<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 19:16:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 19:16:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نووا ویکس کووڈ ویکسین کی منظوری کی درخواست برطانیہ میں جمع
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1171549/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی کمپنی نووا ویکس نے اپنی کووڈ 19 ویکسین کے استعمال کی منظوری کے لیے برطانیہ میں درخواست جمع کرا دی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ &lt;a href="https://www.reuters.com/world/uk/novavax-files-covid-19-vaccines-uk-authorization-2021-10-27/"&gt;&lt;strong&gt;درخواست&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; ویکسین کے آخری مرحلے کے ٹرائل کے ڈیٹا کی بنیاد پر جمع کرائی گئی جس میں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 15 ہزار افراد کو شامل کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1155862"&gt;&lt;strong&gt;اس ٹرائل میں دریافت کیا گیا تھا&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کہ نووا ویکس کی تیار کردہ ویکسین کورونا وائرس کی اوریجنل قسم سے ہونے والی بیماری سے 96 فیصد تک تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;برطانیہ میں آخری مرحلے کے ٹرائل کے نتائج &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1152882/"&gt;&lt;strong&gt;جنوری 2021 میں جاری ہونے والے عارضی نتائج&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; سے مطابقت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ابتدائی نتائج میں بھی بتایا گیا تھا کہ یہ ویکسین وائرس کی اصل قسم کے خلاف 89.3 فیصد تک مؤثر ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بھی بتایا گیا تھا کہ یہ ویکسین برطانیہ میں دریافت ہونے والی کورونا وائرس کی نئی قسم کے خلاف 85.6 فیصد تک مؤثر ہے جو حوصلہ افزا ہے، تاہم جنوبی افریقہ میں دریافت قسم کے خلاف افادیت 60 فیصد کے قریب ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اب جمع کرائی گئی درخواست میں امریکا اور میکسیکو میں 30 ہزار افراد پر آخری مرحلے کے ٹرائل کا ڈیٹا بھی شامل ہے جس کے مطابق این وی ایکس کو وی 2373 نامی یہ ویکسین بیماری کی معتدل اور سنگین شدت سے 100 فیصد تحفظ فراہم کرتی ہے جبکہ اس کی مجموعی افادیت 90.4 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;برطانیہ میں اب تک 76.1 فیصد آبادی کی کووڈ ویکسینیشن مکمل ہوچکی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر حالیہ دنوں میں وہاں کووڈ کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور وزیراعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ اب حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤنز کی بجائے ویکسینز پر انحصار کیا جائے گا تاکہ مشکل موسم سرما سے گزرا جاسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نووا ویکس نے اگست میں امریکا میں اپنی ویکسین کے استعمال کی درخواست 2021 کی چوتھی سہ ماہ کے آخر تک جمع کرانے کا اعلان کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس وقت کمپنی کا کہنا تھا کہ اس کی جانب سے ابتدائی طور پر کم آمدنی والے ممالک کو ترجیح دی جائے گی جن کو ویکسین کی خوراکوں کی اشد ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمپنی کے مطابق امریکا میں ویکسین کے استعمال کی منظوری کی درخواست سال کے آخر تک کرائی جاسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ ماہ نووا ویکس اور سیرم انسٹیٹوٹ آف انڈیا نے عالمی ادارہ صحت میں اس ویکسین کے ہنگامی استعمال کی منظوری کے لیے درخواست جمع کرائی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کا مقصد کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں اس ویکسین کو فراہم کرنا ہے کیونکہ امریکا اور یورپ میں پہلے ہی فائزر، موڈرنا، جانسن اینڈ جانسن اور ایسٹرا زینیکا ویکسینز کو عام استعمال کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1168797' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/large/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/6172ba546c03d.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح نووا ویکس نے بھارت، انڈونیشیا اور فلپائن میں بھی ویکسین کی منظوری کے لیے درخواستیں جم کرائی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمپنی نے بتایا کہ توقع ہے کہ جلد یورپ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور عالمی ادارہ صحت کے لیے اضافی ریگولیٹری پراسیس کو مکمل کرلیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ ویکسین 2 خوراکوں میں استعمال کی جائے گی اور اسے 8 مقامات پر تیار کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی کمپنی نووا ویکس نے اپنی کووڈ 19 ویکسین کے استعمال کی منظوری کے لیے برطانیہ میں درخواست جمع کرا دی ہے۔</p>

<p>یہ <a href="https://www.reuters.com/world/uk/novavax-files-covid-19-vaccines-uk-authorization-2021-10-27/"><strong>درخواست</strong></a> ویکسین کے آخری مرحلے کے ٹرائل کے ڈیٹا کی بنیاد پر جمع کرائی گئی جس میں برطانیہ سے تعلق رکھنے والے 15 ہزار افراد کو شامل کیا گیا تھا۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1155862"><strong>اس ٹرائل میں دریافت کیا گیا تھا</strong></a> کہ نووا ویکس کی تیار کردہ ویکسین کورونا وائرس کی اوریجنل قسم سے ہونے والی بیماری سے 96 فیصد تک تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔</p>

<p>برطانیہ میں آخری مرحلے کے ٹرائل کے نتائج <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1152882/"><strong>جنوری 2021 میں جاری ہونے والے عارضی نتائج</strong></a> سے مطابقت رکھتے ہیں۔</p>

<p>ابتدائی نتائج میں بھی بتایا گیا تھا کہ یہ ویکسین وائرس کی اصل قسم کے خلاف 89.3 فیصد تک مؤثر ہے۔</p>

<p>یہ بھی بتایا گیا تھا کہ یہ ویکسین برطانیہ میں دریافت ہونے والی کورونا وائرس کی نئی قسم کے خلاف 85.6 فیصد تک مؤثر ہے جو حوصلہ افزا ہے، تاہم جنوبی افریقہ میں دریافت قسم کے خلاف افادیت 60 فیصد کے قریب ہے۔</p>

<p>اب جمع کرائی گئی درخواست میں امریکا اور میکسیکو میں 30 ہزار افراد پر آخری مرحلے کے ٹرائل کا ڈیٹا بھی شامل ہے جس کے مطابق این وی ایکس کو وی 2373 نامی یہ ویکسین بیماری کی معتدل اور سنگین شدت سے 100 فیصد تحفظ فراہم کرتی ہے جبکہ اس کی مجموعی افادیت 90.4 فیصد ہے۔</p>

<p>برطانیہ میں اب تک 76.1 فیصد آبادی کی کووڈ ویکسینیشن مکمل ہوچکی ہے۔</p>

<p>مگر حالیہ دنوں میں وہاں کووڈ کیسز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور وزیراعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ اب حکومت کی جانب سے لاک ڈاؤنز کی بجائے ویکسینز پر انحصار کیا جائے گا تاکہ مشکل موسم سرما سے گزرا جاسکے۔</p>

<p>نووا ویکس نے اگست میں امریکا میں اپنی ویکسین کے استعمال کی درخواست 2021 کی چوتھی سہ ماہ کے آخر تک جمع کرانے کا اعلان کیا تھا۔</p>

<p>اس وقت کمپنی کا کہنا تھا کہ اس کی جانب سے ابتدائی طور پر کم آمدنی والے ممالک کو ترجیح دی جائے گی جن کو ویکسین کی خوراکوں کی اشد ضرورت ہے۔</p>

<p>کمپنی کے مطابق امریکا میں ویکسین کے استعمال کی منظوری کی درخواست سال کے آخر تک کرائی جاسکتی ہے۔</p>

<p>گزشتہ ماہ نووا ویکس اور سیرم انسٹیٹوٹ آف انڈیا نے عالمی ادارہ صحت میں اس ویکسین کے ہنگامی استعمال کی منظوری کے لیے درخواست جمع کرائی تھی۔</p>

<p>اس کا مقصد کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں اس ویکسین کو فراہم کرنا ہے کیونکہ امریکا اور یورپ میں پہلے ہی فائزر، موڈرنا، جانسن اینڈ جانسن اور ایسٹرا زینیکا ویکسینز کو عام استعمال کیا جارہا ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1168797' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/large/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/6172ba546c03d.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اسی طرح نووا ویکس نے بھارت، انڈونیشیا اور فلپائن میں بھی ویکسین کی منظوری کے لیے درخواستیں جم کرائی ہیں۔</p>

<p>کمپنی نے بتایا کہ توقع ہے کہ جلد یورپ، کینیڈا، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور عالمی ادارہ صحت کے لیے اضافی ریگولیٹری پراسیس کو مکمل کرلیا جائے گا۔</p>

<p>یہ ویکسین 2 خوراکوں میں استعمال کی جائے گی اور اسے 8 مقامات پر تیار کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1171549</guid>
      <pubDate>Wed, 27 Oct 2021 20:18:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/10/61796bf282acd.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/10/61796bf282acd.jpg"/>
        <media:title>کمپنی کی جانب سے سال کے آخر تک امریکا میں درخواست جمع کرائی جائے گی — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
