<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 12:22:35 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 12:22:35 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پیمرا کا 'مارننگ ود جگن'میں قابل اعتراض مواد نشر کرنے پر اے پلس کو نوٹس
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1169739/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نجی چینل اے پلس  ٹی وی کو مارننگ شو میں قابلِ اعتراض مواد نشر کرنے پر اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کردیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پیمرا کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری مختصر اعلامیے میں نجی چینل کو نوٹس جاری کرنے سے متعلق بتایا گیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مختصر اعلامیے میں کہا گیا کہ  پیمرا نے اے پلس ٹی وی  کے مارننگ شو  'مارننگ ود جگن ' میں نامناسب اور قابل اعتراض مواد نشر کرنے پر چینل کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کردیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1144000"&gt;اداکارہ جگن کاظم کے ہاں بیٹی کی پیدائش&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پیمرا کی جانب سے بتایا گیا کہ چینل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مذکورہ معاملے پر 7 یوم میں جواب بھی طلب کیا گیا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/reportpemra/status/1443995547686350857?s=20"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر میزبان جگن کاظم کے مارننگ شو کی ایک &lt;a href="https://twitter.com/waseem786_/status/1443642492142952456"&gt;&lt;strong&gt;ویڈیو&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; وائرل ہورہی ہے جسے شدید تنقید کا سامنا بھی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سوشل میڈیا پر جگن کاظم کے شو کے ایک سیگمنٹ پر تنقید کی جارہی ہے جس میں سیگمنٹ میں حصہ لینے والے افرا کو ہاتھوں کا استعمال کیے بغیر سیب کھانا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ویڈیو میں مارننگ شو کے گیم سیگمنٹ میں شامل مرد اور خواتین پارٹنرز کو متنازع قرار دیے جانے والا مقابلہ پورا کرتے دیکھا گیا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1110028"&gt;جسمانی ساخت پر طنز کرنے والوں کو جگن کاظم کا کرارا جواب&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر &lt;a href="https://twitter.com/hashtag/BoycottMorningWithJuggunKazim?src=hashtag_click"&gt;&lt;strong&gt;#BoycottMorningWithJuggunKazim&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;کا  ہیش ٹیگ بھی ٹرینڈ کررہا تھا اور  پیمرا سے میزبان کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی کیا جارہا تھا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جگن کاظم کے جس &lt;a href="https://www.youtube.com/watch?v=97L9kgXEfOw"&gt;&lt;strong&gt;پروگرام&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کی ویڈیو وائرل ہوئی وہ 24 ستمبر کی صبح نشر ہوا تھا تاہم ویڈیو کچھ روز بعد وائرل ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ مارننگ شوز کی میزبانوں کو اپنے شوز کے سیگمنٹس یا ان میں دیے گئے متنازع بیانات کی وجہ سے تنقید کا سامنا  رہتا ہے۔ &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے نجی چینل اے پلس  ٹی وی کو مارننگ شو میں قابلِ اعتراض مواد نشر کرنے پر اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کردیا۔ </p>

<p>پیمرا کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری مختصر اعلامیے میں نجی چینل کو نوٹس جاری کرنے سے متعلق بتایا گیا۔ </p>

<p>مختصر اعلامیے میں کہا گیا کہ  پیمرا نے اے پلس ٹی وی  کے مارننگ شو  'مارننگ ود جگن ' میں نامناسب اور قابل اعتراض مواد نشر کرنے پر چینل کو اظہارِ وجوہ کا نوٹس جاری کردیا۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1144000">اداکارہ جگن کاظم کے ہاں بیٹی کی پیدائش</a></strong></p>

<p>پیمرا کی جانب سے بتایا گیا کہ چینل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے مذکورہ معاملے پر 7 یوم میں جواب بھی طلب کیا گیا ہے۔ </p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/reportpemra/status/1443995547686350857?s=20"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>خیال رہے کہ گزشتہ چند روز سے سوشل میڈیا پر میزبان جگن کاظم کے مارننگ شو کی ایک <a href="https://twitter.com/waseem786_/status/1443642492142952456"><strong>ویڈیو</strong></a> وائرل ہورہی ہے جسے شدید تنقید کا سامنا بھی ہے۔ </p>

<p>سوشل میڈیا پر جگن کاظم کے شو کے ایک سیگمنٹ پر تنقید کی جارہی ہے جس میں سیگمنٹ میں حصہ لینے والے افرا کو ہاتھوں کا استعمال کیے بغیر سیب کھانا تھا۔</p>

<p>ویڈیو میں مارننگ شو کے گیم سیگمنٹ میں شامل مرد اور خواتین پارٹنرز کو متنازع قرار دیے جانے والا مقابلہ پورا کرتے دیکھا گیا تھا۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1110028">جسمانی ساخت پر طنز کرنے والوں کو جگن کاظم کا کرارا جواب</a></strong></p>

<p>مذکورہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر <a href="https://twitter.com/hashtag/BoycottMorningWithJuggunKazim?src=hashtag_click"><strong>#BoycottMorningWithJuggunKazim</strong></a>کا  ہیش ٹیگ بھی ٹرینڈ کررہا تھا اور  پیمرا سے میزبان کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ بھی کیا جارہا تھا۔ </p>

<p>جگن کاظم کے جس <a href="https://www.youtube.com/watch?v=97L9kgXEfOw"><strong>پروگرام</strong></a> کی ویڈیو وائرل ہوئی وہ 24 ستمبر کی صبح نشر ہوا تھا تاہم ویڈیو کچھ روز بعد وائرل ہوئی تھی۔</p>

<p>خیال رہے کہ مارننگ شوز کی میزبانوں کو اپنے شوز کے سیگمنٹس یا ان میں دیے گئے متنازع بیانات کی وجہ سے تنقید کا سامنا  رہتا ہے۔ </p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1169739</guid>
      <pubDate>Sat, 02 Oct 2021 12:32:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/10/61580a6773ef5.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/10/61580a6773ef5.jpg"/>
        <media:title>پیمرا نے نوٹس جاری کرتے ہوئے وائرل ویڈیو کے معاملے پر چینل سے7 یوم میں جواب بھی طلب کرلیا ہے—فوٹو: انسٹاگرام
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
