<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 06:25:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 06:25:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کووڈ 19 سے تحفظ کے لیے ویکسینیشن کا ایک اور فائدہ دریافت
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1170670/</link>
      <description>&lt;p&gt;کووڈ 19 سے بچاؤ کے لیے اگر آپ ویکسینیشن کراتے ہیں تو اس کا فائدہ صرف آپ کو ہی نہیں بلکہ گھر کے ایسے افراد کو بھی ہوتا ہے جن کی ویکسنیشن نہیں ہوتی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بات سوئیڈن میں ہونے والی ایک نئی طبی &lt;a href="https://www.webmd.com/vaccines/covid-19-vaccine/news/20211013/one-vaccinated-member-can-cut-family-covid-risk"&gt;&lt;strong&gt;تحقیق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں سامنے آئی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اومیو یونیورسٹی کے گیریاٹرک میڈیسین یونٹ کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ ویکسینز سے دور رہنے والے خاندان کا ایک فرد بھی اگر ویکسینیشن کرالیتا ہے تو دیگر افراد میں کووڈ 19 سے متاثر ہونے یا ہسپتال میں داخلے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے بتایا کہ تحقیق کا پیغام عوامی صحت کے لیے بہت اہم ہے اور وہ یہ ہے کہ جب آپ ویکسینیشن کراتے ہیں تو نہ صرف خود بلکہ اپنے پیاروں کو بھی تحفظ فراہم کررہے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق میں سوئیڈن کے 8 لاکھ 14 ہزار 806 خاندانوں کے 17 لاکھ 89 ہزار 728 افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان سب افراد میں کووڈ 19 کے خلاف مدافعت بیماری کے باعث یا ویکسینیشن (موڈرنا، فائزر یا ایسٹرازینیکا ویکسینز) مکمل ہونے سے پیدا ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ہر فرد میں بیماری کے خلاف پیدا ہونے والی مزاحمت کا موازنہ ایسے افراد کے خاندانوں سے کیا گیا جن میں بیماری کے خلاف مدافعت پیدا نہیں ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ خاندان میں ایک فرد کی ویکسینیشن سے گھر کے دیگر افراد میں کووڈ 19 سے متاثر ہونے کا خطرہ 45 سے 61 فیصد تک کم ہوگیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق یہ خطرہ اس وقت 75 سے 86 فیصد تک گھٹ گیا جب خاندان کے 2 افراد میں بیماری کے خلاف مدافعت پیدا ہوگئی جبکہ 3 افراد میں مدافعت پیدا ہونے سے یہ شرح 91 سے 94 فیصد اور 4 افراد سے 97 فیصد تک بڑھ گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے بتایا کہ ویکسینیشن کا ایسا ہی اثر ویکسینیشن نہ کرانے والے گھر کے افراد میں بیماری کی کم شدت یا ہسپتال میں داخلے کے خطرے میں کمی کی شکل میں دریافت کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مثال کے طور پر اگر ایک خاندان میں 3 افراد ہیں اور 2 کی ویکسینیشن ہوچکی ہیں تو باقی بچ جانے والے فرد میں بیماری سے ہسپتال میں داخلے کا خطرہ 80 فیصد تک کم ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کے مطابق خاندان میں ویکسینیشن سے ملنے والے تحفظ کی جانچ پڑتال اس لیے کی گئی کیونکہ یہ زیادہ آسانی سے قابل شناخت عمل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بہت کم افراد کی ویکسینیشن ہوئی ہے اور ایسا نظر آتا ہے کہ کم آمدنی والے ممالک میں 2021 میں ویکسینز کی دستیابی ممکن نہیں ہوگی اور موجودہ شرح سے عندیہ ملتا ہے کہ عالمی سطح پر 70 سے 85 فیصد آبادی کی ویکسینیشن ہونے پر 5 سال لگ سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ تحقیق کے نتائج سے کم وسائل والے علاقوں میں چھوٹے پیمانے پر آغاز کرنے کا عزم پیدا کرنے میں مدد مل سکے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے تسلیم کیا کہ تحقیق کسی حد تک محدود تھی کیونکہ جب تحقیق پر کام ہورہا تھا تو کورونا کی قسم ڈیلٹا سوئیڈن میں عام نہیں تھی تو یہ واضح نہیں کہ موجودہ نتائج ڈیلٹا کی زیادہ شرح کا سامنا کرنے والے خطوں میں بیماری کے خلاف مدافعت کے حوالے سے کس حد تک مطابقت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جاما انٹرنل میڈیسین میں شائع ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کووڈ 19 سے بچاؤ کے لیے اگر آپ ویکسینیشن کراتے ہیں تو اس کا فائدہ صرف آپ کو ہی نہیں بلکہ گھر کے ایسے افراد کو بھی ہوتا ہے جن کی ویکسنیشن نہیں ہوتی۔</p>

<p>یہ بات سوئیڈن میں ہونے والی ایک نئی طبی <a href="https://www.webmd.com/vaccines/covid-19-vaccine/news/20211013/one-vaccinated-member-can-cut-family-covid-risk"><strong>تحقیق</strong></a> میں سامنے آئی۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اومیو یونیورسٹی کے گیریاٹرک میڈیسین یونٹ کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ ویکسینز سے دور رہنے والے خاندان کا ایک فرد بھی اگر ویکسینیشن کرالیتا ہے تو دیگر افراد میں کووڈ 19 سے متاثر ہونے یا ہسپتال میں داخلے کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔</p>

<p>محققین نے بتایا کہ تحقیق کا پیغام عوامی صحت کے لیے بہت اہم ہے اور وہ یہ ہے کہ جب آپ ویکسینیشن کراتے ہیں تو نہ صرف خود بلکہ اپنے پیاروں کو بھی تحفظ فراہم کررہے ہوتے ہیں۔</p>

<p>اس تحقیق میں سوئیڈن کے 8 لاکھ 14 ہزار 806 خاندانوں کے 17 لاکھ 89 ہزار 728 افراد کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا۔</p>

<p>ان سب افراد میں کووڈ 19 کے خلاف مدافعت بیماری کے باعث یا ویکسینیشن (موڈرنا، فائزر یا ایسٹرازینیکا ویکسینز) مکمل ہونے سے پیدا ہوئی تھی۔</p>

<p>ہر فرد میں بیماری کے خلاف پیدا ہونے والی مزاحمت کا موازنہ ایسے افراد کے خاندانوں سے کیا گیا جن میں بیماری کے خلاف مدافعت پیدا نہیں ہوئی تھی۔</p>

<p>تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ خاندان میں ایک فرد کی ویکسینیشن سے گھر کے دیگر افراد میں کووڈ 19 سے متاثر ہونے کا خطرہ 45 سے 61 فیصد تک کم ہوگیا۔</p>

<p>تحقیق کے مطابق یہ خطرہ اس وقت 75 سے 86 فیصد تک گھٹ گیا جب خاندان کے 2 افراد میں بیماری کے خلاف مدافعت پیدا ہوگئی جبکہ 3 افراد میں مدافعت پیدا ہونے سے یہ شرح 91 سے 94 فیصد اور 4 افراد سے 97 فیصد تک بڑھ گئی۔</p>

<p>محققین نے بتایا کہ ویکسینیشن کا ایسا ہی اثر ویکسینیشن نہ کرانے والے گھر کے افراد میں بیماری کی کم شدت یا ہسپتال میں داخلے کے خطرے میں کمی کی شکل میں دریافت کیا گیا۔</p>

<p>مثال کے طور پر اگر ایک خاندان میں 3 افراد ہیں اور 2 کی ویکسینیشن ہوچکی ہیں تو باقی بچ جانے والے فرد میں بیماری سے ہسپتال میں داخلے کا خطرہ 80 فیصد تک کم ہوجائے گا۔</p>

<p>محققین کے مطابق خاندان میں ویکسینیشن سے ملنے والے تحفظ کی جانچ پڑتال اس لیے کی گئی کیونکہ یہ زیادہ آسانی سے قابل شناخت عمل ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ عالمی سطح پر بہت کم افراد کی ویکسینیشن ہوئی ہے اور ایسا نظر آتا ہے کہ کم آمدنی والے ممالک میں 2021 میں ویکسینز کی دستیابی ممکن نہیں ہوگی اور موجودہ شرح سے عندیہ ملتا ہے کہ عالمی سطح پر 70 سے 85 فیصد آبادی کی ویکسینیشن ہونے پر 5 سال لگ سکتے ہیں۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1149579' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/large/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2020/01/5e307ab0c9c0b.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ تحقیق کے نتائج سے کم وسائل والے علاقوں میں چھوٹے پیمانے پر آغاز کرنے کا عزم پیدا کرنے میں مدد مل سکے گی۔</p>

<p>انہوں نے تسلیم کیا کہ تحقیق کسی حد تک محدود تھی کیونکہ جب تحقیق پر کام ہورہا تھا تو کورونا کی قسم ڈیلٹا سوئیڈن میں عام نہیں تھی تو یہ واضح نہیں کہ موجودہ نتائج ڈیلٹا کی زیادہ شرح کا سامنا کرنے والے خطوں میں بیماری کے خلاف مدافعت کے حوالے سے کس حد تک مطابقت رکھتے ہیں۔</p>

<p>اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جاما انٹرنل میڈیسین میں شائع ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1170670</guid>
      <pubDate>Thu, 14 Oct 2021 22:15:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/10/6168654b7b221.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/10/6168654b7b221.jpg"/>
        <media:title>یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
