<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 16:16:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 16:16:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>1965ء کی جنگ پاکستانی سخن وروں کے سنگ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1167668/</link>
      <description>&lt;p&gt;یہ تحریر ابتدائی طور پر 6 ستمبر 2021ء کو شائع ہوئی جسے یومِ دفاع کی مناسبت سے دوبارہ پیش کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;تاریخ کتنے ہی ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جن کا ہونا دنیا کو زیر و زبر کردیتا ہے۔ نفع و نقصان اور خیر و شر کے پیمانے تبدیل ہوجاتے ہیں اور زندگی اپنے آپ کو ایک نئے روپ میں تشکیل دیتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نئے خدوخال صرف تاریخ کے دھارے کو موڑتے نہیں بلکہ اس کی کیفیت میں افراد اور قوم ہمیشہ غرقاب رہتے ہیں۔ اس کے بعد کی دنیا خواہ کیسی ہی کیوں نہ ہو گزرے ہوئے انقلاب کا ہر لمحہ لوگوں کی زندگی کے محسوسات میں موجود رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1965ء کی 17 روزہ پاک بھارت جنگ بھی کچھ ایسی ہی کیفیت لیے ہوئے ہے۔ یہ واقعہ ملکِ پاکستان اور ملتِ اسلامیہ کی تاریخ میں ناقابلِ فراموش حیثیت سے ابھرا اور اہلِ پاکستان کے دل میں اپنی چھاپ چھوڑ گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ جنگ پاکستان کے لیے ایک کڑی آزمائش تھی۔ یوں سمجھ لیں کہ ایک کروٹ تھی جس  نے پانی کی شفاف سطح پر بے کرانی پیدا کردی۔ یہ سمندر کی ایک ایسی موج ثابت ہوئی جس میں نالہ و شیون اور شور و غوغا ہی نہیں تھا بلکہ اس میں نبضِ قوم کے ڈوبتے اور ابھرتے ہوئے فن کارانہ تخیل کا اظہار بھی تھا۔ اس میں عقیدت و محبت کے جذبات بھی تھے اور ایسے رسیلے گیت بھی جنہوں نے وطن کی فضا سے انسیت کے جذبے کو پروان چڑھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان نغموں میں کہیں قصیدے کی جھلک تھی تو کہیں مرثیے کے عناصر اور کہیں دعاؤں کی مالا جپ کر آنکھوں سے موتیوں کی لڑی پیوستہ ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ نعیم صدیقی صاحب  نے کیا خوبصورت بات کہی کہ:&lt;/p&gt;
&lt;div style= "color: #000000; text-align: center;" markdown="1"&gt;’جس داعیہ کو 1947ء میں آگ اور خون کے طوفان بھی پوری طرح بروئے کار نہ لاسکے وہ داعیہ اور احساس 1965ء میں ایک محیطِ بے کراں بن کر اُمڈا اور خواص و عوام کے ایک ایک فرد پر چھا گیا۔‘&lt;/div&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2016/09/57ce806d90bbb.jpg'  alt='1965ء کی جنگ کے دوران چناب سیکٹر میں ٹینک پیش قدمی کر رہے ہیں &amp;mdash; ڈان فائل فوٹو' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;1965ء کی جنگ کے دوران چناب سیکٹر میں ٹینک پیش قدمی کر رہے ہیں — ڈان فائل فوٹو&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1965ء کی جنگ میں غور طلب بات یہ ہے کہ اس معرکے میں شعرا اور ادبا میں ہر قسم کے نظریات سے وابستہ لوگوں  نے حصہ لیا۔ اس میں ترقی پسند بھی تھے، اسلامی ادب سے تعلق رکھنے والے ادیب بھی اور جدید شاعری کے علم بردار بھی۔ وسیع تر قومی مفاد میں پاکستان کے دفاع کے لیے تمام تر شاعروں نے ایسے نغمے کہے کہ خاموش بستیوں اور سہمے ہوئے دلوں میں بیداری پیدا ہوگئی۔ تمام قوم کے دل میں ان اشعار سے ایک ایسی حرکت پیدا ہوئی، جس نے سونے والوں کو جگایا اور جو تھک گئے تھے انہیں نئی جان بخشی۔ اس کی ایک جھلک ظہیر کاشمیری کی نظم ’آج کا کھیل‘ میں ملاحظہ کرسکتے ہیں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;کج کلاہوں کو زمیں بوس کیا ہے ہم نے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;شہر یاروں سے صدا باج لیا ہے ہم نے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;ظلم کو موت کا پیغام دیا ہے ہم نے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;جب کبھی اُٹھے ہیں ہم جذبۂ بے دار کے ساتھ&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;آج کا کھیل رہے برش تلوار کے ساتھ&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;ہم نے اغیار کے شمشیر و سناں دیکھے ہیں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;ہم نے طاغوت کے انبوہ رواں دیکھے ہیں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;ہم نے باطل سے سبھی لشکر یاں دیکھے ہیں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;جنگ کی بات شہادت کے طلب گار کے ساتھ&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;آج کا کھیل رہے برش تلوار کے ساتھ&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2021/09/61332f4ac741b.jpg'  alt='ظہیر کاشمیری' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ظہیر کاشمیری&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس جنگ میں پاکستان کی عسکری کامیابیوں اور ناکامیوں کے تجزیے سے قطع نظر اس جنگ کا حاصل اصل میں وہ اتحاد و یکجہتی تھی جو پورے پاکستان میں نمایاں طور پر ہر قلب  نے محسوس کی۔ اتنے بڑے پیمانے پر اتحاد و یکجہتی کو پھر کبھی محسوس نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس دور میں اتنی زیادہ شاعری منظرِ عام پر آئی کہ اس کا احاطہ کرنا آسان نہیں۔ ’جنگ ترنگ‘ اور ’جاگ رہا ہے پاکستان‘ جو 1965ء کی جنگ کے حوالے سے شاعری کے ضخیم مجموعے ہیں، ان کے مرتبین کا ایک محدود اندازہ ہے کہ تقریباً 2 ہزار نظمیں صرف اردو زبان میں لکھی گئی ہیں جبکہ دیگر زبانوں میں کی گئی شاعری الگ ہے لیکن بعدازاں یونیورسٹیوں میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر ہونے والے تحقیقی کام سے پتا چلتا ہے کہ ان کی تعداد اس سے بھی کئی گنا زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/55ed0d18da4af.jpg'  alt='1965ء کی جنگ میں غور طلب بات یہ ہے کہ اس معرکے میں شعرا اور ادبا میں ہر قسم کے نظریات سے وابستہ لوگوں نے حصہ لیا' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;1965ء کی جنگ میں غور طلب بات یہ ہے کہ اس معرکے میں شعرا اور ادبا میں ہر قسم کے نظریات سے وابستہ لوگوں نے حصہ لیا&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شعرا کے شعری مجموعوں، رسائل وجرائد اور اخبارات میں اس حوالے سے کئی نظمیں موجود ہیں۔ 1965ء کے ان 17 دنوں  نے اہلِ پاکستان کو کچھ نہ کچھ سوچنے پر آمادہ ضرور کیا۔ اس سوچ کی کیفیات اور جذبات کو شاعروں  نے بخوبی پیش کیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستانی ادب پہلی دفعہ سچے دل سے ان نظموں میں گویا ہوا تھا۔ یوں بھی رزمیہ شاعری انسانی جذبات اور نفسیات کی عکاس ہوتی ہے۔ خاص کر میدانِ جنگ میں شاعرانہ الفاظ ایک سپاہی کے دل میں موج زن جذبات کو ارفع کردیتے ہیں، وہ اپنے آپ کو بہتر محسوس کرتا اور آنے والے مشکل لمحوں کو طے کرنے میں اسے آسانی میسر آجاتی ہے۔ احسان دانش کی نظم کچھ اسی انداز کی حامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;تم مردِ میداں، تم جانِ لشکر&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;آئین دیں ہیں سب تم کو ازبر&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;احکامِ باری، قولِ پیمبرﷺ&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;اللہ اکبر، اللہ اکبر&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;روحِ شجاعت، فخر وغا ہو&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;جان وفا ہو، صدق و صفا ہو&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;رکھتے ہو دل میں سوزِ پیمبرﷺ&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;اللہ اکبر، اللہ اکبر&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2021/09/61332f4aece4f.jpg'  alt='احسان دانش' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;احسان دانش&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف اردو ادب ہی نہیں بلکہ عالمی ادب کے مطالعے سے بھی یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ دنیا کا تقریباً ہر بڑا ادب رزمیہ عناصر سے متاثر ہوا ہے اور دنیا کے ہر ادب میں شاہکار فن پارے رزمیہ وصف کے حامل ہیں۔ اصل میں رزم اپنے اندر سماجی اور تہذیبی اعتبار سے انسانی جذبات و احساسات کی شعوری کیفیت لیے ہوئے ہے۔ اسی لیے فردوسی کا ’شاہ نامہ‘، والمیکی کی ’رامائن‘، ویاس کی ’مہابھارت‘ یا گوئٹے کی ’فاؤسٹ‘ میں رزم اور بزم دونوں کی جلوہ گری موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1965ء کی جنگ کے 17 دنوں میں فنکاروں  نے ایسی تخلیقات چھوڑیں جو فن کے اعلیٰ ترین معیار پر پہنچتی ہیں۔ بعض مقامات پر ان نظموں اور غزلوں میں شدتِ تاثر اتنا گہرا ہے کہ آج ماہ و سال کی گردشوں  نے ان کی جاذبیت کو کسی طور پر بھی کم نہیں کیا ہے۔ اس موضوع کے تعلق سے لکھی جانے والی یہ نگارشات ہمیں ماضی سے جڑے رہنے اور اعلیٰ ادب کی آبیاری کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ انور حسین انور کی نظم ملاحظہ کریں:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;بڑھے چلو مجاہدو خدا تمہارے ساتھ ہے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;تمہارے عزم بے کراں میں قوم کی حیات ہے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;بلند حوصلے رہیں رکے نہ گردش لہو&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;تمہارے عزم سے ہے پاک سرزمیں کی آبرو&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;عدو نہ سر اُٹھا سکے جھپٹ کے جاؤ چار سو&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;بڑھے چلو مجاہدو خدا تمہارے ساتھ ہے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;تمہارے عزم بے کراں میں قوم کی حیات ہے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگِ ستمبر  نے پاکستانی قوم کو متحد کردیا تھا۔ ایک مدت سے جاری پاک بھارت چپلقش نے پوری پاکستانی ملت کو اپنی سالمیت اور بقا کی جدوجہد کے لیے آمادہ کیا۔ ہر شاعر کی آواز وطن کی سالمیت اور بقا کی دعا میں ڈھل گئی۔ یہ جنگ محض جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت تک محدود نہ رہی بلکہ نظریہ، تاریخ اور سلامتی کی آرزو  نے مل کر پوری قوم کو اس جارحیت کے خلاف صف آرا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان نظموں کا بیانیہ کم و بیش تخیل اور جذبے کے ایک ہی طرز احساس میں ڈوبا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ حبیب سبحانی کی نظم قوم کی آبرو اور محاذِ جنگ پر موجود دلاوروں کی بہادری کو مہمیز دیتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ یہ نظم دشمن کے سر غرور کو توڑتی اور چمن کی آبرو کو خون سے سینچنے کی تلقین کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;بڑھے چلو بڑھے چلو دلاورو! مجاہدو!&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;محاذِ کفر توڑ دو&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;ستم کے رُخ کو موڑ دو&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;سر غرور پھوڑ دو&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;قدم اٹھاؤ تیز تر مسلمو! بہادرو!&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;بڑھے چلو بڑھے چلو دلاورو! مجاہدو!&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی طرح محشر بدایونی  نے ’جاگ رہا ہے پاکستان‘ جیسی باکمال نظم لکھی۔ یہ نظم پیکر ایمان آرزو ہے۔ واقعاتی نوعیت کے باوجود اس میں ایک ایسی لہر موجود ہے جس میں ملتِ پاکستان کی مستقل کیفیات کو ہر لمحے کے لحاظ سے سمو دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;اپنی قوت اپنی جان، لا الا اللہ محمد رسول اللہ&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;ہر پل ہر ساعت ہر آن، جاگ رہا ہے پاکستان&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;نکلے ہیں مردانِ حق، سینوں میں لے کر قرآن&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;ہم سے رہے باطل ہشیار، جاگ رہا ہے پاکستان&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جنگِ ستمبر میں اہلِ سخن  نے گیتوں، غزلوں، نظموں اور رباعیوں کے ذریعے میدانِ جنگ میں پیش کی جانے والی دادِ شجاعت کی کہانی اس طرح پیش کی کہ اس کی گونج بھارت میں بھی سنائی دینے لگی۔ ان نغموں کے تاثر سے بے چین ہوکر آل انڈیا ریڈیو  نے اردو زبان میں ایک خصوصی پروگرام نشر کیا جس میں شاعر شری جگن ناتھ آزاد  نے پاکستانی شعرا کے نام طعن و تشنیع سے بھری ایک نظم کہی جس کے جواب میں رئیس امروہوی نے ’جواب آں غزل‘ نے نام سے عمدہ غزل کہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;آریہ دیس کے ناحق نگرو نغمہ گرو&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;حق کے اعلان سے انکار ہمیں ہے کہ تمہیں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;سامراجی روش و فکر کے پیغام برو&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;ہوس فتنہ و پیکار ہمیں ہے کہ تمہیں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;تم اہنسا کے پجاری ہو خدارا بتلاؤ&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;امن عالم سے بھلا پیار ہمیں ہے کہ تمہیں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ نظمیں قوم کے ایمان، اتفاق، محبت اور بے لوث خدمت کے احساسات کا نفسیاتی بیان ہے۔ اس جنگ کے زمانے میں پاکستانی قوم کے ذہن و دل  نے جو تاثر قائم کیا اس کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک ماہی گیر بچے جمالی نے بھی نظم کہی۔ یہ نظم کسی شعری اصول سے لگا تو نہیں کھاتی لیکن اس میں دنیا کے عظیم ترین ادب کی تمام جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;آج میرے جال میں بہت مچھلیاں ہیں۔ اگرچہ میرے بازو کمزور ہیں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;مگر میں سندھ سے پلا مچھلی بھی پکڑسکتا ہوں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;جب آسمان کے اوپر پاکستان کے سپاہی شور مچاتے ہوئے جاتے ہیں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;تو میرا دل چاہتا ہے کہ  میں انہیں پلا مچھلی بھون کر کھلاؤں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;اور ان کی ٹوپیوں میں نہر کا ٹھنڈا پانی بھر کے پلاؤں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;میں خود بھی سپاہی کی ٹوپی میں پانی بھر کر پینا چاہتا ہوں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;میں  نے اپنی شیشے کے کام والی ٹوپی میں تو سیکڑوں مرتبہ پانی بھر کر پیا ہے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;اے بھٹ شاہ کے سائیں! اگر تیرے حکم سے میری نہر کا پانی کراچی کے سمندر کی طرح آسمان تک پہنچ جائے&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;تو میں اس کی سیڑھی پر چڑھ کر پاکستان کے سپاہی کو بھونی ہوئی پلا مچھلی کھلا سکتا ہوں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1"&gt;نہر کا پانی پلا سکتا ہوں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہر آدمی بڑا شاعر اور ادیب نہیں بن سکتا کیونکہ یہ تو قدرت کی عطا ہے لیکن جذبات سے بھرے ہوئے دل حالتِ جنگ میں ترنگ کی مجذوبانہ کیفیت سے فطری طور پر بھر جاتے ہیں۔ یہ عمل بذات خود ایک معجزہ ہے۔ ایسا ہی طرزِ عمل قوموں کی زندگی میں گونگوں کو گویائی، اندھوں کو راستہ سجھانے اور نیند کے ماتوں کو بیدار کرنے کا کام انجام دیتا ہے۔ اہلِ سخن اور کم سخن دونوں کی جانب سے اس جنگ میں ایسے نغمے پھوٹے کہ جس نے واماندہ دماغ کو اظہار کا سلیقہ بخش دیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یہ تحریر ابتدائی طور پر 6 ستمبر 2021ء کو شائع ہوئی جسے یومِ دفاع کی مناسبت سے دوبارہ پیش کیا جارہا ہے۔</p>
<hr />
<p>تاریخ کتنے ہی ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جن کا ہونا دنیا کو زیر و زبر کردیتا ہے۔ نفع و نقصان اور خیر و شر کے پیمانے تبدیل ہوجاتے ہیں اور زندگی اپنے آپ کو ایک نئے روپ میں تشکیل دیتی ہے۔</p>
<p>یہ نئے خدوخال صرف تاریخ کے دھارے کو موڑتے نہیں بلکہ اس کی کیفیت میں افراد اور قوم ہمیشہ غرقاب رہتے ہیں۔ اس کے بعد کی دنیا خواہ کیسی ہی کیوں نہ ہو گزرے ہوئے انقلاب کا ہر لمحہ لوگوں کی زندگی کے محسوسات میں موجود رہتا ہے۔</p>
<p>1965ء کی 17 روزہ پاک بھارت جنگ بھی کچھ ایسی ہی کیفیت لیے ہوئے ہے۔ یہ واقعہ ملکِ پاکستان اور ملتِ اسلامیہ کی تاریخ میں ناقابلِ فراموش حیثیت سے ابھرا اور اہلِ پاکستان کے دل میں اپنی چھاپ چھوڑ گیا۔</p>
<p>یہ جنگ پاکستان کے لیے ایک کڑی آزمائش تھی۔ یوں سمجھ لیں کہ ایک کروٹ تھی جس  نے پانی کی شفاف سطح پر بے کرانی پیدا کردی۔ یہ سمندر کی ایک ایسی موج ثابت ہوئی جس میں نالہ و شیون اور شور و غوغا ہی نہیں تھا بلکہ اس میں نبضِ قوم کے ڈوبتے اور ابھرتے ہوئے فن کارانہ تخیل کا اظہار بھی تھا۔ اس میں عقیدت و محبت کے جذبات بھی تھے اور ایسے رسیلے گیت بھی جنہوں نے وطن کی فضا سے انسیت کے جذبے کو پروان چڑھایا۔</p>
<p>ان نغموں میں کہیں قصیدے کی جھلک تھی تو کہیں مرثیے کے عناصر اور کہیں دعاؤں کی مالا جپ کر آنکھوں سے موتیوں کی لڑی پیوستہ ہوتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ نعیم صدیقی صاحب  نے کیا خوبصورت بات کہی کہ:</p>
<div style= "color: #000000; text-align: center;" markdown="1">’جس داعیہ کو 1947ء میں آگ اور خون کے طوفان بھی پوری طرح بروئے کار نہ لاسکے وہ داعیہ اور احساس 1965ء میں ایک محیطِ بے کراں بن کر اُمڈا اور خواص و عوام کے ایک ایک فرد پر چھا گیا۔‘</div>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2016/09/57ce806d90bbb.jpg'  alt='1965ء کی جنگ کے دوران چناب سیکٹر میں ٹینک پیش قدمی کر رہے ہیں &mdash; ڈان فائل فوٹو' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>1965ء کی جنگ کے دوران چناب سیکٹر میں ٹینک پیش قدمی کر رہے ہیں — ڈان فائل فوٹو</figcaption>
    </figure></p>
<p>1965ء کی جنگ میں غور طلب بات یہ ہے کہ اس معرکے میں شعرا اور ادبا میں ہر قسم کے نظریات سے وابستہ لوگوں  نے حصہ لیا۔ اس میں ترقی پسند بھی تھے، اسلامی ادب سے تعلق رکھنے والے ادیب بھی اور جدید شاعری کے علم بردار بھی۔ وسیع تر قومی مفاد میں پاکستان کے دفاع کے لیے تمام تر شاعروں نے ایسے نغمے کہے کہ خاموش بستیوں اور سہمے ہوئے دلوں میں بیداری پیدا ہوگئی۔ تمام قوم کے دل میں ان اشعار سے ایک ایسی حرکت پیدا ہوئی، جس نے سونے والوں کو جگایا اور جو تھک گئے تھے انہیں نئی جان بخشی۔ اس کی ایک جھلک ظہیر کاشمیری کی نظم ’آج کا کھیل‘ میں ملاحظہ کرسکتے ہیں:</p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">کج کلاہوں کو زمیں بوس کیا ہے ہم نے</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">شہر یاروں سے صدا باج لیا ہے ہم نے</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">ظلم کو موت کا پیغام دیا ہے ہم نے</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">جب کبھی اُٹھے ہیں ہم جذبۂ بے دار کے ساتھ</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">آج کا کھیل رہے برش تلوار کے ساتھ</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">ہم نے اغیار کے شمشیر و سناں دیکھے ہیں</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">ہم نے طاغوت کے انبوہ رواں دیکھے ہیں</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">ہم نے باطل سے سبھی لشکر یاں دیکھے ہیں</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">جنگ کی بات شہادت کے طلب گار کے ساتھ</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">آج کا کھیل رہے برش تلوار کے ساتھ</div></strong></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2021/09/61332f4ac741b.jpg'  alt='ظہیر کاشمیری' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ظہیر کاشمیری</figcaption>
    </figure></p>
<p>اس جنگ میں پاکستان کی عسکری کامیابیوں اور ناکامیوں کے تجزیے سے قطع نظر اس جنگ کا حاصل اصل میں وہ اتحاد و یکجہتی تھی جو پورے پاکستان میں نمایاں طور پر ہر قلب  نے محسوس کی۔ اتنے بڑے پیمانے پر اتحاد و یکجہتی کو پھر کبھی محسوس نہیں کیا گیا۔</p>
<p>اس دور میں اتنی زیادہ شاعری منظرِ عام پر آئی کہ اس کا احاطہ کرنا آسان نہیں۔ ’جنگ ترنگ‘ اور ’جاگ رہا ہے پاکستان‘ جو 1965ء کی جنگ کے حوالے سے شاعری کے ضخیم مجموعے ہیں، ان کے مرتبین کا ایک محدود اندازہ ہے کہ تقریباً 2 ہزار نظمیں صرف اردو زبان میں لکھی گئی ہیں جبکہ دیگر زبانوں میں کی گئی شاعری الگ ہے لیکن بعدازاں یونیورسٹیوں میں ایم فل اور پی ایچ ڈی کی سطح پر ہونے والے تحقیقی کام سے پتا چلتا ہے کہ ان کی تعداد اس سے بھی کئی گنا زیادہ ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2015/09/55ed0d18da4af.jpg'  alt='1965ء کی جنگ میں غور طلب بات یہ ہے کہ اس معرکے میں شعرا اور ادبا میں ہر قسم کے نظریات سے وابستہ لوگوں نے حصہ لیا' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>1965ء کی جنگ میں غور طلب بات یہ ہے کہ اس معرکے میں شعرا اور ادبا میں ہر قسم کے نظریات سے وابستہ لوگوں نے حصہ لیا</figcaption>
    </figure></p>
<p>شعرا کے شعری مجموعوں، رسائل وجرائد اور اخبارات میں اس حوالے سے کئی نظمیں موجود ہیں۔ 1965ء کے ان 17 دنوں  نے اہلِ پاکستان کو کچھ نہ کچھ سوچنے پر آمادہ ضرور کیا۔ اس سوچ کی کیفیات اور جذبات کو شاعروں  نے بخوبی پیش کیا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ پاکستانی ادب پہلی دفعہ سچے دل سے ان نظموں میں گویا ہوا تھا۔ یوں بھی رزمیہ شاعری انسانی جذبات اور نفسیات کی عکاس ہوتی ہے۔ خاص کر میدانِ جنگ میں شاعرانہ الفاظ ایک سپاہی کے دل میں موج زن جذبات کو ارفع کردیتے ہیں، وہ اپنے آپ کو بہتر محسوس کرتا اور آنے والے مشکل لمحوں کو طے کرنے میں اسے آسانی میسر آجاتی ہے۔ احسان دانش کی نظم کچھ اسی انداز کی حامل ہے۔</p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">تم مردِ میداں، تم جانِ لشکر</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">آئین دیں ہیں سب تم کو ازبر</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">احکامِ باری، قولِ پیمبرﷺ</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">اللہ اکبر، اللہ اکبر</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">روحِ شجاعت، فخر وغا ہو</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">جان وفا ہو، صدق و صفا ہو</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">رکھتے ہو دل میں سوزِ پیمبرﷺ</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">اللہ اکبر، اللہ اکبر</div></strong></p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2021/09/61332f4aece4f.jpg'  alt='احسان دانش' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>احسان دانش</figcaption>
    </figure></p>
<p>صرف اردو ادب ہی نہیں بلکہ عالمی ادب کے مطالعے سے بھی یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ دنیا کا تقریباً ہر بڑا ادب رزمیہ عناصر سے متاثر ہوا ہے اور دنیا کے ہر ادب میں شاہکار فن پارے رزمیہ وصف کے حامل ہیں۔ اصل میں رزم اپنے اندر سماجی اور تہذیبی اعتبار سے انسانی جذبات و احساسات کی شعوری کیفیت لیے ہوئے ہے۔ اسی لیے فردوسی کا ’شاہ نامہ‘، والمیکی کی ’رامائن‘، ویاس کی ’مہابھارت‘ یا گوئٹے کی ’فاؤسٹ‘ میں رزم اور بزم دونوں کی جلوہ گری موجود ہے۔</p>
<p>1965ء کی جنگ کے 17 دنوں میں فنکاروں  نے ایسی تخلیقات چھوڑیں جو فن کے اعلیٰ ترین معیار پر پہنچتی ہیں۔ بعض مقامات پر ان نظموں اور غزلوں میں شدتِ تاثر اتنا گہرا ہے کہ آج ماہ و سال کی گردشوں  نے ان کی جاذبیت کو کسی طور پر بھی کم نہیں کیا ہے۔ اس موضوع کے تعلق سے لکھی جانے والی یہ نگارشات ہمیں ماضی سے جڑے رہنے اور اعلیٰ ادب کی آبیاری کرنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔ انور حسین انور کی نظم ملاحظہ کریں:</p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">بڑھے چلو مجاہدو خدا تمہارے ساتھ ہے</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">تمہارے عزم بے کراں میں قوم کی حیات ہے</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">بلند حوصلے رہیں رکے نہ گردش لہو</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">تمہارے عزم سے ہے پاک سرزمیں کی آبرو</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">عدو نہ سر اُٹھا سکے جھپٹ کے جاؤ چار سو</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">بڑھے چلو مجاہدو خدا تمہارے ساتھ ہے</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">تمہارے عزم بے کراں میں قوم کی حیات ہے</div></strong></p>
<p>جنگِ ستمبر  نے پاکستانی قوم کو متحد کردیا تھا۔ ایک مدت سے جاری پاک بھارت چپلقش نے پوری پاکستانی ملت کو اپنی سالمیت اور بقا کی جدوجہد کے لیے آمادہ کیا۔ ہر شاعر کی آواز وطن کی سالمیت اور بقا کی دعا میں ڈھل گئی۔ یہ جنگ محض جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت تک محدود نہ رہی بلکہ نظریہ، تاریخ اور سلامتی کی آرزو  نے مل کر پوری قوم کو اس جارحیت کے خلاف صف آرا کیا۔</p>
<p>ان نظموں کا بیانیہ کم و بیش تخیل اور جذبے کے ایک ہی طرز احساس میں ڈوبا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ حبیب سبحانی کی نظم قوم کی آبرو اور محاذِ جنگ پر موجود دلاوروں کی بہادری کو مہمیز دیتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔ یہ نظم دشمن کے سر غرور کو توڑتی اور چمن کی آبرو کو خون سے سینچنے کی تلقین کرتی ہے۔</p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">بڑھے چلو بڑھے چلو دلاورو! مجاہدو!</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">محاذِ کفر توڑ دو</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">ستم کے رُخ کو موڑ دو</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">سر غرور پھوڑ دو</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">قدم اٹھاؤ تیز تر مسلمو! بہادرو!</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">بڑھے چلو بڑھے چلو دلاورو! مجاہدو!</div></strong></p>
<p>اسی طرح محشر بدایونی  نے ’جاگ رہا ہے پاکستان‘ جیسی باکمال نظم لکھی۔ یہ نظم پیکر ایمان آرزو ہے۔ واقعاتی نوعیت کے باوجود اس میں ایک ایسی لہر موجود ہے جس میں ملتِ پاکستان کی مستقل کیفیات کو ہر لمحے کے لحاظ سے سمو دیا گیا ہے۔</p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">اپنی قوت اپنی جان، لا الا اللہ محمد رسول اللہ</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">ہر پل ہر ساعت ہر آن، جاگ رہا ہے پاکستان</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">نکلے ہیں مردانِ حق، سینوں میں لے کر قرآن</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">ہم سے رہے باطل ہشیار، جاگ رہا ہے پاکستان</div></strong></p>
<p>جنگِ ستمبر میں اہلِ سخن  نے گیتوں، غزلوں، نظموں اور رباعیوں کے ذریعے میدانِ جنگ میں پیش کی جانے والی دادِ شجاعت کی کہانی اس طرح پیش کی کہ اس کی گونج بھارت میں بھی سنائی دینے لگی۔ ان نغموں کے تاثر سے بے چین ہوکر آل انڈیا ریڈیو  نے اردو زبان میں ایک خصوصی پروگرام نشر کیا جس میں شاعر شری جگن ناتھ آزاد  نے پاکستانی شعرا کے نام طعن و تشنیع سے بھری ایک نظم کہی جس کے جواب میں رئیس امروہوی نے ’جواب آں غزل‘ نے نام سے عمدہ غزل کہی۔</p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">آریہ دیس کے ناحق نگرو نغمہ گرو</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">حق کے اعلان سے انکار ہمیں ہے کہ تمہیں</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">سامراجی روش و فکر کے پیغام برو</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">ہوس فتنہ و پیکار ہمیں ہے کہ تمہیں</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">تم اہنسا کے پجاری ہو خدارا بتلاؤ</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">امن عالم سے بھلا پیار ہمیں ہے کہ تمہیں</div></strong></p>
<p>یہ نظمیں قوم کے ایمان، اتفاق، محبت اور بے لوث خدمت کے احساسات کا نفسیاتی بیان ہے۔ اس جنگ کے زمانے میں پاکستانی قوم کے ذہن و دل  نے جو تاثر قائم کیا اس کی شدت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ ایک ماہی گیر بچے جمالی نے بھی نظم کہی۔ یہ نظم کسی شعری اصول سے لگا تو نہیں کھاتی لیکن اس میں دنیا کے عظیم ترین ادب کی تمام جھلکیاں دکھائی دیتی ہیں۔</p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">آج میرے جال میں بہت مچھلیاں ہیں۔ اگرچہ میرے بازو کمزور ہیں</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">مگر میں سندھ سے پلا مچھلی بھی پکڑسکتا ہوں</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">جب آسمان کے اوپر پاکستان کے سپاہی شور مچاتے ہوئے جاتے ہیں</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">تو میرا دل چاہتا ہے کہ  میں انہیں پلا مچھلی بھون کر کھلاؤں</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">اور ان کی ٹوپیوں میں نہر کا ٹھنڈا پانی بھر کے پلاؤں</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">میں خود بھی سپاہی کی ٹوپی میں پانی بھر کر پینا چاہتا ہوں</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">میں  نے اپنی شیشے کے کام والی ٹوپی میں تو سیکڑوں مرتبہ پانی بھر کر پیا ہے</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">اے بھٹ شاہ کے سائیں! اگر تیرے حکم سے میری نہر کا پانی کراچی کے سمندر کی طرح آسمان تک پہنچ جائے</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">تو میں اس کی سیڑھی پر چڑھ کر پاکستان کے سپاہی کو بھونی ہوئی پلا مچھلی کھلا سکتا ہوں</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #006600; text-align: center;" markdown="1">نہر کا پانی پلا سکتا ہوں</div></strong></p>
<p>ہر آدمی بڑا شاعر اور ادیب نہیں بن سکتا کیونکہ یہ تو قدرت کی عطا ہے لیکن جذبات سے بھرے ہوئے دل حالتِ جنگ میں ترنگ کی مجذوبانہ کیفیت سے فطری طور پر بھر جاتے ہیں۔ یہ عمل بذات خود ایک معجزہ ہے۔ ایسا ہی طرزِ عمل قوموں کی زندگی میں گونگوں کو گویائی، اندھوں کو راستہ سجھانے اور نیند کے ماتوں کو بیدار کرنے کا کام انجام دیتا ہے۔ اہلِ سخن اور کم سخن دونوں کی جانب سے اس جنگ میں ایسے نغمے پھوٹے کہ جس نے واماندہ دماغ کو اظہار کا سلیقہ بخش دیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1167668</guid>
      <pubDate>Wed, 06 Sep 2023 09:37:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر خالد امین)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/09/61333d3798244.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/09/61333d3798244.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
