<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 17 Apr 2026 07:59:52 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 17 Apr 2026 07:59:52 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشکوک ٹرانزیکشن ریفرنس: فرد جرم عائد کرنے کیلئے آصف زرداری 29 ستمبر کو طلب
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1169181/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد کی احتساب عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں 8 ارب روپے سے زائد کی مشکوک ٹرانزیکشنز کے معاملے میں سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو فرد جرم عائد کرنے کے لیے طلب کرلیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;احتساب عدالت کی جانب سے سابق صدر آصف علی زرداری کو فرد جرم عائد کرنے کے لیے طلبی کے سمن میں انہیں  29 ستمبر کو صبح ساڑھے آٹھ بجے احتساب عدالت نمبر تین میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عدالتی سمن میں کہا گیا کہ فرد جرم کا جواب دینے کے لیے آپ کی ذاتی حیثیت میں پیشی لازم ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1153150"&gt;مشکوک ٹرانزیکشن کا معاملہ: آصف زرداری کی طبی بنیادوں پر ضمانت منظور&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رجسٹرار احتساب عدالت کی جانب سے جاری مذکورہ سمن قومی احتساب بیورو (نیب) کے تفتیشی افسر  نے شریک چیئرمین پی پی کو  بلاول ہاؤس کراچی کے پتے پر ارسال کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ نیب نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں 8 ارب روپے کی مشکوک ٹرانزیکشن سے متعلق ضمنی ریفرنس دائر کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رواں برس فروری میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے آصف علی زرداری کی طبی بنیادوں پر مستقل ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کیس میں سابق صدر کے مبینہ فرنٹ مین مشتاق احمد کو عدالت اشتہاری قرار دے چکی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='614dad9b2770b'&gt;جعلی اکاؤنٹس کیس کا پس منظر&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ سابق صدر آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور متعدد دیگر کاروباری افراد کے خلاف سمٹ بینک، سندھ بینک اور یو بی ایل میں 29 'بے نامی' اکاؤنٹس کے ذریعے 35 ارب روپے کی جعلی ٹرانزیکشنز سے متعلق 2015 کے کیس کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سلسلے میں ایف آئی اے نے معروف بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد اگست 2018 میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;7 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سے پوچھ گچھ کی تھی جبکہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1115860/"&gt;آصف زرداری و فریال تالپور درخواست ضمانت سماعت کیلئے مقرر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آصف علی زرداری نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ 2008 سے وہ کسی کاروباری سرگرمیوں میں ملوث نہیں رہے اور صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے خود کو تمام کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں سے الگ کرلیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعد ازاں کیس کی جے آئی ٹی نے عدالت عظمیٰ کو رپورٹ پیش کی تھی، جس میں 172 افراد کا نام سامنے آیا تھا، جس پر وفاقی حکومت نے ان تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کردیے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے بعد سپریم کورٹ نے یہ کیس نیب کے سپرد کرتے ہوئے 2 ماہ میں تحقیقات کا حکم دیا تھا اور نیب نے اس کے لیے مشترکہ انویسٹی گیشن ٹیم قائم کی تھی، جس کے سامنے آصف زرداری پیش ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;15 مارچ کو کراچی کی بینکنگ عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی کی نیب کی درخواست منظور کی تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد کی احتساب عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں 8 ارب روپے سے زائد کی مشکوک ٹرانزیکشنز کے معاملے میں سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو فرد جرم عائد کرنے کے لیے طلب کرلیا۔</p>

<p>احتساب عدالت کی جانب سے سابق صدر آصف علی زرداری کو فرد جرم عائد کرنے کے لیے طلبی کے سمن میں انہیں  29 ستمبر کو صبح ساڑھے آٹھ بجے احتساب عدالت نمبر تین میں پیش ہونے کی ہدایت کی گئی۔</p>

<p>عدالتی سمن میں کہا گیا کہ فرد جرم کا جواب دینے کے لیے آپ کی ذاتی حیثیت میں پیشی لازم ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1153150">مشکوک ٹرانزیکشن کا معاملہ: آصف زرداری کی طبی بنیادوں پر ضمانت منظور</a></strong></p>

<p>رجسٹرار احتساب عدالت کی جانب سے جاری مذکورہ سمن قومی احتساب بیورو (نیب) کے تفتیشی افسر  نے شریک چیئرمین پی پی کو  بلاول ہاؤس کراچی کے پتے پر ارسال کیا۔</p>

<p>واضح رہے کہ نیب نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں 8 ارب روپے کی مشکوک ٹرانزیکشن سے متعلق ضمنی ریفرنس دائر کیا تھا۔</p>

<p>رواں برس فروری میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے آصف علی زرداری کی طبی بنیادوں پر مستقل ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کی تھی۔</p>

<p>اس کیس میں سابق صدر کے مبینہ فرنٹ مین مشتاق احمد کو عدالت اشتہاری قرار دے چکی ہے۔</p>

<h3 id='614dad9b2770b'>جعلی اکاؤنٹس کیس کا پس منظر</h3>

<p>خیال رہے کہ سابق صدر آصف زرداری، ان کی بہن فریال تالپور اور متعدد دیگر کاروباری افراد کے خلاف سمٹ بینک، سندھ بینک اور یو بی ایل میں 29 'بے نامی' اکاؤنٹس کے ذریعے 35 ارب روپے کی جعلی ٹرانزیکشنز سے متعلق 2015 کے کیس کی تحقیقات کی جارہی ہیں۔</p>

<p>اس سلسلے میں ایف آئی اے نے معروف بینکر حسین لوائی کو گرفتار کیا تھا، جس کے بعد اگست 2018 میں جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی اومنی گروپ کے چیئرمین انور مجید اور ان کے بیٹے عبدالغنی مجید کو بھی گرفتار کر لیا گیا تھا۔</p>

<p>7 ستمبر 2018 کو سپریم کورٹ نے سابق صدر مملکت اور ان کی بہن کی جانب سے مبینہ طور پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے اربوں روپے کی منی لانڈرنگ کیے جانے کے مقدمے کی تحقیقات کے لیے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دے دی تھی۔</p>

<p>اس جے آئی ٹی نے سابق صدر آصف علی زرداری، ان کی ہمشیرہ فریال تالپور سے پوچھ گچھ کی تھی جبکہ چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو سے بھی معلومات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1115860/">آصف زرداری و فریال تالپور درخواست ضمانت سماعت کیلئے مقرر</a></strong></p>

<p>آصف علی زرداری نے جے آئی ٹی کو بتایا تھا کہ 2008 سے وہ کسی کاروباری سرگرمیوں میں ملوث نہیں رہے اور صدر مملکت کا عہدہ سنبھالنے کے بعد انہوں نے خود کو تمام کاروبار اور تجارتی سرگرمیوں سے الگ کرلیا تھا۔</p>

<p>بعد ازاں کیس کی جے آئی ٹی نے عدالت عظمیٰ کو رپورٹ پیش کی تھی، جس میں 172 افراد کا نام سامنے آیا تھا، جس پر وفاقی حکومت نے ان تمام افراد کے نام ای سی ایل میں شامل کردیے تھے۔</p>

<p>اس کے بعد سپریم کورٹ نے یہ کیس نیب کے سپرد کرتے ہوئے 2 ماہ میں تحقیقات کا حکم دیا تھا اور نیب نے اس کے لیے مشترکہ انویسٹی گیشن ٹیم قائم کی تھی، جس کے سامنے آصف زرداری پیش ہوئے تھے۔</p>

<p>15 مارچ کو کراچی کی بینکنگ عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے منی لانڈرنگ سے متعلق کیس کی کراچی سے اسلام آباد منتقلی کی نیب کی درخواست منظور کی تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1169181</guid>
      <pubDate>Fri, 24 Sep 2021 15:51:07 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکطاہر نصیر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/09/614d9bffaf186.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/09/614d9bffaf186.jpg"/>
        <media:title>اس کیس میں سابق صدر کے مبینہ فرنٹ مین مشتاق احمد کو عدالت اشتہاری قرار دے چکی ہے—فائل فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
