<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 20:15:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 20:15:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کووڈ ویکسینیشن کرانے والوں میں دیگر وجوہات سے بھی موت کا خطرہ کم ہوتا ہے، تحقیق
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1171482/</link>
      <description>&lt;p&gt;کورونا وائرس سے تحفظ کے لیے ویکسینیشن کرانا نہ صرف کووڈ 19 سے موت کا خطرہ نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے بلکہ اس سے آنے والے مہینوں میں کسی بھی بیماری یا وجہ سے موت کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی &lt;a href="https://www.webmd.com/vaccines/covid-19-vaccine/news/20211025/people-vacccinated-covid-less-likely-die-any-cause-study"&gt;&lt;strong&gt;تحقیق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں سامنے آیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن اور 7 امریکی رایستوں کے ہیلتھ کیئر گروپس کی اس تحقیق میں امریکا میں استعمال ہونے والی 3 ویکسینز کے محفوظ ہونے کا جائزہ لیا جارہا تھا جس کے دوران ویکسینیشن کا یہ فائدہ دریافت ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے بتایا کہ منظور شدہ ویکسینز بار بار محفوظ ثابت ہوئی ہیں اور اس تحقیق میں بھی ان کے محفوظ ہونے کی تصدیق ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ درحقیقت تحقیق سے ثابت ہوا کہ کووڈ 19 سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن کرانے والے افراد میں شرح اموات ویکسین سے دور رہنے والوں سے کم ریکارڈ ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ نتائج سے دیگر تحقیقی رپورٹس میں دریافت ہونے والے شواہد کو تقویت ملتی ہے کہ ویکسینز کووڈ 19 سے متاثر ہونے، سنگین بیماری اور موت کے خلاف مؤثر ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق میں ایک کروڑ 10 لاکھ افراد کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی تھی جن میں سے 64 لاکھ نے کووڈ 19 ویکسینز کا استعمال کیا تھا جبکہ 46 لاکھ افراد نے حالیہ برسوں میں فلو سے بچاؤ کی ویکسینیشن کرائی تھی مگر کووڈ 19 ویکسین کا استعمال نہیں کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے تجزیے کے دوران کووڈ 19 سے ہلاک ہونے والے کو دیگر وجوہات کے باعث ہلاک ہونے والوں سے الگ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نتائج سے معلوم ہوا کہ دسمبر 2020 سے جولائی 2021 کے دوران کووڈ ویکسینز استعمال کرنے والے افراد میں کورونا سے ہٹ کر دیگر وجوہات کے باعث اموات کی شرح ویکسینیشن نہ کرانے والوں کے مقابلے میں کم تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں بتایا گیا کہ جن افراد نے فائزر ویکسین کی 2 خوراکیں استعمال کی تھیں ان میں کووڈ سے ہٹ کر دیگر وجوہات سے موت کا امکان ویکسینیشن نہ کرانے والوں کے مقابلے میں آنے والے مہینوں میں 34 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;موڈرنا ویکسین استعمال کرنے والوں میں یہ شرح 31 جبکہ جانسن اینڈ جانسن ویکسین استعمال کرنے والوں میں 54 فیصد تک ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کی وجہ تو سامنے نہیں آئی مگر ایک امکان یہ ہے کہ ویکسینیشن کرانے والے افراد دیگر کے مقابلے میں صحت مند ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1168797' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/large/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/6172ba546c03d.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے بتایا کہ وہ اس حوالے سے مستقبل میں مزید تحقیق کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ کووڈ 19 ویکسین سے موت کا خطرہ نہیں بڑھتا بلکہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکا میں منظور شدہ ویکسینز محفوظ ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق کے نتائج سی ڈی سی کے طبی جریدے Morbidity and Mortality Weekly Report میں شائع ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کورونا وائرس سے تحفظ کے لیے ویکسینیشن کرانا نہ صرف کووڈ 19 سے موت کا خطرہ نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے بلکہ اس سے آنے والے مہینوں میں کسی بھی بیماری یا وجہ سے موت کا امکان بھی کم ہوتا ہے۔</p>

<p>یہ دعویٰ امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی <a href="https://www.webmd.com/vaccines/covid-19-vaccine/news/20211025/people-vacccinated-covid-less-likely-die-any-cause-study"><strong>تحقیق</strong></a> میں سامنے آیا۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریونٹیشن اور 7 امریکی رایستوں کے ہیلتھ کیئر گروپس کی اس تحقیق میں امریکا میں استعمال ہونے والی 3 ویکسینز کے محفوظ ہونے کا جائزہ لیا جارہا تھا جس کے دوران ویکسینیشن کا یہ فائدہ دریافت ہوا۔</p>

<p>محققین نے بتایا کہ منظور شدہ ویکسینز بار بار محفوظ ثابت ہوئی ہیں اور اس تحقیق میں بھی ان کے محفوظ ہونے کی تصدیق ہوئی۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ درحقیقت تحقیق سے ثابت ہوا کہ کووڈ 19 سے بچاؤ کے لیے ویکسینیشن کرانے والے افراد میں شرح اموات ویکسین سے دور رہنے والوں سے کم ریکارڈ ہوئی۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ نتائج سے دیگر تحقیقی رپورٹس میں دریافت ہونے والے شواہد کو تقویت ملتی ہے کہ ویکسینز کووڈ 19 سے متاثر ہونے، سنگین بیماری اور موت کے خلاف مؤثر ہیں۔</p>

<p>اس تحقیق میں ایک کروڑ 10 لاکھ افراد کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی تھی جن میں سے 64 لاکھ نے کووڈ 19 ویکسینز کا استعمال کیا تھا جبکہ 46 لاکھ افراد نے حالیہ برسوں میں فلو سے بچاؤ کی ویکسینیشن کرائی تھی مگر کووڈ 19 ویکسین کا استعمال نہیں کیا۔</p>

<p>محققین نے تجزیے کے دوران کووڈ 19 سے ہلاک ہونے والے کو دیگر وجوہات کے باعث ہلاک ہونے والوں سے الگ کیا۔</p>

<p>نتائج سے معلوم ہوا کہ دسمبر 2020 سے جولائی 2021 کے دوران کووڈ ویکسینز استعمال کرنے والے افراد میں کورونا سے ہٹ کر دیگر وجوہات کے باعث اموات کی شرح ویکسینیشن نہ کرانے والوں کے مقابلے میں کم تھی۔</p>

<p>تحقیق میں بتایا گیا کہ جن افراد نے فائزر ویکسین کی 2 خوراکیں استعمال کی تھیں ان میں کووڈ سے ہٹ کر دیگر وجوہات سے موت کا امکان ویکسینیشن نہ کرانے والوں کے مقابلے میں آنے والے مہینوں میں 34 فیصد تک کم ہوسکتا ہے۔</p>

<p>موڈرنا ویکسین استعمال کرنے والوں میں یہ شرح 31 جبکہ جانسن اینڈ جانسن ویکسین استعمال کرنے والوں میں 54 فیصد تک ہوسکتا ہے۔</p>

<p>اس کی وجہ تو سامنے نہیں آئی مگر ایک امکان یہ ہے کہ ویکسینیشن کرانے والے افراد دیگر کے مقابلے میں صحت مند ہوتے ہیں۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1168797' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/large/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/6172ba546c03d.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>محققین نے بتایا کہ وہ اس حوالے سے مستقبل میں مزید تحقیق کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ کووڈ 19 ویکسین سے موت کا خطرہ نہیں بڑھتا بلکہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ امریکا میں منظور شدہ ویکسینز محفوظ ہیں۔</p>

<p>اس تحقیق کے نتائج سی ڈی سی کے طبی جریدے Morbidity and Mortality Weekly Report میں شائع ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1171482</guid>
      <pubDate>Tue, 26 Oct 2021 21:04:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/10/61782687b63bc.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/10/61782687b63bc.jpg"/>
        <media:title>یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
