<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 08:25:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 08:25:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لانگ کووڈ کا سامنا کرنے والے مریضوں میں اینٹی باڈیز کی سطح زیادہ ہوتی ہے، تحقیق
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1166864/</link>
      <description>&lt;p&gt;جن افراد کو کورونا وائرس کی سنگین شدت یا طویل المعیاد علامات (لانگ کووڈ) کا سامنا ہوتا ہے ان میں اینٹی باڈیز کی سطح بہت زیادہ ہوتی ہے جو مستقبل میں بیماری سے بچانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی &lt;a href="https://in.style.yahoo.com/people-prolonged-severe-covid-19-080036033.html"&gt;&lt;strong&gt;تحقیق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں سامنے آئی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ریوٹگرز یونیورسٹی کی اس تحقیق میں 548 ہیلتھ ورکرز اور 248 دیگر افراد کا جائزہ کورونا کی وبا کے آغاز سے اب تک لیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مجموعی طور پر 831 میں سے 93 افراد یا 11 فیصد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی یا ان میں تحقیق کے آغاز سے 6 ماہ کے اندر اینٹی باڈیز بن گئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان میں سے 24 میں علامات کی شدت سنگین تھی جبکہ 14 میں علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک تہائی مریضوں میں تھکاوٹ، سانس لینے میں دشواری اور سونگھنے یا چکھنے کی حسوں سے محرومی جیسی علامات دیکھی گئیں جو  کم ازکم ایک ماہ تک برقرار رہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;10 فیصد مریضوں میں علامات کا دورانیہ کم از کم 4 ماہ تک برقرار رہا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کووڈ سے متاثر زیادہ تر افراد میں اینٹی باڈیز بن گئیں، اینٹی باڈیز کی سطح کا انحصار علامات کی شدت پر رہا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سنگین علامات کا سامنا کرنے والے 96  فیصد مریضوں میں آئی جی جی اینٹی باڈیز دریافت ہوئیں جبکہ معمولی سے معتدل علامات کا سامنا کرنے والوں میں یہ شرح 89 فیصد اور بغیر علامات والے مریضوں میں 79 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں بتایا گیا کہ دماغی تبدیلیاں  بشمول دماغی دھند، یادداشت یا  بینائی کے مسائل متاثرہ افراد میں  مختلف تھے مگر یہ علامات کئی ماہ تک برقرار رہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کے مطابق جن افراد میں علامات کا تسلسل وقت کے ساتھ برقرار رہا ان میں  اینٹی باڈیز کی سطح بھی وقت کے ساتھ بڑھتی چلی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اینٹی باڈی کی سطح میں وقت کے ساتھ کمی معمول کا حصہ ہوتی ہے، مگر یہ اینٹی باڈیز جسم  کو دوبارہ بیماری سے بچانے میں طویل المعیاد تحفظ فراہم کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق کے لیے رضاکاروں کی خدمات ان میں کووڈ کی تشخیص سے قبل حاصل کی گئی تھیں، بیمار ہونے پر ان کی بیماری کی شدت کی جانچ  پڑتال کی گئی جس سے وقت کے ساتھ اینٹی باڈی  ردمعل کو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھنے میں مدد ملی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے دی جرنل آف انفیکشیز ڈیزیز میں شائع ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جن افراد کو کورونا وائرس کی سنگین شدت یا طویل المعیاد علامات (لانگ کووڈ) کا سامنا ہوتا ہے ان میں اینٹی باڈیز کی سطح بہت زیادہ ہوتی ہے جو مستقبل میں بیماری سے بچانے میں مدد فراہم کرتی ہے۔</p>

<p>یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی <a href="https://in.style.yahoo.com/people-prolonged-severe-covid-19-080036033.html"><strong>تحقیق</strong></a> میں سامنے آئی۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ریوٹگرز یونیورسٹی کی اس تحقیق میں 548 ہیلتھ ورکرز اور 248 دیگر افراد کا جائزہ کورونا کی وبا کے آغاز سے اب تک لیا گیا۔</p>

<p>مجموعی طور پر 831 میں سے 93 افراد یا 11 فیصد میں کورونا وائرس کی تشخیص ہوئی یا ان میں تحقیق کے آغاز سے 6 ماہ کے اندر اینٹی باڈیز بن گئیں۔</p>

<p>ان میں سے 24 میں علامات کی شدت سنگین تھی جبکہ 14 میں علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔</p>

<p>ایک تہائی مریضوں میں تھکاوٹ، سانس لینے میں دشواری اور سونگھنے یا چکھنے کی حسوں سے محرومی جیسی علامات دیکھی گئیں جو  کم ازکم ایک ماہ تک برقرار رہیں۔</p>

<p>10 فیصد مریضوں میں علامات کا دورانیہ کم از کم 4 ماہ تک برقرار رہا۔</p>

<p>کووڈ سے متاثر زیادہ تر افراد میں اینٹی باڈیز بن گئیں، اینٹی باڈیز کی سطح کا انحصار علامات کی شدت پر رہا۔</p>

<p>سنگین علامات کا سامنا کرنے والے 96  فیصد مریضوں میں آئی جی جی اینٹی باڈیز دریافت ہوئیں جبکہ معمولی سے معتدل علامات کا سامنا کرنے والوں میں یہ شرح 89 فیصد اور بغیر علامات والے مریضوں میں 79 فیصد تھی۔</p>

<p>تحقیق میں بتایا گیا کہ دماغی تبدیلیاں  بشمول دماغی دھند، یادداشت یا  بینائی کے مسائل متاثرہ افراد میں  مختلف تھے مگر یہ علامات کئی ماہ تک برقرار رہیں۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>محققین کے مطابق جن افراد میں علامات کا تسلسل وقت کے ساتھ برقرار رہا ان میں  اینٹی باڈیز کی سطح بھی وقت کے ساتھ بڑھتی چلی گئی۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ اینٹی باڈی کی سطح میں وقت کے ساتھ کمی معمول کا حصہ ہوتی ہے، مگر یہ اینٹی باڈیز جسم  کو دوبارہ بیماری سے بچانے میں طویل المعیاد تحفظ فراہم کرتی ہیں۔</p>

<p>تحقیق کے لیے رضاکاروں کی خدمات ان میں کووڈ کی تشخیص سے قبل حاصل کی گئی تھیں، بیمار ہونے پر ان کی بیماری کی شدت کی جانچ  پڑتال کی گئی جس سے وقت کے ساتھ اینٹی باڈی  ردمعل کو زیادہ بہتر طریقے سے سمجھنے میں مدد ملی۔</p>

<p>اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے دی جرنل آف انفیکشیز ڈیزیز میں شائع ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1166864</guid>
      <pubDate>Mon, 23 Aug 2021 23:58:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/08/6123eeb8e6b05.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/08/6123eeb8e6b05.jpg"/>
        <media:title>یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
