<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Amazing</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 02:21:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 02:21:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہوا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کھینچنے والی دنیا کی سب سے بڑی مشین نے کام شروع کردیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1168047/</link>
      <description>&lt;p&gt;کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ہوا سے کھینچ کر چٹان میں تبدیل کرنے والے &lt;a href="https://www.theguardian.com/environment/2021/sep/09/worlds-biggest-plant-to-turn-carbon-dioxide-into-rock-opens-in-iceland-orca"&gt;&lt;strong&gt;دنیا کے سب سے بڑے پلانٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; نے یورپی ملک آئس لینڈ میں کام شروع کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس پلانٹ کو 'اورکا' کا نام دیا گیا ہے، اورکا آئس لینڈ کی زبان کا ایک لفظ ہے جس کا مطلب توانائی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ پلانٹ 4 یونٹس پر مشتمل ہے اور ہر یونٹ 2 دھاتی باکسز پر مشتمل ہے جو شپنگ کنٹینر جیسے نظر آتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس پلانٹ کو سوئٹزر لینڈ کی کمپنی کلائم ورکس اور آئس لینڈ کی کمپنی کارب فکس نے تیار کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/Climeworks/status/1435531157366579201?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1435531157366579201%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&amp;amp;ref_url=https://interestingengineering.com/icelands-carbon-removal-machine-will-capture-870-cars-worth-of-emissions"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمپنیوں کے مطابق یہ پلانٹ ہر سال ہوا میں موجود 4 ہزار ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کی صفائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یو ایس ماحولیاتی ادارے کے مطابق یہ مقدار 870 گاڑیوں سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کے برابر ہے جبکہ اس پلانٹ کی لاگت ایک سے ڈیڑھ کروڑ ڈالرز ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کاربن ڈائی آکسائیڈ کو اکٹھا کرنے کے لیے پلانٹ کے پنکھوں کو استعمال کیا جاتا ہے جو ہوا کو کلکٹر میں اکٹھا کرتا ہے جس کے اندر ایک فلٹر میٹریل بھی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جب فلٹر میٹریل میں کاربن ڈائی آکسائیڈ بھر جاتی ہے تو یہ کلکٹر بند ہوجاتا ہے اور اس کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے تاکہ میٹریل سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو خارج کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے بعد یہ گیس پانی میں مکس ہوتی ہے اور بعد ازاں ایک ہزار میٹر گہرائی میں ایک چٹان میں نصب کردی جاتی ہے تاکہ اسے ٹھوس شکل دی جاسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمپنیوں کو توقع ہے کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں ایک اہم ٹول ثابت ہوسکے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر ناقدین کا کہنا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی بہت مہنگی ہے اور اسے بڑے پیمانے پر استعمال کرنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کاربن ڈائی آکسائیڈ کو ہوا سے کھینچ کر چٹان میں تبدیل کرنے والے <a href="https://www.theguardian.com/environment/2021/sep/09/worlds-biggest-plant-to-turn-carbon-dioxide-into-rock-opens-in-iceland-orca"><strong>دنیا کے سب سے بڑے پلانٹ</strong></a> نے یورپی ملک آئس لینڈ میں کام شروع کردیا۔</p>

<p>اس پلانٹ کو 'اورکا' کا نام دیا گیا ہے، اورکا آئس لینڈ کی زبان کا ایک لفظ ہے جس کا مطلب توانائی ہے۔</p>

<p>یہ پلانٹ 4 یونٹس پر مشتمل ہے اور ہر یونٹ 2 دھاتی باکسز پر مشتمل ہے جو شپنگ کنٹینر جیسے نظر آتے ہیں۔</p>

<p>اس پلانٹ کو سوئٹزر لینڈ کی کمپنی کلائم ورکس اور آئس لینڈ کی کمپنی کارب فکس نے تیار کیا ہے۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/Climeworks/status/1435531157366579201?ref_src=twsrc%5Etfw%7Ctwcamp%5Etweetembed%7Ctwterm%5E1435531157366579201%7Ctwgr%5E%7Ctwcon%5Es1_&amp;ref_url=https://interestingengineering.com/icelands-carbon-removal-machine-will-capture-870-cars-worth-of-emissions"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>کمپنیوں کے مطابق یہ پلانٹ ہر سال ہوا میں موجود 4 ہزار ٹن کاربن ڈائی آکسائیڈ کی صفائی کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔</p>

<p>یو ایس ماحولیاتی ادارے کے مطابق یہ مقدار 870 گاڑیوں سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کے برابر ہے جبکہ اس پلانٹ کی لاگت ایک سے ڈیڑھ کروڑ ڈالرز ہے۔</p>

<p>کاربن ڈائی آکسائیڈ کو اکٹھا کرنے کے لیے پلانٹ کے پنکھوں کو استعمال کیا جاتا ہے جو ہوا کو کلکٹر میں اکٹھا کرتا ہے جس کے اندر ایک فلٹر میٹریل بھی ہے۔</p>

<p>جب فلٹر میٹریل میں کاربن ڈائی آکسائیڈ بھر جاتی ہے تو یہ کلکٹر بند ہوجاتا ہے اور اس کا درجہ حرارت بڑھ جاتا ہے تاکہ میٹریل سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کو خارج کیا جاسکے۔</p>

<p>اس کے بعد یہ گیس پانی میں مکس ہوتی ہے اور بعد ازاں ایک ہزار میٹر گہرائی میں ایک چٹان میں نصب کردی جاتی ہے تاکہ اسے ٹھوس شکل دی جاسکے۔</p>

<p>کمپنیوں کو توقع ہے کہ اس طرح کی ٹیکنالوجی موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف جنگ میں ایک اہم ٹول ثابت ہوسکے گی۔</p>

<p>مگر ناقدین کا کہنا تھا کہ یہ ٹیکنالوجی بہت مہنگی ہے اور اسے بڑے پیمانے پر استعمال کرنے میں کئی دہائیاں لگ سکتی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1168047</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Sep 2021 19:07:21 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/09/613a025229e74.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/09/613a025229e74.jpg"/>
        <media:title>اس پلانٹ نے آئس لینڈ میں کام شروع کیا ہے —  فوٹو بشکریہ کلائم ورکس
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
