<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 12:24:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 12:24:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ٹوئٹر میں فیس بک ری ایکشنز جیسے فیچر کی آزمائش
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1168066/</link>
      <description>&lt;p&gt;سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر میں ابھی ٹوئٹس پر ری ایکشن کا ایک ہی طریقہ موجود ہے یعنی کلاسیک ہارٹ لائیک ایموجی اور 2015 سے قبل یہ کام فیورٹ اسٹار بٹن کرتا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر اب ٹوئٹر نے اس حوالے سے تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے اور ایک نئے فیچر ری ایکشنز کی آزمائش شروع کی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس فیچر میں ٹوئٹس پر مختلف ایموجیز کے ذریعے صارفین اپنے تاثرات کا اظہار کرسکیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فی الحال اس فیچر کی آزمائش صرف ترکی میں کی جارہی ہے جہاں صارفین کو ہارٹ آئیکون کے ساتھ مزید 4 ایموجیز دستیاب ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان ایموجیز میں ٹیرز آف جوائے، تھنکنگ فیس، کلیپنگ ہینڈز اور کرائینگ فیس شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/09/613a2b9cd15af.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/09/613a2b9cd15af.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/09/613a2b9cd15af.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/09/613a2b9cd15af.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="فوٹو بشکریہ ٹوئٹر" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;فوٹو بشکریہ ٹوئٹر&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ فیچر فیس بک کے ری ایکشنز سے ملتا جلتا ہی ہے جو کسی پوسٹ پر لائیک کے ساتھ صارفین کو دستیاب ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;2015 سے قبل ٹوئٹر نے اسی طرح کے فیچر کی آززمائش کی تھی جس میں زیادہ ایموجیز شامل تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر اب کمپنی کا کہنا ہے کہ اس بار ایسے ایموجی کو استعمال کیا جارہا ہے جو عالمی سطح پر پہچانے جاتے ہیں اور ٹوئٹس پر لوگوں کے تاثرات کی نمائندگی کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ٹوئٹر نے 4 ایموجیز کا انتخاب سرویز کی بنیاد پر کیا تھا جن میں ٹوئٹس پر لوگوں کے جذباتی رویوں کی جانچ پڑتال کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمپنی نے بتایا کہ ری ایکشنز سے لوگوں کو بات چیت پر اپنے احساسات کا بہتر اظہار کرنے میں مدد ملے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق یہ نیا فیچر محدود وقت تک ترکی میں آئی او ایس، اینڈرائیڈ اور ویب ورژن میں آنے والے دنوں میں دستیاب ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر ٹیسٹ کے نتائج کو دیکھتے ہوئے دیگر ممالک میں اس کو توسیع دینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر میں ابھی ٹوئٹس پر ری ایکشن کا ایک ہی طریقہ موجود ہے یعنی کلاسیک ہارٹ لائیک ایموجی اور 2015 سے قبل یہ کام فیورٹ اسٹار بٹن کرتا تھا۔</p>

<p>مگر اب ٹوئٹر نے اس حوالے سے تبدیلی کا فیصلہ کیا ہے اور ایک نئے فیچر ری ایکشنز کی آزمائش شروع کی ہے۔</p>

<p>اس فیچر میں ٹوئٹس پر مختلف ایموجیز کے ذریعے صارفین اپنے تاثرات کا اظہار کرسکیں گے۔</p>

<p>فی الحال اس فیچر کی آزمائش صرف ترکی میں کی جارہی ہے جہاں صارفین کو ہارٹ آئیکون کے ساتھ مزید 4 ایموجیز دستیاب ہوں گے۔</p>

<p>ان ایموجیز میں ٹیرز آف جوائے، تھنکنگ فیس، کلیپنگ ہینڈز اور کرائینگ فیس شامل ہیں۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/09/613a2b9cd15af.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/09/613a2b9cd15af.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/09/613a2b9cd15af.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/09/613a2b9cd15af.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="فوٹو بشکریہ ٹوئٹر" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">فوٹو بشکریہ ٹوئٹر</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>یہ فیچر فیس بک کے ری ایکشنز سے ملتا جلتا ہی ہے جو کسی پوسٹ پر لائیک کے ساتھ صارفین کو دستیاب ہوتے ہیں۔</p>

<p>2015 سے قبل ٹوئٹر نے اسی طرح کے فیچر کی آززمائش کی تھی جس میں زیادہ ایموجیز شامل تھے۔</p>

<p>مگر اب کمپنی کا کہنا ہے کہ اس بار ایسے ایموجی کو استعمال کیا جارہا ہے جو عالمی سطح پر پہچانے جاتے ہیں اور ٹوئٹس پر لوگوں کے تاثرات کی نمائندگی کرتے ہیں۔</p>

<p>ٹوئٹر نے 4 ایموجیز کا انتخاب سرویز کی بنیاد پر کیا تھا جن میں ٹوئٹس پر لوگوں کے جذباتی رویوں کی جانچ پڑتال کی گئی تھی۔</p>

<p>کمپنی نے بتایا کہ ری ایکشنز سے لوگوں کو بات چیت پر اپنے احساسات کا بہتر اظہار کرنے میں مدد ملے گی۔</p>

<p>کمپنی کے مطابق یہ نیا فیچر محدود وقت تک ترکی میں آئی او ایس، اینڈرائیڈ اور ویب ورژن میں آنے والے دنوں میں دستیاب ہوگا۔</p>

<p>مگر ٹیسٹ کے نتائج کو دیکھتے ہوئے دیگر ممالک میں اس کو توسیع دینے کا فیصلہ کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1168066</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Sep 2021 20:52:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/09/613a2b9d219a6.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/09/613a2b9d219a6.jpg"/>
        <media:title>— رائٹرز فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
