<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 08:51:12 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 08:51:12 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>15 سالہ لڑکی نے بھائی، والد کے ہمراہ خسر گنگ چوٹی سر کرلی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1167736/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک 15 سالہ لڑکی نے اپنے بھائی اور والد کے ساتھ گلگت بلتستان کے ضلع شگر میں 6 ہزار 400 میٹر بلند خسر گنگ چوٹی سر لی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1644614/shigar-family-scales-khusar-gang-peak"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق 15 سالہ کوہ پیما آمنہ شگری نے اپنے والد شرافت علی خواجہ اور بھائی احمد علی کے ہمراہ 27 اگست کو بغیر کسی اسپانسر (مالی اعانت) کے مہم کا آغاز کیا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بلتستان ٹور آپریٹرز ایسوسی ایشن نے تصدیق کی کہ اہل خانہ نے چوٹی کی بلند ترین سطح پر پاکستانی پرچم لہرایا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1163902"&gt;ماؤنٹ ایورسٹ سَر کرنے والے کم عمر ترین پاکستانی کوہ پیما کے-ٹو کی مہم پر روانہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس کے بعد آمنہ شگر سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون کوہ پیما بن گئیں جنہوں نے یہ چوٹی سر کی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خاندانی ذرائع کے مطابق آمنہ اور ان کے بھائی نے زندگی میں پہلی مرتبہ چوٹی سر کی ہے لیکن ان کے والد ایک تجربہ کار کوہ پیما ہیں جنہوں نے ماضی میں بہت سی چوٹیاں سر کی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آمنہ اور ان کے بھائی نے چوٹی سر کرنے کی تربیت اپنے والد سے حاصل کی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1164991"&gt;شہروز کاشف کے۔ٹو سر کرنے والے سب سے کم عمر کوہ پیما بن گئے&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کامیابی سے چوٹی سر کرنے کے بعد ہفتے کو کوہ پیما خاندان واپس شگر پہنچا جہاں مقامی افراد نے ان کا پرتپاک استقبال کیا 
بعد ازاں انہیں ریلی کی صورت میں ان کے آبائی گاؤں حیدرآباد لے جایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آمنہ شگری نے کہا کہ انہوں نے اس کامیابی کو قومی ہیرو محمد علی سدپارہ کے نام کردیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ان کا دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے-ٹو پر قومی پرچم لہرانے کا ارادہ ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک 15 سالہ لڑکی نے اپنے بھائی اور والد کے ساتھ گلگت بلتستان کے ضلع شگر میں 6 ہزار 400 میٹر بلند خسر گنگ چوٹی سر لی۔ </p>

<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1644614/shigar-family-scales-khusar-gang-peak"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق 15 سالہ کوہ پیما آمنہ شگری نے اپنے والد شرافت علی خواجہ اور بھائی احمد علی کے ہمراہ 27 اگست کو بغیر کسی اسپانسر (مالی اعانت) کے مہم کا آغاز کیا تھا۔ </p>

<p>بلتستان ٹور آپریٹرز ایسوسی ایشن نے تصدیق کی کہ اہل خانہ نے چوٹی کی بلند ترین سطح پر پاکستانی پرچم لہرایا۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1163902">ماؤنٹ ایورسٹ سَر کرنے والے کم عمر ترین پاکستانی کوہ پیما کے-ٹو کی مہم پر روانہ</a></strong></p>

<p>جس کے بعد آمنہ شگر سے تعلق رکھنے والی پہلی خاتون کوہ پیما بن گئیں جنہوں نے یہ چوٹی سر کی۔ </p>

<p>خاندانی ذرائع کے مطابق آمنہ اور ان کے بھائی نے زندگی میں پہلی مرتبہ چوٹی سر کی ہے لیکن ان کے والد ایک تجربہ کار کوہ پیما ہیں جنہوں نے ماضی میں بہت سی چوٹیاں سر کی تھیں۔</p>

<p>آمنہ اور ان کے بھائی نے چوٹی سر کرنے کی تربیت اپنے والد سے حاصل کی ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1164991">شہروز کاشف کے۔ٹو سر کرنے والے سب سے کم عمر کوہ پیما بن گئے</a></strong></p>

<p>کامیابی سے چوٹی سر کرنے کے بعد ہفتے کو کوہ پیما خاندان واپس شگر پہنچا جہاں مقامی افراد نے ان کا پرتپاک استقبال کیا 
بعد ازاں انہیں ریلی کی صورت میں ان کے آبائی گاؤں حیدرآباد لے جایا گیا۔</p>

<p>آمنہ شگری نے کہا کہ انہوں نے اس کامیابی کو قومی ہیرو محمد علی سدپارہ کے نام کردیا ہے۔</p>

<p>انہوں نے مزید کہا کہ ان کا دنیا کی دوسری بلند ترین چوٹی کے-ٹو پر قومی پرچم لہرانے کا ارادہ ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1167736</guid>
      <pubDate>Sun, 05 Sep 2021 17:32:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/09/6134713108a33.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/09/6134713108a33.png"/>
        <media:title>آمنہ شگری نے چوٹی سر کرنے کی تربیت اپنے والد سے حاصل کی— فوٹو: بلوچستان ٹور آپریٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
