<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 00:22:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 00:22:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کورونا وائرس انسانی دماغی خلیات کو متاثر نہیں کرتا، تحقیق
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1171943/</link>
      <description>&lt;p&gt;کووڈ 19 کا باعث بننے والا کورونا وائرس انسانی دماغ کے خلیات کو متاثر نہیں کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ دعویٰ ایک نئی طبی &lt;a href="https://www.theguardian.com/world/2021/nov/03/covid-19-virus-does-not-infect-human-brain-cells-new-study-suggests"&gt;&lt;strong&gt;تحقیق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں سامنے آئی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;طبی جریدے جرنل سیل میں شائع تحقیق کے نتائج سے یہ توقع بڑھی ہے کہ کووڈ 19 سے دماغ کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی ممکن ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق کے نتائج سابقہ تحقیقی رپورٹس سے مختلف ہیں جن میں عندیہ دیا گیا تھا کہ کورونا وائرس ناک کے راستے دماغی خلیات کو متاثر کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بیلجیئم اور جرمنی کے ماہرین کی اس تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ وائرس ناک میں موجود معاون خلیات sustentacular کو تو متاثر کرسکتا ہے مگر وہ حس شامہ سے منسلک سنسری نیورونز (او ایس این ایس) کو متاثر نہیں کرسکتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جرمنی کے میکس پلانک ریسرچ کے ماہر پیٹر مومبیٹرز نے بتایا کہ یہ ایک انتہائی اہم فرق ہے، کیونکہ اگر کورونا او ایس این ایس کو متاثر کرتا ہے تو وہاں سے وہ دماغ تک آسانی سے پہنچ سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے بتایا کہ اگر دماغ اس حصے میں داخل ہوسکتا ہو تو وہ دماغ کی زیادہ گہرائی میں جاکر طویل المعیاد نقصان پہنچا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے مقابلے میں اگر وائرس صرف sustentacular خلیات کو متاثر کرتا ہے تو اس سے ہونے والا نقصان زیادہ دیرپا نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے کووڈ کے مریضوں میں سونگھنے کی حس سے محرومی کی بھی وضاحت ہوتی ہے اور ایک تخمینے کے مطابق ہر 10 میں سے ایک فرد کے لیے یہ مسئلہ طویل المعیاد یا مستقل بھی ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کا کہنا تھا کہ اس کی ممکنہ وجہ او ایس این ایس کے ٹکڑے ہونا ہے چاہے ان کو نقصان نہ بھی پہنچے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ایسا ہونے پر خلیات کے افعال متاثر ہوتے ہیں اور sustentacular خلیات کے دوبارہ بننے تک بحال نہیں ہوتے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر محققین نے لانگ کووڈ کے مریضوں میں موجود دیگر ذہنی و اعصابی علامات جیسے تھکاوٹ اور ذہنی دھند کا جائزہ نہیں لیاْ۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اس میں کسی کو شک نہیں کہ مرکزی اعصابی نظام اس بیماری سے متاثر ہوتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ ایسا براہ راست وائرس سے ہوتا ہے یا اس کا کوئی بلا واسطہ میکنزم ہے، جیسے خون میں ورم کا ردعمل یا علاج وغیرہ۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1168797' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/large/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/6172ba546c03d.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق میں اب تک سب سے زیادہ کووڈ 19 کے مریضوں کو شامل کیا گیا تھا اور نتائج کے لیے ایک منفرد تیکنیک کا استعمال کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں کووڈ 19 کے باعث ہلاک ہونے والے 30 مریضوں کی موت کے ایک گھنٹے کے اندر مختلف دماغی ٹشوز کو حاصل کیا گیا اور وہاں وائرس کی نقول بنتے دیکھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر 30 میں سے صرف 6 کے حس شامہ کے خلیات میں وائرس کو دریافت کیا جاسکا اور اسی وجہ سے دیگر ماہرین کا کہنا تھا کہ مجموعی تعداد بہت کم تھی تو ٹھوس نتیجہ نکالنا ممکن نہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کووڈ 19 کا باعث بننے والا کورونا وائرس انسانی دماغ کے خلیات کو متاثر نہیں کرسکتا ہے۔</p>

<p>یہ دعویٰ ایک نئی طبی <a href="https://www.theguardian.com/world/2021/nov/03/covid-19-virus-does-not-infect-human-brain-cells-new-study-suggests"><strong>تحقیق</strong></a> میں سامنے آئی۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>طبی جریدے جرنل سیل میں شائع تحقیق کے نتائج سے یہ توقع بڑھی ہے کہ کووڈ 19 سے دماغ کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی ممکن ہوسکتی ہے۔</p>

<p>تحقیق کے نتائج سابقہ تحقیقی رپورٹس سے مختلف ہیں جن میں عندیہ دیا گیا تھا کہ کورونا وائرس ناک کے راستے دماغی خلیات کو متاثر کرسکتا ہے۔</p>

<p>بیلجیئم اور جرمنی کے ماہرین کی اس تحقیق میں دعویٰ کیا گیا کہ وائرس ناک میں موجود معاون خلیات sustentacular کو تو متاثر کرسکتا ہے مگر وہ حس شامہ سے منسلک سنسری نیورونز (او ایس این ایس) کو متاثر نہیں کرسکتا۔</p>

<p>جرمنی کے میکس پلانک ریسرچ کے ماہر پیٹر مومبیٹرز نے بتایا کہ یہ ایک انتہائی اہم فرق ہے، کیونکہ اگر کورونا او ایس این ایس کو متاثر کرتا ہے تو وہاں سے وہ دماغ تک آسانی سے پہنچ سکتا ہے۔</p>

<p>محققین نے بتایا کہ اگر دماغ اس حصے میں داخل ہوسکتا ہو تو وہ دماغ کی زیادہ گہرائی میں جاکر طویل المعیاد نقصان پہنچا سکتا ہے۔</p>

<p>اس کے مقابلے میں اگر وائرس صرف sustentacular خلیات کو متاثر کرتا ہے تو اس سے ہونے والا نقصان زیادہ دیرپا نہیں ہوتا۔</p>

<p>اس سے کووڈ کے مریضوں میں سونگھنے کی حس سے محرومی کی بھی وضاحت ہوتی ہے اور ایک تخمینے کے مطابق ہر 10 میں سے ایک فرد کے لیے یہ مسئلہ طویل المعیاد یا مستقل بھی ہوسکتا ہے۔</p>

<p>محققین کا کہنا تھا کہ اس کی ممکنہ وجہ او ایس این ایس کے ٹکڑے ہونا ہے چاہے ان کو نقصان نہ بھی پہنچے۔</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ ایسا ہونے پر خلیات کے افعال متاثر ہوتے ہیں اور sustentacular خلیات کے دوبارہ بننے تک بحال نہیں ہوتے۔</p>

<p>مگر محققین نے لانگ کووڈ کے مریضوں میں موجود دیگر ذہنی و اعصابی علامات جیسے تھکاوٹ اور ذہنی دھند کا جائزہ نہیں لیاْ۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ اس میں کسی کو شک نہیں کہ مرکزی اعصابی نظام اس بیماری سے متاثر ہوتا ہے، مگر سوال یہ ہے کہ ایسا براہ راست وائرس سے ہوتا ہے یا اس کا کوئی بلا واسطہ میکنزم ہے، جیسے خون میں ورم کا ردعمل یا علاج وغیرہ۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1168797' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/large/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/6172ba546c03d.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس تحقیق میں اب تک سب سے زیادہ کووڈ 19 کے مریضوں کو شامل کیا گیا تھا اور نتائج کے لیے ایک منفرد تیکنیک کا استعمال کیا گیا۔</p>

<p>تحقیق میں کووڈ 19 کے باعث ہلاک ہونے والے 30 مریضوں کی موت کے ایک گھنٹے کے اندر مختلف دماغی ٹشوز کو حاصل کیا گیا اور وہاں وائرس کی نقول بنتے دیکھا۔</p>

<p>مگر 30 میں سے صرف 6 کے حس شامہ کے خلیات میں وائرس کو دریافت کیا جاسکا اور اسی وجہ سے دیگر ماہرین کا کہنا تھا کہ مجموعی تعداد بہت کم تھی تو ٹھوس نتیجہ نکالنا ممکن نہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1171943</guid>
      <pubDate>Wed, 03 Nov 2021 22:37:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/11/6182c862d4d9e.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/11/6182c862d4d9e.png"/>
        <media:title>یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
