<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 22:47:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 22:47:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>طالبان کے سپریم رہنما جلد عوام کے سامنے آئیں گے، ترجمان
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1167294/</link>
      <description>&lt;p&gt;سخت گیر اسلامی گروپ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ طالبان کے سپریم رہنما ہیبت اللہ اخوندزادہ، جو کبھی عوام کے سامنے ظاہر نہیں ہوئے اور نہ ہی ان کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی جانتا ہے، وہ افغانستان میں ہی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1643402/taliban-supreme-leader-is-in-afghanistan-says-spokesman"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ 'وہ قندھار میں موجود ہیں وہ ابتدا سے ہی یہاں مقیم ہیں'۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب نائب ترجمان بلال کریمی نے کہا کہ 'وہ  جلد عوام کے سامنے آئیں گے'۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1166908"&gt;شیخ الحدیث ہیبت اللہ زندہ ہیں، آنے والے نظام کا حصہ ہوں گے، ترجمان طالبان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;افغان طالبان کے درمیان امیر المومنین کہلائے جانے والے ہیبت اللہ اخوندزادہ 2016 میں طالبان کی سربراہی کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہیبت اللہ اخوندزادہ کے روز مرہ کے معاملات کے بارے میں بہت کم ہی لوگ جانتے ہیں، عوامی سطح پر ان کا کردار سالانہ اسلامی تہواروں پیغام جاری کرنے تک محدود ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم طالبان کے اگست کے وسط میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے انہوں نے اب تک کوئی بیان جاری نہیں کیا، طالبان کی ایک طویل تاریخ ہے کہ وہ اپنے سر کردہ رہنماؤں کو عوامی نظروں سے اوجھل رکھتے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1037631"&gt;مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ کون ہیں؟&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گروپ کے خفیہ بانی ملا محمد عمر تھے، جو اپنی تنہائی پسندی کے حوالے سے بدنام تھے اور نوے کی دہائی میں جب گروپ اقتدار میں تھا انہوں نے کابل کا شاذ و نادر ہی سفر کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے بجائے ملا عمر بڑی حد تک نظروں سے اوجھل قندھار میں واقع اپنے کمپاونڈ میں مقیم رہے اور ملاقات کے لیے آنے والے وفود سے ملاقات کرنے سے بھی گریزاں تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;افغانستان کا صوبہ قندھار جنگجو تحریک کا آبائی علاقہ اور نوے کی دہائی میں طالبان کی سخت اسلامی حکومت کا گڑھ تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سخت گیر اسلامی گروپ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ طالبان کے سپریم رہنما ہیبت اللہ اخوندزادہ، جو کبھی عوام کے سامنے ظاہر نہیں ہوئے اور نہ ہی ان کے ٹھکانے کے بارے میں کوئی جانتا ہے، وہ افغانستان میں ہی ہیں۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1643402/taliban-supreme-leader-is-in-afghanistan-says-spokesman">رپورٹ</a></strong> کے مطابق ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ 'وہ قندھار میں موجود ہیں وہ ابتدا سے ہی یہاں مقیم ہیں'۔</p>

<p>دوسری جانب نائب ترجمان بلال کریمی نے کہا کہ 'وہ  جلد عوام کے سامنے آئیں گے'۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1166908">شیخ الحدیث ہیبت اللہ زندہ ہیں، آنے والے نظام کا حصہ ہوں گے، ترجمان طالبان</a></strong></p>

<p>افغان طالبان کے درمیان امیر المومنین کہلائے جانے والے ہیبت اللہ اخوندزادہ 2016 میں طالبان کی سربراہی کررہے ہیں۔</p>

<p>ہیبت اللہ اخوندزادہ کے روز مرہ کے معاملات کے بارے میں بہت کم ہی لوگ جانتے ہیں، عوامی سطح پر ان کا کردار سالانہ اسلامی تہواروں پیغام جاری کرنے تک محدود ہے۔ </p>

<p>تاہم طالبان کے اگست کے وسط میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے انہوں نے اب تک کوئی بیان جاری نہیں کیا، طالبان کی ایک طویل تاریخ ہے کہ وہ اپنے سر کردہ رہنماؤں کو عوامی نظروں سے اوجھل رکھتے ہیں۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1037631">مولوی ہیبت اللہ اخونزادہ کون ہیں؟</a></strong></p>

<p>گروپ کے خفیہ بانی ملا محمد عمر تھے، جو اپنی تنہائی پسندی کے حوالے سے بدنام تھے اور نوے کی دہائی میں جب گروپ اقتدار میں تھا انہوں نے کابل کا شاذ و نادر ہی سفر کیا تھا۔</p>

<p>اس کے بجائے ملا عمر بڑی حد تک نظروں سے اوجھل قندھار میں واقع اپنے کمپاونڈ میں مقیم رہے اور ملاقات کے لیے آنے والے وفود سے ملاقات کرنے سے بھی گریزاں تھے۔</p>

<p>افغانستان کا صوبہ قندھار جنگجو تحریک کا آبائی علاقہ اور نوے کی دہائی میں طالبان کی سخت اسلامی حکومت کا گڑھ تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1167294</guid>
      <pubDate>Mon, 30 Aug 2021 14:16:57 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/08/612c7d25848c0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="450" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/08/612c7d25848c0.jpg"/>
        <media:title>طالبان کی ایک طویل تاریخ ہے کہ وہ  اپنے سر کردہ رہنماؤں کو نظروں سے اوجھل رکھتے ہیں— فائل فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
