<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 06:37:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 06:37:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ویکسینیشن کے چند ماہ بعد کووڈ سے تحفظ کیلئے بوسٹر ڈوز ضروری ہے، تحقیق
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1170652/</link>
      <description>&lt;p&gt;کووڈ 19 سے تحفظ کے لیے ویکسینیشن مکمل کرانے کے 3 ماہ بعد بریک تھرو انفیکشن (ویکسینیشن کے بعد بیمار ہونے والے افراد کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح) کا امکان کافی حد تک بڑھ جاتا ہے اور اس سے تحفظ کے لیے بوسٹر ڈوز ضروری ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی &lt;a href="https://www.theguardian.com/world/2021/oct/14/covid-booster-shots-important-to-stop-infection-finds-english-study"&gt;&lt;strong&gt;تحقیق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں سامنے آیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امپرئیل کالج لندن کی اس کی تحقیق میں ایک لاکھ سے زیادہ سواب نمونوں کا تجزیہ کرنے پر دریافت کیا گیا کہ کووڈ کی شرح ویکسینیشن کرانے والوں کے مقابلے میں اس سے دور رہنے والوں میں 3 سے 4 گنا زیادہ ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر ویکسین کی 2 خوراکیں استعمال کرنے والے افراد میں 3 ماہ بعد بیماری کی شرح 1.76 فیصد ریکارڈ ہوئی جبکہ ویکسینیشن نہ کرانے والوں میں یہ 0.35 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح دوسری خوراک کے استعمال کے 3 سے 6 ماہ کے دوران اس شرح میں مزید 0.55 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں یہ عندیہ دیا گیا کہ کووڈ 19 کے خلاف ملنے والا تحفظ ویکسینیشن کے چند ماہ بعد کم ہونے لگتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دیگر تحقیقی رپورٹس میں بھی یہی بات سامنے آئی ہے مگر ان میں یہ بھی بتایا گیا کہ ہسپتال میں داخلے اور موت کے خطرے سے ویکسینیشن سے ملنے والا تحفظ زیادہ ٹھوس ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس نئی تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ وقت گزرنے کے ساتھ بریک تھرو انفیکشنز کی شرح میں ممکنہ اضافہ بوسٹر پروگرام کی ضرورت کا احساس دلاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جب ویکسین کی اضافی خوراک دستیاب ہو تو لوگوں کو اس کا استعمال کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ نتائج اس وقت سامنے آئے ہیں جب برطانیہ میں نئے کووڈ کیسز کی تعداد جولائی کے بعد سب سے زیادہ 42 ہزار 776 ریکارڈ ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق میں 9 سے 27 ستمبر کے دوران اکٹھے کیے گئے ایک لاکھ سے زیادہ سواب نمونوں کا تجزیہ کیا گیا اور اس کا موازنہ جون اور جولائی میں جمع کیے گئے 98 ہزار سے زیادہ نمونوں سے کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق کے ابتدائی نتائج سے معلوم ہوا کہ ستمبر میں کیسز کی سب سے زیادہ شرح 5 سے 17 سال کی عمر کے گروپ میں تھی جن میں مثبت ٹیسٹنگ کی شرح 2.5 فیصد رہی جس کے بعد 35 سے 54 سال کی عمر کا گروپ تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق ویکسینیشن سے بیماری کا خطرہ (علامات یا بغیر علامات والی بیماری) 60 فیصد تک کم ہوجاتا ہے اور اس حوالے سے فائزر ویکسین ایسٹرا زینیکا سے زیادہ مؤثر نظر آتی ہے، مگر چونکہ مختلف عمر کے گروپس کی ویکسینیشن مختلف مہینوں میں ہوئی تو براہ راست موازنہ ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حالیہ تحقیقی رپورٹس میں بھی بتایا گیاک ہ ویکسینیشن کے چند ماہ بعد وائرس ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کی سطح میں کمی آنے لگتی ہے مگر ویکسین کی 2 خوراکیں بیماری کی سنگین شدت کے خلاف کم از کم 6 ماہ تک ٹھوس تحفظ (90 فیصد تک) فراہم کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس نئی تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے اور اس پر اب بھی کام جاری ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کووڈ 19 سے تحفظ کے لیے ویکسینیشن مکمل کرانے کے 3 ماہ بعد بریک تھرو انفیکشن (ویکسینیشن کے بعد بیمار ہونے والے افراد کے لیے استعمال ہونے والی اصطلاح) کا امکان کافی حد تک بڑھ جاتا ہے اور اس سے تحفظ کے لیے بوسٹر ڈوز ضروری ہے۔</p>

<p>یہ دعویٰ برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی <a href="https://www.theguardian.com/world/2021/oct/14/covid-booster-shots-important-to-stop-infection-finds-english-study"><strong>تحقیق</strong></a> میں سامنے آیا۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>امپرئیل کالج لندن کی اس کی تحقیق میں ایک لاکھ سے زیادہ سواب نمونوں کا تجزیہ کرنے پر دریافت کیا گیا کہ کووڈ کی شرح ویکسینیشن کرانے والوں کے مقابلے میں اس سے دور رہنے والوں میں 3 سے 4 گنا زیادہ ہوتی ہے۔</p>

<p>مگر ویکسین کی 2 خوراکیں استعمال کرنے والے افراد میں 3 ماہ بعد بیماری کی شرح 1.76 فیصد ریکارڈ ہوئی جبکہ ویکسینیشن نہ کرانے والوں میں یہ 0.35 فیصد تھی۔</p>

<p>اسی طرح دوسری خوراک کے استعمال کے 3 سے 6 ماہ کے دوران اس شرح میں مزید 0.55 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔</p>

<p>تحقیق میں یہ عندیہ دیا گیا کہ کووڈ 19 کے خلاف ملنے والا تحفظ ویکسینیشن کے چند ماہ بعد کم ہونے لگتا ہے۔</p>

<p>دیگر تحقیقی رپورٹس میں بھی یہی بات سامنے آئی ہے مگر ان میں یہ بھی بتایا گیا کہ ہسپتال میں داخلے اور موت کے خطرے سے ویکسینیشن سے ملنے والا تحفظ زیادہ ٹھوس ہوتا ہے۔</p>

<p>اس نئی تحقیق میں شامل ماہرین نے بتایا کہ وقت گزرنے کے ساتھ بریک تھرو انفیکشنز کی شرح میں ممکنہ اضافہ بوسٹر پروگرام کی ضرورت کا احساس دلاتا ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ جب ویکسین کی اضافی خوراک دستیاب ہو تو لوگوں کو اس کا استعمال کرنا چاہیے۔</p>

<p>یہ نتائج اس وقت سامنے آئے ہیں جب برطانیہ میں نئے کووڈ کیسز کی تعداد جولائی کے بعد سب سے زیادہ 42 ہزار 776 ریکارڈ ہوئی ہے۔</p>

<p>اس تحقیق میں 9 سے 27 ستمبر کے دوران اکٹھے کیے گئے ایک لاکھ سے زیادہ سواب نمونوں کا تجزیہ کیا گیا اور اس کا موازنہ جون اور جولائی میں جمع کیے گئے 98 ہزار سے زیادہ نمونوں سے کیا گیا۔</p>

<p>تحقیق کے ابتدائی نتائج سے معلوم ہوا کہ ستمبر میں کیسز کی سب سے زیادہ شرح 5 سے 17 سال کی عمر کے گروپ میں تھی جن میں مثبت ٹیسٹنگ کی شرح 2.5 فیصد رہی جس کے بعد 35 سے 54 سال کی عمر کا گروپ تھا۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>تحقیق کے مطابق ویکسینیشن سے بیماری کا خطرہ (علامات یا بغیر علامات والی بیماری) 60 فیصد تک کم ہوجاتا ہے اور اس حوالے سے فائزر ویکسین ایسٹرا زینیکا سے زیادہ مؤثر نظر آتی ہے، مگر چونکہ مختلف عمر کے گروپس کی ویکسینیشن مختلف مہینوں میں ہوئی تو براہ راست موازنہ ممکن نہیں۔</p>

<p>حالیہ تحقیقی رپورٹس میں بھی بتایا گیاک ہ ویکسینیشن کے چند ماہ بعد وائرس ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کی سطح میں کمی آنے لگتی ہے مگر ویکسین کی 2 خوراکیں بیماری کی سنگین شدت کے خلاف کم از کم 6 ماہ تک ٹھوس تحفظ (90 فیصد تک) فراہم کرتی ہیں۔</p>

<p>اس نئی تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے اور اس پر اب بھی کام جاری ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1170652</guid>
      <pubDate>Thu, 14 Oct 2021 18:10:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/10/61682ba39ffe0.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/10/61682ba39ffe0.jpg"/>
        <media:title>یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
