<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 22:25:13 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 22:25:13 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نووا ویکس کووڈ ویکسین کو پہلے ملک میں ہنگامی استعمال کی منظوری حاصل
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1171820/</link>
      <description>&lt;p&gt;نووا ویکس اور اس کے شراکت دار سیرم انسٹیٹوٹ آف انڈیا کی تیار کردہ کووڈ 19 ویکسین کو پہلے ملک میں ایمرجنسی استعمال کی منظوری حاصل ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کمپنیوں کی جانب سے ایک &lt;a href="https://www.reuters.com/business/healthcare-pharmaceuticals/novavax-covid-19-vaccine-receives-emergency-use-authorization-indonesia-2021-11-01/"&gt;&lt;strong&gt;بیان&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں بتایا گیا کہ انڈونیشیا میں ان کی کووڈ 19 ویکسین کو استعمال کی منظوری حاصل ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ نووا ویکس کی جانب سے برطانیہ، بھارت، آسٹریلیا، فلپائن اور یورپین میڈیسین ایجنسی کے پاس بھی ویکسین کی منظوری کے لیے درخواستیں جمع کرائی جاچکی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انڈونیشیا میں یہ ویکسین سیرم انسٹیٹوٹ کی جانب سے تیار کرکے کوو ویکس کے نام سے فراہم کی جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نووا ویکس نے بتایا کہ انڈونیشیا کو ویکسین کی پہلی کھیپ جلد فراہم کردی جائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انڈونیشین حکومت کے مطابق پروٹین پر مبنی ویکسین کی 2 کروڑ خوراکیں 2021 میں موصول ہوں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نووا ویکس اور سیرم انسٹیٹوٹ نے ایک ارب 10 خوراکیں عالمی ادارہ صحت کے زیرتحت کام کرنے والے ادارے کوو ویکس کو فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ویکسین کی فراہمی کا سلسلہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ایمرجنسی استعمال کی منظوری کے بعد 2021 میں شروع ہوجائے گی اور یہ سلسلہ 2022 میں ھبی جاری رہے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ ماہ نووا ویکس اور سیرم انسٹیٹوٹ آف انڈیا نے عالمی ادارہ صحت میں اس ویکسین کے ہنگامی استعمال کی منظوری کے لیے درخواست جمع کرائی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کا مقصد کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں اس ویکسین کو فراہم کرنا ہے کیونکہ امریکا اور یورپ میں پہلے ہی فائزر، موڈرنا، جانسن اینڈ جانسن اور ایسٹرا زینیکا ویکسینز کو عام استعمال کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ ویکسین کے انسانی ٹرائل کے آخری مرحلے میں دریافت کیا گیا تھا کہ یہ ویکسین  کورونا وائرس کی اوریجنل قسم سے ہونے والی بیماری سے 96 فیصد تک تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1168797' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/large/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/6172ba546c03d.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکا اور میکسیکو میں 30 ہزار افراد پر آخری مرحلے کے ٹرائل کے ڈیٹا کے مطابق این وی ایکس کو وی 2373 نامی یہ ویکسین بیماری کی معتدل اور سنگین شدت سے 100 فیصد تحفظ فراہم کرتی ہے جبکہ اس کی مجموعی افادیت 90.4 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ٹرائل کے مطابق مجموعی طور پر کورونا کی مختلف اقسام کے خلاف ویکسین کی افادیت 90 فیصد سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ ویکسین 2 خوراکوں میں استعمال کی جائے گی اور اسے 8 مقامات پر تیار کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نووا ویکس اور اس کے شراکت دار سیرم انسٹیٹوٹ آف انڈیا کی تیار کردہ کووڈ 19 ویکسین کو پہلے ملک میں ایمرجنسی استعمال کی منظوری حاصل ہوگئی ہے۔</p>

<p>کمپنیوں کی جانب سے ایک <a href="https://www.reuters.com/business/healthcare-pharmaceuticals/novavax-covid-19-vaccine-receives-emergency-use-authorization-indonesia-2021-11-01/"><strong>بیان</strong></a> میں بتایا گیا کہ انڈونیشیا میں ان کی کووڈ 19 ویکسین کو استعمال کی منظوری حاصل ہوئی۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>خیال رہے کہ نووا ویکس کی جانب سے برطانیہ، بھارت، آسٹریلیا، فلپائن اور یورپین میڈیسین ایجنسی کے پاس بھی ویکسین کی منظوری کے لیے درخواستیں جمع کرائی جاچکی ہیں۔</p>

<p>انڈونیشیا میں یہ ویکسین سیرم انسٹیٹوٹ کی جانب سے تیار کرکے کوو ویکس کے نام سے فراہم کی جائے گی۔</p>

<p>نووا ویکس نے بتایا کہ انڈونیشیا کو ویکسین کی پہلی کھیپ جلد فراہم کردی جائے گی۔</p>

<p>انڈونیشین حکومت کے مطابق پروٹین پر مبنی ویکسین کی 2 کروڑ خوراکیں 2021 میں موصول ہوں گی۔</p>

<p>نووا ویکس اور سیرم انسٹیٹوٹ نے ایک ارب 10 خوراکیں عالمی ادارہ صحت کے زیرتحت کام کرنے والے ادارے کوو ویکس کو فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا ہے۔</p>

<p>ویکسین کی فراہمی کا سلسلہ عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ایمرجنسی استعمال کی منظوری کے بعد 2021 میں شروع ہوجائے گی اور یہ سلسلہ 2022 میں ھبی جاری رہے گا۔</p>

<p>گزشتہ ماہ نووا ویکس اور سیرم انسٹیٹوٹ آف انڈیا نے عالمی ادارہ صحت میں اس ویکسین کے ہنگامی استعمال کی منظوری کے لیے درخواست جمع کرائی تھی۔</p>

<p>اس کا مقصد کم اور متوسط آمدنی والے ممالک میں اس ویکسین کو فراہم کرنا ہے کیونکہ امریکا اور یورپ میں پہلے ہی فائزر، موڈرنا، جانسن اینڈ جانسن اور ایسٹرا زینیکا ویکسینز کو عام استعمال کیا جارہا ہے۔</p>

<p>خیال رہے کہ ویکسین کے انسانی ٹرائل کے آخری مرحلے میں دریافت کیا گیا تھا کہ یہ ویکسین  کورونا وائرس کی اوریجنل قسم سے ہونے والی بیماری سے 96 فیصد تک تحفظ فراہم کرسکتی ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1168797' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/large/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/6172ba546c03d.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>امریکا اور میکسیکو میں 30 ہزار افراد پر آخری مرحلے کے ٹرائل کے ڈیٹا کے مطابق این وی ایکس کو وی 2373 نامی یہ ویکسین بیماری کی معتدل اور سنگین شدت سے 100 فیصد تحفظ فراہم کرتی ہے جبکہ اس کی مجموعی افادیت 90.4 فیصد ہے۔</p>

<p>اس ٹرائل کے مطابق مجموعی طور پر کورونا کی مختلف اقسام کے خلاف ویکسین کی افادیت 90 فیصد سے زیادہ ہے۔</p>

<p>یہ ویکسین 2 خوراکوں میں استعمال کی جائے گی اور اسے 8 مقامات پر تیار کیا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1171820</guid>
      <pubDate>Mon, 01 Nov 2021 18:04:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/11/617fe4d4eed5e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/11/617fe4d4eed5e.jpg"/>
        <media:title>انڈونیشیا میں اس ویکسین کی منظوری دی گئی — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
