<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 14:37:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 14:37:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ: پاکستان کے سابق سفیر، پی پی پی رہنما واجد شمس الحسن انتقال کر گئے
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1169461/</link>
      <description>&lt;p&gt;برطانیہ میں پاکستان کے سابق سفیر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما واجد شمس الحسن لندن میں انتقال کرگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سرکاری خبر ایجنسی اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق واجد شمس الحسن طویل علالت کے بعد لندن میں انتقال کر گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے  پیغام میں واجد شمس الحسن کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ میرے لیے قوت اور رہنمائی کا ایک قیمتی ذریعہ آج ہمیں چھوڑ گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ صحافی، سفارت کار، جمہوریت پسند، خاندانی دوست، خداحافظ واجد انکل، آپ کے بغیر سب کچھ ویسا نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/BBhuttoZardari/status/1442809858693140485"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بلاول بھٹو نے ان کے ساتھ گزشتہ برس ہونے والی گفتگو کا متن بھی ٹوئٹر پر جاری کیا جس کے مطابق سابق سفارت کار کی صحت اس وقت بھی ٹھیک نہیں تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/BBhuttoZardari/status/1442814113655181314"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان پیپلزپارٹی کی سینئر رہنما اور سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ واجد شمس الحسن کے انتقال کی خبر سن کر صدمہ ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے لکھا کہ واجد شمس الحسن اپنی پوری زندگی میں جمہوریت، انسانی حقوق، آزادی صحافت اور پی پی پی کے ہمدرد رہے، بڑا نقصان ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شیری رحمٰن نے ان کے خاندان اور سول سوسائٹی کے وسیع حلقے سے تعزیت کا اظہار کیا، جن سے وہ جڑے ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/sherryrehman/status/1442763899007238144"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پی پی پی کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات شازیہ عطا مری نے بھی واجد شمس الحسن کے انتقال پر گہرے غم اور دکھ کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ان کی صحافتی، سفارت کاری کے میدان اور قومی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ واجد شمس الحسن نے اپریل 2014 میں برطانیہ میں پاکستان  کے ہائی کمشنر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور اس سے قبل وہ 6 برس تک خدمات انجام دیتے رہے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وہ اس وقت برطانیہ میں طویل عرصے تک پاکستان کے سفیر رہنے کا اعزاز رکھتے تھے اور یہ ان کا دوسرا دور تھا جبکہ اس سے قبل وہ 1994 سے 1996 تک پاکستان کے ہائی کمشنر رہے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واجد شمس الحسن نے 'بھٹو خاندان میری یادوں میں: واجد شمس الحسن کی نصف صدی پر محیط یادیں' کے نام سے کتاب بھی تحریر کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سابق سفیر نے اس کے علاوہ 'بھٹو خاندان میری یادوں میں: واجد شمس الحسن کی نصف صدی کی یادیں' کا ترجمہ کیا، یہ بھٹو خاندان سے  متعلق واقعات کی کہانی ہے، جو ان کے ساتھ زندگی بھر رہنے والے شخص کی تحریر ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے اپنی کتاب میں صحافت سے نیشنل پریس ٹرسٹ کے چیئرمین کی حیثیت سے تعیناتی تک کے سفر کی یادیں بھی شامل کی ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>برطانیہ میں پاکستان کے سابق سفیر اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما واجد شمس الحسن لندن میں انتقال کرگئے۔</p>

<p>سرکاری خبر ایجنسی اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق واجد شمس الحسن طویل علالت کے بعد لندن میں انتقال کر گئے۔</p>

<p>دوسری جانب پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے  پیغام میں واجد شمس الحسن کے انتقال پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ میرے لیے قوت اور رہنمائی کا ایک قیمتی ذریعہ آج ہمیں چھوڑ گیا۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ صحافی، سفارت کار، جمہوریت پسند، خاندانی دوست، خداحافظ واجد انکل، آپ کے بغیر سب کچھ ویسا نہیں ہوگا۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/BBhuttoZardari/status/1442809858693140485"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>بلاول بھٹو نے ان کے ساتھ گزشتہ برس ہونے والی گفتگو کا متن بھی ٹوئٹر پر جاری کیا جس کے مطابق سابق سفارت کار کی صحت اس وقت بھی ٹھیک نہیں تھی۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/BBhuttoZardari/status/1442814113655181314"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>پاکستان پیپلزپارٹی کی سینئر رہنما اور سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا کہ واجد شمس الحسن کے انتقال کی خبر سن کر صدمہ ہوا۔</p>

<p>انہوں نے لکھا کہ واجد شمس الحسن اپنی پوری زندگی میں جمہوریت، انسانی حقوق، آزادی صحافت اور پی پی پی کے ہمدرد رہے، بڑا نقصان ہے۔</p>

<p>شیری رحمٰن نے ان کے خاندان اور سول سوسائٹی کے وسیع حلقے سے تعزیت کا اظہار کیا، جن سے وہ جڑے ہوئے تھے۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/sherryrehman/status/1442763899007238144"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>پی پی پی کی مرکزی سیکریٹری اطلاعات شازیہ عطا مری نے بھی واجد شمس الحسن کے انتقال پر گہرے غم اور دکھ کا اظہار کیا۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ان کی صحافتی، سفارت کاری کے میدان اور قومی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔</p>

<p>یاد رہے کہ واجد شمس الحسن نے اپریل 2014 میں برطانیہ میں پاکستان  کے ہائی کمشنر کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا اور اس سے قبل وہ 6 برس تک خدمات انجام دیتے رہے تھے۔</p>

<p>وہ اس وقت برطانیہ میں طویل عرصے تک پاکستان کے سفیر رہنے کا اعزاز رکھتے تھے اور یہ ان کا دوسرا دور تھا جبکہ اس سے قبل وہ 1994 سے 1996 تک پاکستان کے ہائی کمشنر رہے تھے۔</p>

<p>واجد شمس الحسن نے 'بھٹو خاندان میری یادوں میں: واجد شمس الحسن کی نصف صدی پر محیط یادیں' کے نام سے کتاب بھی تحریر کی۔</p>

<p>سابق سفیر نے اس کے علاوہ 'بھٹو خاندان میری یادوں میں: واجد شمس الحسن کی نصف صدی کی یادیں' کا ترجمہ کیا، یہ بھٹو خاندان سے  متعلق واقعات کی کہانی ہے، جو ان کے ساتھ زندگی بھر رہنے والے شخص کی تحریر ہے۔</p>

<p>انہوں نے اپنی کتاب میں صحافت سے نیشنل پریس ٹرسٹ کے چیئرمین کی حیثیت سے تعیناتی تک کے سفر کی یادیں بھی شامل کی ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1169461</guid>
      <pubDate>Tue, 28 Sep 2021 22:03:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/09/615338d80bde3.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/09/615338d80bde3.jpg"/>
        <media:title>واجد شمس الحسن برطانیہ میں طویل عرصے تک پاکستان کے ہائی کمشنر رہے--فوٹو: ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
