<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Parenting</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 00:10:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 00:10:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کووڈ کی طویل المعیاد علامات کا سامنا بچوں کو بھی ہوسکتا ہے
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1171483/</link>
      <description>&lt;p&gt;کووڈ 19 کی طویل المعیاد علامات کا سامنا بالغ افراد کے ساتھ ساتھ بچوں کو بھی ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بات جرمنی میں ہونے والی ایک نئی طبی &lt;a href="https://www.medrxiv.org/content/10.1101/2021.10.21.21265133v1.full-text"&gt;&lt;strong&gt;تحقیق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں سامنے آئی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق میں بالغ افراد اور بچوں میں لانگ کووڈ کی جانچ پڑتال کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اب تک بالغ افراد پر لانگ کووڈ کے حوالے سے کافی تحقیقی کام ہوا ہے مگر بچوں میں زیادہ توجہ مرکوز نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق میں ہیلتھ انشورنس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں ایک لاکھ 57 ہزار سے زیادہ افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا اور دیکھا گیا کہ بیماری کو شکست دینے کے 3 ماہ بعد کتنے افراد کو تاحال علامات کا سامنا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نتائج سے عندیہ ملا کہ کووڈ 19 کے 30 فیصد مریضوں کو لانگ کووڈ کا سامنا ہوسکتا ہے، جن سے جسمانی، ذہنی صحت متاثر ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں شامل 6 فیصد بالغ جبکہ ایک فیصد بچے کووڈ 19 کے باعث ہسپتال میں داخل ہوئے تھے جبکہ 2 فیصد بالغ افراد اور 0.4 فیصد بچوں کو آئی سی یو نگہداشت یا وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق بچوں اور نوجوانوں میں خسرہ، مسلسل تھکاوٹ، کھانسی، گلے یا سینے میں تکلیف جیسی علامات نمایاں تھیں جبکہ سردرد، بخار، انزائٹی/ ڈپریشن امراض اور پیٹ درد کی شرح میں 50 سے 100 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح بالغ افراد کھانسی، بخار، سینے میں تکلیف، بال گرنا، سانس لینے میں مشکلات، سردرد اور خسرہ جیسی علامات کی شرح میں کئی گنا اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق چونکہ بچوں کے مقابلے میں کووڈ 19 کیسز کی شرح بالغ افراد میں 162 فیصد زیادہ ہے تو تو علامات میں فرق کی بڑی وجہ پھیپھڑوں سے جڑی علامات کا ہے اور بالغ افراد میں ہی لانگ کووڈ کی شرح 41 فیصد زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1168797' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/large/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/6172ba546c03d.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جن افراد کو ہسپتال یا آئی سی یو میں رہنا پڑا ان میں لانگ کووڈ کا خطرہ دیگر سے زیادہ ہوتا ہے چاہے عمر جو بھی ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ بچوں میں کووڈ کی طویل المعیاد علامات کا خطرہ ہوتا ہے مگر اب تک اس عمر کے گروپ کے حوالے سے شواہد کافی نہیں تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق کے نتائج کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے بلکہ پری پرنٹ سرور medRxiv پر جاری کیے گئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کووڈ 19 کی طویل المعیاد علامات کا سامنا بالغ افراد کے ساتھ ساتھ بچوں کو بھی ہوسکتا ہے۔</p>

<p>یہ بات جرمنی میں ہونے والی ایک نئی طبی <a href="https://www.medrxiv.org/content/10.1101/2021.10.21.21265133v1.full-text"><strong>تحقیق</strong></a> میں سامنے آئی۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس تحقیق میں بالغ افراد اور بچوں میں لانگ کووڈ کی جانچ پڑتال کی گئی تھی۔</p>

<p>اب تک بالغ افراد پر لانگ کووڈ کے حوالے سے کافی تحقیقی کام ہوا ہے مگر بچوں میں زیادہ توجہ مرکوز نہیں کی گئی۔</p>

<p>اس تحقیق میں ہیلتھ انشورنس فراہم کرنے والی کمپنیوں کے ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا تھا۔</p>

<p>تحقیق میں ایک لاکھ 57 ہزار سے زیادہ افراد کے ڈیٹا کا جائزہ لیا گیا اور دیکھا گیا کہ بیماری کو شکست دینے کے 3 ماہ بعد کتنے افراد کو تاحال علامات کا سامنا تھا۔</p>

<p>نتائج سے عندیہ ملا کہ کووڈ 19 کے 30 فیصد مریضوں کو لانگ کووڈ کا سامنا ہوسکتا ہے، جن سے جسمانی، ذہنی صحت متاثر ہوسکتی ہے۔</p>

<p>تحقیق میں شامل 6 فیصد بالغ جبکہ ایک فیصد بچے کووڈ 19 کے باعث ہسپتال میں داخل ہوئے تھے جبکہ 2 فیصد بالغ افراد اور 0.4 فیصد بچوں کو آئی سی یو نگہداشت یا وینٹی لیٹر کی ضرورت پڑی۔</p>

<p>تحقیق کے مطابق بچوں اور نوجوانوں میں خسرہ، مسلسل تھکاوٹ، کھانسی، گلے یا سینے میں تکلیف جیسی علامات نمایاں تھیں جبکہ سردرد، بخار، انزائٹی/ ڈپریشن امراض اور پیٹ درد کی شرح میں 50 سے 100 فیصد اضافہ ہوا۔</p>

<p>اسی طرح بالغ افراد کھانسی، بخار، سینے میں تکلیف، بال گرنا، سانس لینے میں مشکلات، سردرد اور خسرہ جیسی علامات کی شرح میں کئی گنا اضافہ ہوا۔</p>

<p>تحقیق کے مطابق چونکہ بچوں کے مقابلے میں کووڈ 19 کیسز کی شرح بالغ افراد میں 162 فیصد زیادہ ہے تو تو علامات میں فرق کی بڑی وجہ پھیپھڑوں سے جڑی علامات کا ہے اور بالغ افراد میں ہی لانگ کووڈ کی شرح 41 فیصد زیادہ ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1168797' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/large/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/6172ba546c03d.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>جن افراد کو ہسپتال یا آئی سی یو میں رہنا پڑا ان میں لانگ کووڈ کا خطرہ دیگر سے زیادہ ہوتا ہے چاہے عمر جو بھی ہو۔</p>

<p>محققین کا کہنا تھا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ بچوں میں کووڈ کی طویل المعیاد علامات کا خطرہ ہوتا ہے مگر اب تک اس عمر کے گروپ کے حوالے سے شواہد کافی نہیں تھے۔</p>

<p>اس تحقیق کے نتائج کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے بلکہ پری پرنٹ سرور medRxiv پر جاری کیے گئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Parenting</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1171483</guid>
      <pubDate>Wed, 27 Oct 2021 07:22:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/10/61783edcd5cb5.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/10/61783edcd5cb5.jpg"/>
        <media:title>یہ انکشاف ایک طبی تحقیق میں سامنے آیا — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
