<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 12:08:00 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 12:08:00 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جوہری آبدوز تنازع: فرانس نے برطانیہ سے ’طے شدہ مذاکرات‘ منسوخ کردیے
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1168851/</link>
      <description>&lt;p&gt;جوہری صلاحیت کی حامل آبدوز تیار کرنے سے متعلق متنازع معاہدے کے باعث برطانیہ اور فرانس کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے اور فرانس کے وزیر دفاع نے اپنے برطانوی ہم منصب کے ساتھ متنازع معاہدے پر طے شدہ بات چیت کا سلسلہ منسوخ کردیا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بی بی سی کی &lt;a href="https://www.bbc.com/news/uk-58620220"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق آسٹریلیا نے جوہری صلاحیت کی حامل آبدوز تیار کرنے کے معاہدے پر دستخط اور اس عمل کے دوران فرانس کو تفویض بیشتر اور بڑے کنٹریکٹ سے محروم کردیا جس کے بعد فرانس نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1168827/"&gt;آبدوز تنازع: جو بائیڈن نے ایمانوئل میکرون سے جلد مذاکرات کی درخواست کی ہے، فرانس&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا کہ فرانس کو معاہدے سے جوڑے معاملات پر پریشان نہیں ہونا چاہیے لیکن لندن میں برطانوی اور فرانسیسی وزرائے دفاع کے مابین ہونے والی بات چیت کا عمل منسوخ کردیا گیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فرانس کے سابق سفیر لارڈ ریکیٹس نے تصدیق کی کہ ’دونوں رہنماؤں کی ملاقات منسوخ ہوچکی ہے‘۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ مذاکرات کا سلسلہ آئند چند دنوں میں شروع ہوسکتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جوہری صلاحیت کی حامل آبدوز کی تیاری کا معاہدہ ’آکس معاہدہ‘ کہلاتا ہے جو گزشتہ ہفتے طے پایا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1168732/"&gt;فرانس نے امریکا، آسٹریلیا سے اپنے سفرا کو واپس بلا لیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;'آکس معاہدے' کا مقصد جنوبی چین کے سمندر میں چین کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا ہے اور اس کے لیے آسٹریلیا کی جانب سے 2016 میں 12 روایتی آبدوزوں کی تعمیر کے لیے 37 ارب ڈالر کا معاہدہ ختم کر دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;فرانسیسی وزیر خارجہ ژان یویس لی ڈریان نے اسے ’پیٹھ پر وار‘ قرار دیا ہے جو ’اتحادیوں اور شراکت داروں کے درمیان ناقابل قبول رویے‘ کا باعث بنتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تمام تنازع کے دوران اب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے واشنگٹن اور کینبرا سے فرانسیسی سفیروں کو واپس بلانے کا حکم دیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا کہ فرانس کو اتحاد کے بارے میں ’پریشان‘ نہیں ہونا چاہیے، برطانیہ اور فرانس کے درمیان ’انتہائی دوستانہ تعلقات‘ ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1099072"&gt;بھارت کا روس سے جوہری آبدوز کیلئے 3 ارب ڈالر کا معاہدہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آکس کسی بھی طرح سے زیرو سم نہیں ہے، یہ دراصل وہ نہیں جس کے لیے خصوصی طور پر ہمارے دوست فرانس کو پریشان ہونا چاہیے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل فرانس کا کہنا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے جلد فرانسیسی ہم منصب ایمانوئل میکرون سے مذاکرات کی درخواست کی ہے، جو بظاہر آبدوز کے معاہدے پر تنازع کے بعد اتحادیوں کے درمیان غیر معمولی کشیدگی کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آسٹریلیا کی جانب سے امریکی جوہری آبدوزوں کی حمایت میں کیے جانے والے معاہدے کے بعد پیرس میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جوہری صلاحیت کی حامل آبدوز تیار کرنے سے متعلق متنازع معاہدے کے باعث برطانیہ اور فرانس کے مابین کشیدگی میں اضافہ ہوگیا ہے اور فرانس کے وزیر دفاع نے اپنے برطانوی ہم منصب کے ساتھ متنازع معاہدے پر طے شدہ بات چیت کا سلسلہ منسوخ کردیا ہے۔ </p>

<p>بی بی سی کی <a href="https://www.bbc.com/news/uk-58620220"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق آسٹریلیا نے جوہری صلاحیت کی حامل آبدوز تیار کرنے کے معاہدے پر دستخط اور اس عمل کے دوران فرانس کو تفویض بیشتر اور بڑے کنٹریکٹ سے محروم کردیا جس کے بعد فرانس نے سخت برہمی کا اظہار کیا۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1168827/">آبدوز تنازع: جو بائیڈن نے ایمانوئل میکرون سے جلد مذاکرات کی درخواست کی ہے، فرانس</a></strong> </p>

<p>برطانوی وزیراعظم بورس جانسن نے کہا کہ فرانس کو معاہدے سے جوڑے معاملات پر پریشان نہیں ہونا چاہیے لیکن لندن میں برطانوی اور فرانسیسی وزرائے دفاع کے مابین ہونے والی بات چیت کا عمل منسوخ کردیا گیا۔ </p>

<p>فرانس کے سابق سفیر لارڈ ریکیٹس نے تصدیق کی کہ ’دونوں رہنماؤں کی ملاقات منسوخ ہوچکی ہے‘۔ </p>

<p>انہوں نے امکان ظاہر کیا کہ مذاکرات کا سلسلہ آئند چند دنوں میں شروع ہوسکتا ہے۔ </p>

<p>جوہری صلاحیت کی حامل آبدوز کی تیاری کا معاہدہ ’آکس معاہدہ‘ کہلاتا ہے جو گزشتہ ہفتے طے پایا تھا۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1168732/">فرانس نے امریکا، آسٹریلیا سے اپنے سفرا کو واپس بلا لیا</a></strong> </p>

<p>'آکس معاہدے' کا مقصد جنوبی چین کے سمندر میں چین کے اثر و رسوخ کا مقابلہ کرنا ہے اور اس کے لیے آسٹریلیا کی جانب سے 2016 میں 12 روایتی آبدوزوں کی تعمیر کے لیے 37 ارب ڈالر کا معاہدہ ختم کر دیا۔</p>

<p>فرانسیسی وزیر خارجہ ژان یویس لی ڈریان نے اسے ’پیٹھ پر وار‘ قرار دیا ہے جو ’اتحادیوں اور شراکت داروں کے درمیان ناقابل قبول رویے‘ کا باعث بنتا ہے۔ </p>

<p>اس تمام تنازع کے دوران اب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے واشنگٹن اور کینبرا سے فرانسیسی سفیروں کو واپس بلانے کا حکم دیا ہے۔</p>

<p>برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا کہ فرانس کو اتحاد کے بارے میں ’پریشان‘ نہیں ہونا چاہیے، برطانیہ اور فرانس کے درمیان ’انتہائی دوستانہ تعلقات‘ ہیں۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1099072">بھارت کا روس سے جوہری آبدوز کیلئے 3 ارب ڈالر کا معاہدہ</a></strong></p>

<p>انہوں نے کہا کہ آکس کسی بھی طرح سے زیرو سم نہیں ہے، یہ دراصل وہ نہیں جس کے لیے خصوصی طور پر ہمارے دوست فرانس کو پریشان ہونا چاہیے۔ </p>

<p>اس سے قبل فرانس کا کہنا تھا کہ امریکی صدر جو بائیڈن نے جلد فرانسیسی ہم منصب ایمانوئل میکرون سے مذاکرات کی درخواست کی ہے، جو بظاہر آبدوز کے معاہدے پر تنازع کے بعد اتحادیوں کے درمیان غیر معمولی کشیدگی کو ختم کرنے کی کوشش ہے۔</p>

<p>آسٹریلیا کی جانب سے امریکی جوہری آبدوزوں کی حمایت میں کیے جانے والے معاہدے کے بعد پیرس میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1168851</guid>
      <pubDate>Mon, 20 Sep 2021 16:42:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/09/61484415a1e6e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/09/61484415a1e6e.jpg"/>
        <media:title>فیصلہ آسٹریلیا، امریکا اور برطانیہ کے ساتھ معاہدے کے بعد سامنے آیا — فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
