<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 13:15:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 13:15:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کووڈ سے بچاؤ کیلئے ویکسینیشن کا ایک اور فائدہ سامنے آگیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1167582/</link>
      <description>&lt;p&gt;ویکسین کی 2 خوراکیں استعمال کرنے والے افراد کو اگر بریک تھرو انفیکشن (ویکسنیشن کے بعد بیماری کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح) کا سامنا ہوتا ہے تو ان میں لانگ کووڈ کا امکان 49 فیصد تک کم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک نئی طبی &lt;a href="https://www.sciencedaily.com/releases/2021/09/210901191407.htm"&gt;&lt;strong&gt;تحقیق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں سامنے آئی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کنگز کالج لندن کی اس تحقیق کے لیے ماہرین نے یوکے زوئی کووڈ سیمپٹم اسٹڈ ایپ کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جو 8 دسمبر 2020 سے 4 جولائی 2021 تک جمع کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ لاکھوں افراد کا ڈیٹا تھا جس میں سے 12 لاکھ 40 ہزار 9 افراد نے ویکسین کی ایک خوراک استعمال کی تھی جبکہ 9 لاکھ 71 ہزار 504 نے 2 خوراکیں استعمال کی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے مختلف عناصر بشمول عمر، جسمانی یا ذہنی تنزلی اور دیگر کا موازنہ ویکسینیشن کے بعد ہونے والی  بیماری سے کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اگر ویکسین کی 2 خوراکوں کے بعد بھی کوئی بدقسمتی سے کووڈ کا شکارہوجاتا ہے تو بھی اس میں طویل المعیاد علامات کا خطرہ ویکسینیشن نہ کرانے والے مریضوں کے مقابلے میں 49 فیصد کم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح ویکسینیشن کے بعد بیماری پر ہسپتال میں داخلے کا خطرہ 73 فیصد تک کم ہوتا ہے اور بیماری کی شدید علامات کا خطرہ 31 فیصد تک کم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان افراد میں عام علامات ویکسین استعمال نہ کرنے والے افراد سے ملتی جلتی ہے جن میں سونگھنے کی حس سے محرومی، کھانسی، بخار، سردرد اور تھکاوٹ قابل ذکر ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان تمام علامات کی  شدت معمولی  ہوتی ہے اور ویکسینیشن والے افراد کی جانب سے ان کو رپورٹ کرنے کی شرح بھی کم ہوتی ہے  اور بیماری کے پہلے ہفتے میں متعدد علامات کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بریک تھرو انفیکشن کا سامنا کرنے والے افراد میں چھینکیں واحد علامت تھی جس کو زیادہ تر مریضوں نے رپورٹ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ غریب علاقوں کے رہنے واللے ہوتے ہیں ان میں ویکسین کی ایک خوراک کے بعد بیماری کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے، جبکہ عمر بذات خود خطرہ بڑھانے والا عنصر نہیں، مگر پہلے سے کسی بیماری کے شکار افراد میں ویکسینیشن کے بعد کووڈ کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے بتایا کہ لانگ کووڈ کے بوجھ کے حوالے سے اچھی خبر یہ ہے کہ ویکسینیشن مکمل کرانے پر کووڈ سے متاثر ہونے اور بدقسمتی سے بیمار ہونے پر طویل المعیاد علامات کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر کمزور اور بزرگ افراد میں یہ خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے اور انہیں  ترجیحی بنیادوں پر ویکسین کی دوسری یا بوسٹر ڈوز دی جانے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ویکسینیشن سے لانگ کووڈ کا خطرہ 2 وجوہات کے باعث کم ہوتا ہے، ایک وجہ تو یہ ہے کہ کسی بھی قسم کی علامات کا خطرہ 8 سے 10 گنا کم ہوجاتا ہے، دوسری وجہ یہ ہے کہ بیماری کا سامنا ہونے پر علامات کا دورانیہ بہت کم ہوتا ہے اور شدت بھی معمولی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ ویکسین کی دوسری خوراک کو جلد از جلد لگوالیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے دی لانسیٹ انفیکشیز ڈیزیز میں شائع ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ویکسین کی 2 خوراکیں استعمال کرنے والے افراد کو اگر بریک تھرو انفیکشن (ویکسنیشن کے بعد بیماری کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح) کا سامنا ہوتا ہے تو ان میں لانگ کووڈ کا امکان 49 فیصد تک کم ہوتا ہے۔</p>

<p>یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک نئی طبی <a href="https://www.sciencedaily.com/releases/2021/09/210901191407.htm"><strong>تحقیق</strong></a> میں سامنے آئی۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>کنگز کالج لندن کی اس تحقیق کے لیے ماہرین نے یوکے زوئی کووڈ سیمپٹم اسٹڈ ایپ کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا جو 8 دسمبر 2020 سے 4 جولائی 2021 تک جمع کیا گیا۔</p>

<p>یہ لاکھوں افراد کا ڈیٹا تھا جس میں سے 12 لاکھ 40 ہزار 9 افراد نے ویکسین کی ایک خوراک استعمال کی تھی جبکہ 9 لاکھ 71 ہزار 504 نے 2 خوراکیں استعمال کی تھیں۔</p>

<p>محققین نے مختلف عناصر بشمول عمر، جسمانی یا ذہنی تنزلی اور دیگر کا موازنہ ویکسینیشن کے بعد ہونے والی  بیماری سے کیا گیا۔</p>

<p>تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ اگر ویکسین کی 2 خوراکوں کے بعد بھی کوئی بدقسمتی سے کووڈ کا شکارہوجاتا ہے تو بھی اس میں طویل المعیاد علامات کا خطرہ ویکسینیشن نہ کرانے والے مریضوں کے مقابلے میں 49 فیصد کم ہوتا ہے۔</p>

<p>اسی طرح ویکسینیشن کے بعد بیماری پر ہسپتال میں داخلے کا خطرہ 73 فیصد تک کم ہوتا ہے اور بیماری کی شدید علامات کا خطرہ 31 فیصد تک کم ہوتا ہے۔</p>

<p>ان افراد میں عام علامات ویکسین استعمال نہ کرنے والے افراد سے ملتی جلتی ہے جن میں سونگھنے کی حس سے محرومی، کھانسی، بخار، سردرد اور تھکاوٹ قابل ذکر ہیں۔</p>

<p>ان تمام علامات کی  شدت معمولی  ہوتی ہے اور ویکسینیشن والے افراد کی جانب سے ان کو رپورٹ کرنے کی شرح بھی کم ہوتی ہے  اور بیماری کے پہلے ہفتے میں متعدد علامات کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔</p>

<p>بریک تھرو انفیکشن کا سامنا کرنے والے افراد میں چھینکیں واحد علامت تھی جس کو زیادہ تر مریضوں نے رپورٹ کیا۔</p>

<p>تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جو لوگ غریب علاقوں کے رہنے واللے ہوتے ہیں ان میں ویکسین کی ایک خوراک کے بعد بیماری کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے، جبکہ عمر بذات خود خطرہ بڑھانے والا عنصر نہیں، مگر پہلے سے کسی بیماری کے شکار افراد میں ویکسینیشن کے بعد کووڈ کا خطرہ زیادہ ہوسکتا ہے۔</p>

<p>محققین نے بتایا کہ لانگ کووڈ کے بوجھ کے حوالے سے اچھی خبر یہ ہے کہ ویکسینیشن مکمل کرانے پر کووڈ سے متاثر ہونے اور بدقسمتی سے بیمار ہونے پر طویل المعیاد علامات کا خطرہ نمایاں حد تک کم ہوجاتا ہے۔</p>

<p>مگر کمزور اور بزرگ افراد میں یہ خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے اور انہیں  ترجیحی بنیادوں پر ویکسین کی دوسری یا بوسٹر ڈوز دی جانے کی ضرورت ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ویکسینیشن سے لانگ کووڈ کا خطرہ 2 وجوہات کے باعث کم ہوتا ہے، ایک وجہ تو یہ ہے کہ کسی بھی قسم کی علامات کا خطرہ 8 سے 10 گنا کم ہوجاتا ہے، دوسری وجہ یہ ہے کہ بیماری کا سامنا ہونے پر علامات کا دورانیہ بہت کم ہوتا ہے اور شدت بھی معمولی ہوتی ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ہم لوگوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ ویکسین کی دوسری خوراک کو جلد از جلد لگوالیں۔</p>

<p>اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے دی لانسیٹ انفیکشیز ڈیزیز میں شائع ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1167582</guid>
      <pubDate>Thu, 02 Sep 2021 22:45:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/09/61310b89a6a7d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/09/61310b89a6a7d.jpg"/>
        <media:title>یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں دریافت کی گئی — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
