<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Middle East</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 13:23:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 13:23:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی عرب میں پہلے خواتین فوجی دستے کی تربیت مکمل
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1167639/</link>
      <description>&lt;p&gt;اہم ترین اسلامی ملک سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین فوجیوں کے دستے نے تربیت مکمل کرکے پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنا شروع کردیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سعودی عرب کی فوج میں خواتین کو 2019 میں بھرتی کرنے کا اعلان کیا گیا تھا اور رواں برس 'فیمیل سولجر' کے پہلے دستے کی ٹریننگ کا آغاز کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سعودی عرب کے وزارت دفاع کی جانب سے خواتین فوجیوں کے پہلے دستے کی تربیت مکمل ہونے کی تقریب کی ویڈیو اور تصاویر جاری کی گئیں، جن میں کیڈٹس کو بھی دکھایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزارت دفاع کے مطابق خواتین فوجیوں کے پہلے دستے نے یکم ستمبر کو اپنی بنیادی اور ابتدائی تربیت مکمل کی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/modgovksa/status/1433114719028748291"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خواتین فوجیوں کی ٹریننگ کا آغاز رواں برس مئی میں شروع ہوا تھا اور یکم ستمبر کو ان کی پاسنگ آؤٹ تقریب منعقد کی گئی، جس میں سعودی فوج کے آرمی چیف اور ٹریننگ ونگ کے سربراہ بھی شریک ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پانسگ آؤٹ تقریب میں سعودی فوج کے سربراہ جنرل فیاض الرویلی خصوصی مہمان تھے جب کہ ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ ونگ سربراہ جنرل عادل البلوی بھی تقریب کا حصہ تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1118871"&gt;&lt;strong&gt;سعودی عرب میں فوجی خواتین کا پہلا ونگ کھول دیا گیا&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تربیت مکمل ہونے پر تمام خواتین اہلکاروں کو اسناد فراہم کی گئیں جب کہ ان سے وفاداری کا حلف بھی لیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹریننگ کے دوران منفرد کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی فوجی اہلکاروں کو خصوصی اسناد اور انعامات سے بھی نوازا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/modgovksa/status/1433113347575197702"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ سعودی عرب میں فوجی خواتین کی تربیت اور ان کی رہائش کے لیے رواں برس جنوری میں پہلے ونگ کو کھولا گیا تھا جب کہ اکتوبر 2019 میں تینوں افواج میں خواتین کی بھرتی کی اجازت دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فوج میں خواتین کی بھرتی سے قبل ہی سعودی عرب کی حکومت نے خواتین کو کئی آزادیاں دے دی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/09/6132202f400dc.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/09/6132202f400dc.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/09/6132202f400dc.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/09/6132202f400dc.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="تربیت مکمل ہونے کے بعد خواتین اہلکاروں کو ڈیوٹیوں پر تعینات کردیا گیا&amp;mdash;فوٹو: سعودیہ وزارت دفاع" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;تربیت مکمل ہونے کے بعد خواتین اہلکاروں کو ڈیوٹیوں پر تعینات کردیا گیا—فوٹو: سعودیہ وزارت دفاع&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سعودی حکومت نے 2016 کے بعد خواتین کو آزادیاں دینا شروع کیں اور گزشتہ چند سال میں خواتین کو جہاں ڈرائیونگ کی اجازت دی گئی، وہیں انہیں کسی بھی مرد سرپرست کی اجازت کے بغیر بیرون ملک کا دورہ کرنے کی اجازت بھی دی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سعودی حکومت نے حالیہ چند سال میں خواتین کو غیر محرم مرد کے ساتھ کام کرنے سمیت انہیں اداکاری کرنے کی اجازت بھی دی ہے جب کہ خواتین اب وزارت داخلہ، وزارت خارجہ، سیکیورٹی اور سفارتی عہدوں سمیت دیگر عہدوں پر بھی کام کرتی دکھائی دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/09/613221850776e.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/09/613221850776e.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/09/613221850776e.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/09/613221850776e.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="سعودی عرب کی تینوں افواج میں خواتین کو بھرتی کیا جائے گا1فوٹو: سعودیہ وزارت دفاع" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;سعودی عرب کی تینوں افواج میں خواتین کو بھرتی کیا جائے گا1فوٹو: سعودیہ وزارت دفاع&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اہم ترین اسلامی ملک سعودی عرب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین فوجیوں کے دستے نے تربیت مکمل کرکے پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنا شروع کردیں۔</p>

<p>سعودی عرب کی فوج میں خواتین کو 2019 میں بھرتی کرنے کا اعلان کیا گیا تھا اور رواں برس 'فیمیل سولجر' کے پہلے دستے کی ٹریننگ کا آغاز کیا گیا تھا۔</p>

<p>سعودی عرب کے وزارت دفاع کی جانب سے خواتین فوجیوں کے پہلے دستے کی تربیت مکمل ہونے کی تقریب کی ویڈیو اور تصاویر جاری کی گئیں، جن میں کیڈٹس کو بھی دکھایا گیا۔</p>

<p>وزارت دفاع کے مطابق خواتین فوجیوں کے پہلے دستے نے یکم ستمبر کو اپنی بنیادی اور ابتدائی تربیت مکمل کی۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/modgovksa/status/1433114719028748291"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>خواتین فوجیوں کی ٹریننگ کا آغاز رواں برس مئی میں شروع ہوا تھا اور یکم ستمبر کو ان کی پاسنگ آؤٹ تقریب منعقد کی گئی، جس میں سعودی فوج کے آرمی چیف اور ٹریننگ ونگ کے سربراہ بھی شریک ہوئے۔</p>

<p>پانسگ آؤٹ تقریب میں سعودی فوج کے سربراہ جنرل فیاض الرویلی خصوصی مہمان تھے جب کہ ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ ونگ سربراہ جنرل عادل البلوی بھی تقریب کا حصہ تھے۔</p>

<p>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1118871"><strong>سعودی عرب میں فوجی خواتین کا پہلا ونگ کھول دیا گیا</strong></a></p>

<p>تربیت مکمل ہونے پر تمام خواتین اہلکاروں کو اسناد فراہم کی گئیں جب کہ ان سے وفاداری کا حلف بھی لیا گیا۔</p>

<p>ٹریننگ کے دوران منفرد کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والی فوجی اہلکاروں کو خصوصی اسناد اور انعامات سے بھی نوازا گیا۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/modgovksa/status/1433113347575197702"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>خیال رہے کہ سعودی عرب میں فوجی خواتین کی تربیت اور ان کی رہائش کے لیے رواں برس جنوری میں پہلے ونگ کو کھولا گیا تھا جب کہ اکتوبر 2019 میں تینوں افواج میں خواتین کی بھرتی کی اجازت دی گئی تھی۔</p>

<p>فوج میں خواتین کی بھرتی سے قبل ہی سعودی عرب کی حکومت نے خواتین کو کئی آزادیاں دے دی تھیں۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/09/6132202f400dc.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/09/6132202f400dc.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/09/6132202f400dc.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/09/6132202f400dc.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="تربیت مکمل ہونے کے بعد خواتین اہلکاروں کو ڈیوٹیوں پر تعینات کردیا گیا&mdash;فوٹو: سعودیہ وزارت دفاع" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">تربیت مکمل ہونے کے بعد خواتین اہلکاروں کو ڈیوٹیوں پر تعینات کردیا گیا—فوٹو: سعودیہ وزارت دفاع</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>سعودی حکومت نے 2016 کے بعد خواتین کو آزادیاں دینا شروع کیں اور گزشتہ چند سال میں خواتین کو جہاں ڈرائیونگ کی اجازت دی گئی، وہیں انہیں کسی بھی مرد سرپرست کی اجازت کے بغیر بیرون ملک کا دورہ کرنے کی اجازت بھی دی گئی۔</p>

<p>سعودی حکومت نے حالیہ چند سال میں خواتین کو غیر محرم مرد کے ساتھ کام کرنے سمیت انہیں اداکاری کرنے کی اجازت بھی دی ہے جب کہ خواتین اب وزارت داخلہ، وزارت خارجہ، سیکیورٹی اور سفارتی عہدوں سمیت دیگر عہدوں پر بھی کام کرتی دکھائی دیتی ہیں۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/09/613221850776e.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/09/613221850776e.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/09/613221850776e.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/09/613221850776e.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="سعودی عرب کی تینوں افواج میں خواتین کو بھرتی کیا جائے گا1فوٹو: سعودیہ وزارت دفاع" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">سعودی عرب کی تینوں افواج میں خواتین کو بھرتی کیا جائے گا1فوٹو: سعودیہ وزارت دفاع</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1167639</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Sep 2021 20:02:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/09/6132214b5af5e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/09/6132214b5af5e.jpg?0.47541551637950175"/>
        <media:title>خواتین کی ٹریننگ 14 ہفتوں تک جاری رہی—فوٹو: سعودیہ وزارت دفاع
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
