنے کے لیے کافی ہے</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b8833e689b.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/08/611b8833e689b.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/08/611b8833e689b.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b8833e689b.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="جگہ جگہ ایسے خود رو پھول لہلہاتے کھڑے دکھائی دیتے ہیں" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">جگہ جگہ ایسے خود رو پھول لہلہاتے کھڑے دکھائی دیتے ہیں</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>کھلے میدانوں میں 2 گھنٹے کی پیدل مسافت طے کرنے کے بعد ایک آبشار دیکھنے کو ملتی ہے، جو سیدھی مشروم جھیل سے نکل کر نیچے میدان میں گرتی ہے۔ آبشار سے آدھے گھنٹے کی مسافت پر جھیل کے لیے دیوقامت پہاڑ پر چڑھائی کا عمل شروع ہوجاتا ہے۔</p>

<h2 id='612638e8948c1'>جھیل تک پیدل جانے والا راستہ کیسا ہے؟</h2>

<p>چڑھائی کا عمل شروع کرنے سے پہلے پانی کی بوتل بھر لی جائے تو بہتر ہے کیونکہ آگے پورے راستے میں پانی کا نام و نشان دکھائی نہیں دیتا۔ تقریباً ایک گھنٹہ چڑھائی کا عمل پورا کرنے کے بعد قبلہ رُخ 90 درجے کے زاویے سے مُڑنا پڑتا ہے، جہاں سے نیچے دکھائی دینے والی گہری کھائی اچھے خاصے جی دار بندے کو بھی چکرا کے رکھ دیتی ہے۔ </p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b88366f124.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/08/611b88366f124.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/08/611b88366f124.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b88366f124.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="90 درجے پر موڑ مڑنے کے بعد کا پڑاؤ" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">90 درجے پر موڑ مڑنے کے بعد کا پڑاؤ</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b8836484be.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/08/611b8836484be.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/08/611b8836484be.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b8836484be.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="پہاڑ کی چوٹی سے نظر آنے والی ایک چھوٹی سی جھیل" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">پہاڑ کی چوٹی سے نظر آنے والی ایک چھوٹی سی جھیل</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>تقریباً آدھا گھنٹہ پھونک پھونک کر قدم رکھنے کے بعد پہاڑ کے اوپر ایک چھوٹا سا مرغزار دیکھنے کو ملتا ہے۔ مرغزار سے جھیل کے آثار دکھائی دیتے ہیں۔ </p>

<p>پہاڑی سلسلے کی چوٹیاں، گلیشیئر اور آبشار، یہ وہ نشانیاں ہیں جو دُور سے مشروم جھیل کی موجودگی کا احساس دلاتی ہیں۔ اس مقام سے ٹھیک ڈھائی یا 3 گھنٹے کی صبر آزما مسافت طے کرنے کے بعد جیسے ہی جھیل پر پہلی نظر پڑتی ہے تو آدمی بے ساختہ کشور کمار کی آواز میں گایا ہوا نغمہ گنگنانے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ 'تیرا ساتھ ہے کتنا پیارا۔۔۔!'</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b883576843.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/08/611b883576843.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/08/611b883576843.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b883576843.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="مشروم جھیل کا منظر" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">مشروم جھیل کا منظر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b953659d31.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/08/611b953659d31.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/08/611b953659d31.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b953659d31.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="مشروم جھیل میں ہوا کے دباؤ سے بننے والی لہریں" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">مشروم جھیل میں ہوا کے دباؤ سے بننے والی لہریں</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b883615807.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/08/611b883615807.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/08/611b883615807.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b883615807.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="جھیل کنارے مراقبہ جاری ہے" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">جھیل کنارے مراقبہ جاری ہے</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<h2 id='612638e8948e4'>مشروم جھیل کی انفرادیت کیا ہے؟</h2>

<p>مشروم جھیل، سطحِ سمندر سے 13 ہزار 500 فٹ کی بلندی پر واقع ہے۔ فلک بوس پہاڑوں کی چوٹیوں کے درمیان زمرد رنگ کے پانی کی اس جھیل کا شمار بلاشبہ پاکستان کی اونچی، بڑی اور خوبصورت جھیلوں میں ہوتا ہے۔ چوٹیوں پر پڑی برف پگھل کر جھیل کا پیٹ بھرتی ہے۔ </p>

<p>جھیل سے نکلنے والا پانی، آبشار کی شکل میں گِر کر ندی کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور آگے دریائے سوات میں گِر کر اپنی شناخت کھو بیٹھتا ہے۔ مئی کے وسط سے ستمبر کے وسط تک کا دورانیہ جھیل کی سیر کے لیے آئیڈیل ہے۔ باقی مہینوں میں یہ برف سے اَٹی رہتی ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b8835e1d9b.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/08/611b8835e1d9b.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/08/611b8835e1d9b.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b8835e1d9b.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="مقامی ٹریکر، مشروم جھیل کے پُرسکون ماحول کا لطف اٹھا رہا ہے" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">مقامی ٹریکر، مشروم جھیل کے پُرسکون ماحول کا لطف اٹھا رہا ہے</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b883526414.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/08/611b883526414.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/08/611b883526414.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/08/611b883526414.jpg 1800w' sizes='(min-width: 992px)  1800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="جھیل کا دلفریب نظارہ ہو، خوبصورت خود رو پھول ہوں اور سکون ہو، تو اور کیا چاہیے!" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">جھیل کا دلفریب نظارہ ہو، خوبصورت خود رو پھول ہوں اور سکون ہو، تو اور کیا چاہیے!</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<h2 id='612638e894928'>جھیل کی سیر کرنے والوں کے لیے چند ہدایات</h2>

<ul>
<li>جھیل کی سیر کرنے والوں کے لیے سب سے ضروری ہدایت یہ ہے کہ جنہیں ٹریکنگ
کا تجربہ نہ ہو، وہ جانے کی زحمت بالکل نہ کریں۔</li>
<li>ٹریک سوٹ، بہترین ٹریکنگ شوز، اونی ٹوپی، دستانے، برساتی، ہائیکنگ اسٹک،
سن گلاسز، مضبوط رسّی اور خیمے کے ساتھ ساتھ پیاز بھی رکھ لی جائے، کیونکہ وہ سطحِ سمندر سے 12 یا 13 ہزار فٹ کی بلندی پر
آکسیجن کی کمی سے جی متلاتے وقت سونگھنے یا چکھنے کے کام آتی ہے۔ یوں
طبیعت بحال رہتی ہے۔</li>
<li>گہری کھائی والا موڑ کاٹتے وقت محتاط رہیں کیونکہ معمولی سی غلطی بھی
جان سے ہاتھ دھونے کے برابر ہے۔</li>
<li>آخری اور سب سے ضروری بات، جھیل جانے والے افراد اُتروڑ، گبرال یا پھر
شاہی باغ سے اپنے ساتھ مقامی گائیڈ کو لے جانا نہ بھولیں۔ یوں آپ کو
احساسِ تحفظ کے ساتھ ساتھ بہترین رہنمائی بھی مل جائے گی۔</li>
</ul>

<p>مجھے مشروم جھیل کا نظارہ کرتے وقت کشور کمار کے نغمے کے ساتھ انگریزی کی یہ ضرب المثل بھی یاد آئی کہ The best view comes after the hardest climb یعنی کٹھن ترین چڑھائی کے بعد ہی نظارہ ملتا ہے۔</p>

<hr />

<figure class='media  sm:w-1/6  w-full  media--right    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2019/05/5cd25f4691d19.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2019/05/5cd25f4691d19.jpg 250w, https://i.dawn.com/large/2019/05/5cd25f4691d19.jpg 250w, https://i.dawn.com/primary/2019/05/5cd25f4691d19.jpg 250w' sizes='(min-width: 992px)  250px, (min-width: 768px)  250px,  250px' alt="" /></picture></div>
				
			</figure>
<p>			امجد علی سحاب روزنامہ آزادی اسلام آباد اور باخبر سوات ڈاٹ کام کے ایڈیٹر ہیں۔ اردو کو بطور مضمون پڑھاتے ہیں۔ اس کے ساتھ فری لانس صحافی بھی ہیں۔ نئی دنیائیں کھوجنے کے ساتھ ساتھ تاریخ و تاریخی مقامات میں دلچسپی بھی رکھتے ہیں۔</p>

<hr />
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1166486</guid>
      <pubDate>Wed, 25 Aug 2021 17:34:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (امجد علی سحاب)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/08/611b99d481e82.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1080" width="1800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/08/611b99d481e82.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/08/611b8837723dc.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/08/611b8837723dc.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
