<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 09:01:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 09:01:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>شاخ نازک کا آشیانہ: اقبال کے قیامِ یورپ کی روداد
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1172175/</link>
      <description>&lt;p&gt;مؤرخ، فلسفی اور شاعر علم و فن کی دنیا میں الگ الگ جہتوں کے حامل ہوتے ہیں۔ شعور و ادراک، تخیل و احساس اور تلاش و جستجو کی ان راہوں میں بہت سی باتیں ان میں مشترک بھی ہوتی ہیں اور متضاد بھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب اسے حسنِ اتفاق کہیے یا قدرت کاملہ کا کرشمہ کہ اقبال کی شخصیت میں یہ تینوں جہات کسی نہ کسی صورت ہمیں یکجا دکھائی دیتی ہیں۔ اس لیے اقبال کی شخصیت کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیں ان تینوں حیثیتوں کو مدِنظر رکھنا پڑتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقبال کا کہنا ہے کہ:&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #711125; text-align: center;" markdown="1"&gt;مری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھ&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #711125; text-align: center;" markdown="1"&gt;کہ میں ہوں محرم راز درون مے خانہ&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقبال کی ان 3 جہتوں کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیں ان کے قیامِ یورپ کو نہایت باریکی سے دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی مؤرخانہ جہت اور فلسفیانہ افکار کو ملنے والی وسعت اور پختگی کا درست انداز میں تجزیہ ہوسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقبال کی زندگی اور ان کے کلام میں جس طرح سوزِ حیات اور روحِ انسانی کا نغمہ موجود ہے وہ صرف ہماری فکر کی آبیاری نہیں کرتا بلکہ علمِ فن کی چوٹیوں کے پھوٹنے والے دریاؤں اور ندیوں کو کوزے میں بند کردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال کئی سطحوں پر حرکتِ حیات کی علامت بن کر ہمارے سامنے آجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مضمون میں اقبال کے قیامِ یورپ (1907ء-1905ء) میں انہوں  نے جن علمی، ادبی اور فلسفیانہ علوم کو حاصل کیا اور جن تجربات سے وہ گزرے، ان مراحل کو پیش کرنے کی سعی کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2021/11/6188d68878139.jpg'  alt='   اقبال کئی سطحوں پر حرکتِ حیات کی علامت بن کر ہمارے سامنے آجاتا ہے   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;اقبال کئی سطحوں پر حرکتِ حیات کی علامت بن کر ہمارے سامنے آجاتا ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقبال کی زندگی اور ان کی فکر پر 3 سالہ قیامِ یورپ نے گوناگوں تجربات اور خاصے وسیع اثرات مرتب کیے۔ یورپ کے علمی باطن میں جھانکنے کے ساتھ ساتھ انہوں  نے اسلامی فکر کا بھی درست تجزیہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس 3 سالہ قلیل دور میں وہ اپنے استاد سر ٹامس آرنلڈ (Thomas Walker Arnold) کی صحبت میں فکر و فلسفے کے کئی اسرار و رموز کو سمجھ چکے تھے۔ اردو زبان و ادب سے لگاؤ رکھنے والا طالب علم ان کے نام سے شناسا ہے۔ سر ٹامس آرنلڈ 1888ء میں ایم اے او (محمڈن اینگلو اورینٹل) کالج علی گڑھ اور 1898ء میں گورنمنٹ کالج لاہور میں فلسفے کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ اپریل 1899ء اور پھر اگست 1902ء سے اپریل 1903ء تک یونیورسٹی اورینٹل کالج کے قائم مقام پرنسپل رہے۔ 1904ء میں انڈیا آفس لائبریری (لندن) کے اسسٹنٹ لائبریرین مقرر ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2021/11/6188d520335d4.jpg'  alt='   سر ٹامس آرنلڈ   ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سر ٹامس آرنلڈ&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علامہ اقبال  نے گورنمنٹ کالج لاہور میں فلسفے کی تعلیم انہی سے حاصل کی۔ یورپ میں علامہ اقبال  نے جب شاعری ترک کرنے کا فیصلہ کیا تو سر ٹامس آرنلڈ ہی  نے انہیں اس ارادے سے باز رکھا۔ سر ٹامس آرنلڈ کا اثر صرف اقبال کی زندگی پر نہیں بلکہ اسلامی تہذیب و تمدن کے کئی پہلوؤں پر ان کے اثرات کو علمی لحاظ سے دیکھا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رسالہ ’مخزن‘ کے مدیر شیخ عبدالقادر جو اقبال کے گہرے دوست تھے اور قیامِ یورپ میں ان کے ہم راز تھے وہ رسالہ مخزن میں اپنی اور آرنلڈ کی گفتگو بیان کرتے ہوئے آرنلڈ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:&lt;/p&gt;
&lt;div style="background-color: Black;"&gt;&lt;p style="color: white; text-align: center"&gt;ایک دن شیخ محمد اقبال نے مجھ (آرنلڈ) سے کہا کہ میں  نے مصمم ارادہ کرلیا ہے کہ شاعری کو ترک کردوں گا اور قسم کھا لی ہے کہ شاعری نہیں کروں گا۔ جو وقت شاعری میں صَرف ہوتا ہے اسے کسی اور مفید کام میں لگاؤں گا۔ میں  نے (یعنی آرنلڈ نے) ان سے کہا کہ ان کی شاعری ایسی نہیں جسے ترک کرنا چاہیے بلکہ ان کے کلام میں وہ تاثیر ہے جس سے ممکن ہے کہ ہماری در ماندہ قوم اور ہمارے کم نصیب امراض کا علاج ہوسکے۔&lt;/font&gt;&lt;/p&gt;&lt;/div&gt;
&lt;p&gt;اس اقتباس سے سر ٹامس آرنلڈ کے اس احسان کو محسوس کیا جاسکتا ہے جو انہوں  نے اردو دنیا اور اقبال کی شخصیت پر کیے۔ اگر وہ اقبال کو فلسفے سے روشناس نہ کرواتے اور شاعری جاری رکھنے کا مشورہ نہیں دیتے تو شاید زبان و ادب اور جنوبی ایشیا کی سیاسی، تہذیبی اور فکری زندگی میں اقبال جیسے مردِ قلندر اپنی تخیل فکر کا نمونہ اس انداز میں پیش نہیں کرپاتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خود اقبال  نے سر ٹامس آرنلڈ کے بارے میں جو نظمیں لکھی ہیں اس سے ان کی محبت اور دلی وابستگی کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ جب 1904ء میں آرنلڈ گورنمنٹ کالج لاہور سے رخصت ہوکر لندن چلے گئے تو اقبال  نے ان کی یاد میں نظم ’نالہ فراق‘ لکھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #711125; text-align: center;" markdown="1"&gt;جا بسا مغرب میں آخر اے مکاں تیرا مکیں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #711125; text-align: center;" markdown="1"&gt;آہ مشرق کی پسند آئی نہ اس کو سر زمیں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #711125; text-align: center;" markdown="1"&gt;یاد ایام سلف سے دل کو تڑ پاتا ہوں میں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;strong&gt;&lt;div style= "color: #711125; text-align: center;" markdown="1"&gt;بہرِ تسکیں تیری جانب دوڑتا آتا ہوں میں&lt;/div&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پرفیسر آرنلڈ سے جو دلی و روحانی وابستگی انہیں لاہور اور کیمبرج کے دوران تھی وہ تادمِ آخر رہی۔ اس کا اندازہ ان کے پی ایچ ڈی کے مقالے The Development of Metaphysics in Persia کے انتساب سے کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
 &lt;div style="background-color: Maroon </description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مؤرخ، فلسفی اور شاعر علم و فن کی دنیا میں الگ الگ جہتوں کے حامل ہوتے ہیں۔ شعور و ادراک، تخیل و احساس اور تلاش و جستجو کی ان راہوں میں بہت سی باتیں ان میں مشترک بھی ہوتی ہیں اور متضاد بھی۔</p>
<p>اب اسے حسنِ اتفاق کہیے یا قدرت کاملہ کا کرشمہ کہ اقبال کی شخصیت میں یہ تینوں جہات کسی نہ کسی صورت ہمیں یکجا دکھائی دیتی ہیں۔ اس لیے اقبال کی شخصیت کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیں ان تینوں حیثیتوں کو مدِنظر رکھنا پڑتا ہے۔</p>
<p>اقبال کا کہنا ہے کہ:</p>
<p><strong><div style= "color: #711125; text-align: center;" markdown="1">مری نوائے پریشاں کو شاعری نہ سمجھ</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #711125; text-align: center;" markdown="1">کہ میں ہوں محرم راز درون مے خانہ</div></strong></p>
<p>اقبال کی ان 3 جہتوں کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیں ان کے قیامِ یورپ کو نہایت باریکی سے دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ ان کی مؤرخانہ جہت اور فلسفیانہ افکار کو ملنے والی وسعت اور پختگی کا درست انداز میں تجزیہ ہوسکے۔</p>
<p>اقبال کی زندگی اور ان کے کلام میں جس طرح سوزِ حیات اور روحِ انسانی کا نغمہ موجود ہے وہ صرف ہماری فکر کی آبیاری نہیں کرتا بلکہ علمِ فن کی چوٹیوں کے پھوٹنے والے دریاؤں اور ندیوں کو کوزے میں بند کردیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اقبال کئی سطحوں پر حرکتِ حیات کی علامت بن کر ہمارے سامنے آجاتا ہے۔</p>
<p>اس مضمون میں اقبال کے قیامِ یورپ (1907ء-1905ء) میں انہوں  نے جن علمی، ادبی اور فلسفیانہ علوم کو حاصل کیا اور جن تجربات سے وہ گزرے، ان مراحل کو پیش کرنے کی سعی کی گئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2021/11/6188d68878139.jpg'  alt='   اقبال کئی سطحوں پر حرکتِ حیات کی علامت بن کر ہمارے سامنے آجاتا ہے   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>اقبال کئی سطحوں پر حرکتِ حیات کی علامت بن کر ہمارے سامنے آجاتا ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>اقبال کی زندگی اور ان کی فکر پر 3 سالہ قیامِ یورپ نے گوناگوں تجربات اور خاصے وسیع اثرات مرتب کیے۔ یورپ کے علمی باطن میں جھانکنے کے ساتھ ساتھ انہوں  نے اسلامی فکر کا بھی درست تجزیہ کیا ہے۔</p>
<p>اس 3 سالہ قلیل دور میں وہ اپنے استاد سر ٹامس آرنلڈ (Thomas Walker Arnold) کی صحبت میں فکر و فلسفے کے کئی اسرار و رموز کو سمجھ چکے تھے۔ اردو زبان و ادب سے لگاؤ رکھنے والا طالب علم ان کے نام سے شناسا ہے۔ سر ٹامس آرنلڈ 1888ء میں ایم اے او (محمڈن اینگلو اورینٹل) کالج علی گڑھ اور 1898ء میں گورنمنٹ کالج لاہور میں فلسفے کے پروفیسر مقرر ہوئے۔ اپریل 1899ء اور پھر اگست 1902ء سے اپریل 1903ء تک یونیورسٹی اورینٹل کالج کے قائم مقام پرنسپل رہے۔ 1904ء میں انڈیا آفس لائبریری (لندن) کے اسسٹنٹ لائبریرین مقرر ہوئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-3/5  w-full  media--center  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2021/11/6188d520335d4.jpg'  alt='   سر ٹامس آرنلڈ   ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سر ٹامس آرنلڈ</figcaption>
    </figure></p>
<p>علامہ اقبال  نے گورنمنٹ کالج لاہور میں فلسفے کی تعلیم انہی سے حاصل کی۔ یورپ میں علامہ اقبال  نے جب شاعری ترک کرنے کا فیصلہ کیا تو سر ٹامس آرنلڈ ہی  نے انہیں اس ارادے سے باز رکھا۔ سر ٹامس آرنلڈ کا اثر صرف اقبال کی زندگی پر نہیں بلکہ اسلامی تہذیب و تمدن کے کئی پہلوؤں پر ان کے اثرات کو علمی لحاظ سے دیکھا جاسکتا ہے۔</p>
<p>رسالہ ’مخزن‘ کے مدیر شیخ عبدالقادر جو اقبال کے گہرے دوست تھے اور قیامِ یورپ میں ان کے ہم راز تھے وہ رسالہ مخزن میں اپنی اور آرنلڈ کی گفتگو بیان کرتے ہوئے آرنلڈ کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ:</p>
<div style="background-color: Black;"><p style="color: white; text-align: center">ایک دن شیخ محمد اقبال نے مجھ (آرنلڈ) سے کہا کہ میں  نے مصمم ارادہ کرلیا ہے کہ شاعری کو ترک کردوں گا اور قسم کھا لی ہے کہ شاعری نہیں کروں گا۔ جو وقت شاعری میں صَرف ہوتا ہے اسے کسی اور مفید کام میں لگاؤں گا۔ میں  نے (یعنی آرنلڈ نے) ان سے کہا کہ ان کی شاعری ایسی نہیں جسے ترک کرنا چاہیے بلکہ ان کے کلام میں وہ تاثیر ہے جس سے ممکن ہے کہ ہماری در ماندہ قوم اور ہمارے کم نصیب امراض کا علاج ہوسکے۔</font></p></div>
<p>اس اقتباس سے سر ٹامس آرنلڈ کے اس احسان کو محسوس کیا جاسکتا ہے جو انہوں  نے اردو دنیا اور اقبال کی شخصیت پر کیے۔ اگر وہ اقبال کو فلسفے سے روشناس نہ کرواتے اور شاعری جاری رکھنے کا مشورہ نہیں دیتے تو شاید زبان و ادب اور جنوبی ایشیا کی سیاسی، تہذیبی اور فکری زندگی میں اقبال جیسے مردِ قلندر اپنی تخیل فکر کا نمونہ اس انداز میں پیش نہیں کرپاتے۔</p>
<p>خود اقبال  نے سر ٹامس آرنلڈ کے بارے میں جو نظمیں لکھی ہیں اس سے ان کی محبت اور دلی وابستگی کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ جب 1904ء میں آرنلڈ گورنمنٹ کالج لاہور سے رخصت ہوکر لندن چلے گئے تو اقبال  نے ان کی یاد میں نظم ’نالہ فراق‘ لکھی۔</p>
<p><strong><div style= "color: #711125; text-align: center;" markdown="1">جا بسا مغرب میں آخر اے مکاں تیرا مکیں</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #711125; text-align: center;" markdown="1">آہ مشرق کی پسند آئی نہ اس کو سر زمیں</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #711125; text-align: center;" markdown="1">یاد ایام سلف سے دل کو تڑ پاتا ہوں میں</div></strong></p>
<p><strong><div style= "color: #711125; text-align: center;" markdown="1">بہرِ تسکیں تیری جانب دوڑتا آتا ہوں میں</div></strong></p>
<p>پرفیسر آرنلڈ سے جو دلی و روحانی وابستگی انہیں لاہور اور کیمبرج کے دوران تھی وہ تادمِ آخر رہی۔ اس کا اندازہ ان کے پی ایچ ڈی کے مقالے The Development of Metaphysics in Persia کے انتساب سے کیا جاسکتا ہے۔</p>
 <div style="background-color: Maroon ]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1172175</guid>
      <pubDate>Thu, 09 Nov 2023 16:39:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈاکٹر خالد امین)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/11/6188ec36e9ac1.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/11/6188ec36e9ac1.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/11/6189fa7d8b11c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="900" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/11/6189fa7d8b11c.jpg"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
