<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Parenting</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 19:18:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 19:18:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کووڈ 19 سے معمولی بیمار بچوں میں اینٹی باڈیز نہ بننے کا امکان
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1171146/</link>
      <description>&lt;p&gt;کورونا وائرس کی معمولی شدت سے متاثر ہونے والے بچوں میں بیماری کو شکست دینے کے بعد اینٹی باڈیز بننے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک نئی طبی &lt;a href="https://www.medrxiv.org/content/10.1101/2021.10.17.21265121v1"&gt;&lt;strong&gt;تحقیق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں سامنے آئی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1170676' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/10/6171b2178835f.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/6171b2178835f.png 280w, https://i.dawn.com/large/2021/10/6171b2178835f.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/6171b2178835f.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق میں 57 بچوں اور 51 بالغ افراد کا جائزہ لیا گیا تھا جن میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان سب میں کووڈ کی شدت معمولی تھی یا علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کی جانچ پڑتال سے صرف 37 فیصد بچوں میں بیماری کے خلاف مزاحمت کرنے والی اینٹی باڈی کو دریافت کیا گیا جبکہ بالغ افراد میں یہ شرح 76 فیصد رہی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کے مطابق دونوں گروپس میں وائرل لوڈ لگ بھگ یکساں تھا مگر پھر بھی بچوں میں اینٹی باڈیز بننے کی شرح بالغ افراد کے مقابلے میں کم تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ بچوں کے جسم میں خلیاتی مدافعتی ردعمل بھی اس طرح نہیں بنا جیسا بالغ افراد میں دیکھنے میں آیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مردوخ چلڈرنز ریسرچ انسٹیٹوٹ کی اس تحقیق میں شامل تمام افراد 2020 میں اس بیماری سے متاثر ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے بتایا کہ اس وقت گردش کرنے والے کورونا کی قسم (ڈیلٹا) سے متاثر بچوں میں بھی ایسا ہورہا ہے، اس بارے میں ابھی تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح یہ سمجھنے کے لیے بھی تحقیقی کام کی ضرورت ہے کہ آخر بچوں میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد اینٹی باڈی ردعمل بننے کا امکان کم کیوں ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ اب اینٹی باڈیز نہ بننے کی وجہ سے بچوں میں ری انفیکشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے یا نہیں، یہ بھی ابھی معلوم نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے بلکہ پری پرنٹ سرور medRxiv پر جاری کیے گئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کورونا وائرس کی معمولی شدت سے متاثر ہونے والے بچوں میں بیماری کو شکست دینے کے بعد اینٹی باڈیز بننے کا امکان بہت کم ہوتا ہے۔</p>

<p>یہ بات آسٹریلیا میں ہونے والی ایک نئی طبی <a href="https://www.medrxiv.org/content/10.1101/2021.10.17.21265121v1"><strong>تحقیق</strong></a> میں سامنے آئی۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1170676' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/10/6171b2178835f.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/6171b2178835f.png 280w, https://i.dawn.com/large/2021/10/6171b2178835f.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/6171b2178835f.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس تحقیق میں 57 بچوں اور 51 بالغ افراد کا جائزہ لیا گیا تھا جن میں کووڈ 19 کی تشخیص ہوئی تھی۔</p>

<p>ان سب میں کووڈ کی شدت معمولی تھی یا علامات ظاہر نہیں ہوئی تھیں۔</p>

<p>محققین کی جانچ پڑتال سے صرف 37 فیصد بچوں میں بیماری کے خلاف مزاحمت کرنے والی اینٹی باڈی کو دریافت کیا گیا جبکہ بالغ افراد میں یہ شرح 76 فیصد رہی۔</p>

<p>محققین کے مطابق دونوں گروپس میں وائرل لوڈ لگ بھگ یکساں تھا مگر پھر بھی بچوں میں اینٹی باڈیز بننے کی شرح بالغ افراد کے مقابلے میں کم تھی۔</p>

<p>تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ بچوں کے جسم میں خلیاتی مدافعتی ردعمل بھی اس طرح نہیں بنا جیسا بالغ افراد میں دیکھنے میں آیا۔</p>

<p>مردوخ چلڈرنز ریسرچ انسٹیٹوٹ کی اس تحقیق میں شامل تمام افراد 2020 میں اس بیماری سے متاثر ہوئے تھے۔</p>

<p>محققین نے بتایا کہ اس وقت گردش کرنے والے کورونا کی قسم (ڈیلٹا) سے متاثر بچوں میں بھی ایسا ہورہا ہے، اس بارے میں ابھی تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔</p>

<p>اسی طرح یہ سمجھنے کے لیے بھی تحقیقی کام کی ضرورت ہے کہ آخر بچوں میں کورونا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد اینٹی باڈی ردعمل بننے کا امکان کم کیوں ہوتا ہے۔</p>

<p>انہوں نے مزید کہا کہ اب اینٹی باڈیز نہ بننے کی وجہ سے بچوں میں ری انفیکشن کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے یا نہیں، یہ بھی ابھی معلوم نہیں۔</p>

<p>اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے بلکہ پری پرنٹ سرور medRxiv پر جاری کیے گئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Parenting</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1171146</guid>
      <pubDate>Thu, 21 Oct 2021 23:32:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/10/6171b1a3e0241.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/10/6171b1a3e0241.jpg"/>
        <media:title>یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
