<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 06:29:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 06:29:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>برطانیہ نے سائنوویک، سائنوفارم کو منظور شدہ ویکسینز میں شامل کرلیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1172300/</link>
      <description>&lt;p&gt;برطانوی حکومت نے 22 نومبر سے منظور شدہ ویکسینز کی فہرست میں کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسینز سائنو فارم، سائنوویک اور کوویکسین کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1657083/uk-adds-sinopharm-and-sinovac-to-approved-vaccine-list"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق برطانوی ہائی کمشنر برائے پاکستان کرسچن ٹرنر نے اس پیش رفت کو ’پاکستانی مسافروں کے لیے خوشخبری‘ قرار دیتے ہوئے اس کے بارے میں ٹوئٹر پر آگاہ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس اقدام کا مطلب ہے کہ وہ پاکستانی مسافر جنہوں نے مذکورہ بالا تینوں ویکسینز کی مکمل خوراک حاصل کرلی ہے انہیں گھر میں لازمی قرنطینہ سے استثنیٰ حاصل ہوگا اور صرف دوسرے روز ٹیسٹ کروانا ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1169789"&gt;نادرا کے ویکسین سرٹیفکیٹ برطانیہ میں قابل قبول قرار&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مسافروں کے پاس منظور شدہ ویکسین کے مکمل کورس کے ساتھ مکمل ویکسی نیشن کا ثبوت ہونا چاہیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مزید برآں انہوں نے انگلینڈ پہنچنے سے کم از کم 14 دن پہلے ویکسین کی آخری خوراک لی ہو اور ان 14 دنوں میں ویکسین کا آخری دن شمار نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/CTurnerFCDO/status/1457960904297877506"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس اعلان سے قبل پاکستان سے آنے والے وہ مسافر جنہوں نے یہ ویکسین لگوائی تھی، انہیں برطانیہ پہنچنے پر 10 دن کے لیے گھر میں قرنطینہ کرنا پڑتا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگرچہ اس پیش رفت سے مسافروں کو سہولت ملے گی لیکن اس میں اسپوتنک کو ویکسین کی منظور شدہ فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1168691"&gt;برطانیہ نے پاکستان کو سفری پابندیوں کی 'ریڈ لسٹ' سے نکال دیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسپوتنک، پاکستان میں لگائی جانے والی 7 ویکسینز میں سے ایک ہے جن میں فائزر، موڈرنا، ایسٹرازینیکا، سائنوفارم، سائنوویک اور کین سائنو شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='618b681828063'&gt;مثبت کیسز کی کم ترین شرح&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ گزشتہ روز ملک میں وبا کے پھیلاؤ کے آغاز سے اب تک کورونا وائرس کیسز مثبت آنے کی کم ترین شرح ریکارڈ کی گئی جو 0.94 فیصد تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;این سی او سی کے مطابق گزشتہ برس مارچ میں کورونا وبا کے آغاز سے مثبت شرح 10 فیصد سے زائد تھی اور جون 2020 میں یہ 22.24 فیصد تک جاپہنچی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم احتیاطی اقدامات پر سختی سے عملدرآمد کروانے کے بعد یہ شرح ستمبر 2020 میں 1.75 فیصد تک کم ہوگئی تھی جس کے بعد اس میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1172282/"&gt;کووڈ سے تحفظ کے لیے ویکسینیشن کی افادیت کا نیا ڈیٹا سامنے آگیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دسمبر میں ایک مرتبہ پھر مثبت شرح بڑھ کر 7.94 فیصد ہوگئی اور 2 ماہ بعد کم ہو کر 3.3 فیصد پر آگئی، تاہم رواں برس اپریل میں یہ شرح 10 فیصد تک بڑھ گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح وبا کی موجودہ لہر میں بلند ترین مثبت شرح اگست میں 8.23 فیصد ریکارڈ کی گئی جو کم ہوتے ہوئے گزشتہ روز 0.94 فیصد تک آگئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کووڈ 19 ٹاسک فورس کے رکن ڈاکٹر جاوید اکرم نے ڈان سے بات کرتے ہوئے اس پیش رفت کو مثبت قرار دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اس کی ایک بڑی وجہ ویکسی نیشن ہے کیوں کہ آبادی کے بڑے حصے کو ویکسین لگادی گئی ہے اور اس میں زیادہ توجہ بڑے شہروں پر ہے جہاں زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ ہیلتھ ورکرز کے متاثر ہونے کی شرح بھی کم ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>برطانوی حکومت نے 22 نومبر سے منظور شدہ ویکسینز کی فہرست میں کورونا وائرس سے بچاؤ کی ویکسینز سائنو فارم، سائنوویک اور کوویکسین کو شامل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1657083/uk-adds-sinopharm-and-sinovac-to-approved-vaccine-list">رپورٹ</a></strong> کے مطابق برطانوی ہائی کمشنر برائے پاکستان کرسچن ٹرنر نے اس پیش رفت کو ’پاکستانی مسافروں کے لیے خوشخبری‘ قرار دیتے ہوئے اس کے بارے میں ٹوئٹر پر آگاہ کیا۔</p>

<p>اس اقدام کا مطلب ہے کہ وہ پاکستانی مسافر جنہوں نے مذکورہ بالا تینوں ویکسینز کی مکمل خوراک حاصل کرلی ہے انہیں گھر میں لازمی قرنطینہ سے استثنیٰ حاصل ہوگا اور صرف دوسرے روز ٹیسٹ کروانا ہوگا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1169789">نادرا کے ویکسین سرٹیفکیٹ برطانیہ میں قابل قبول قرار</a></strong></p>

<p>مسافروں کے پاس منظور شدہ ویکسین کے مکمل کورس کے ساتھ مکمل ویکسی نیشن کا ثبوت ہونا چاہیے۔</p>

<p>مزید برآں انہوں نے انگلینڈ پہنچنے سے کم از کم 14 دن پہلے ویکسین کی آخری خوراک لی ہو اور ان 14 دنوں میں ویکسین کا آخری دن شمار نہیں ہوگا۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/CTurnerFCDO/status/1457960904297877506"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس اعلان سے قبل پاکستان سے آنے والے وہ مسافر جنہوں نے یہ ویکسین لگوائی تھی، انہیں برطانیہ پہنچنے پر 10 دن کے لیے گھر میں قرنطینہ کرنا پڑتا تھا۔</p>

<p>اگرچہ اس پیش رفت سے مسافروں کو سہولت ملے گی لیکن اس میں اسپوتنک کو ویکسین کی منظور شدہ فہرست میں شامل نہیں کیا گیا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1168691">برطانیہ نے پاکستان کو سفری پابندیوں کی 'ریڈ لسٹ' سے نکال دیا</a></strong></p>

<p>اسپوتنک، پاکستان میں لگائی جانے والی 7 ویکسینز میں سے ایک ہے جن میں فائزر، موڈرنا، ایسٹرازینیکا، سائنوفارم، سائنوویک اور کین سائنو شامل ہیں۔</p>

<h3 id='618b681828063'>مثبت کیسز کی کم ترین شرح</h3>

<p>خیال رہے کہ گزشتہ روز ملک میں وبا کے پھیلاؤ کے آغاز سے اب تک کورونا وائرس کیسز مثبت آنے کی کم ترین شرح ریکارڈ کی گئی جو 0.94 فیصد تھی۔</p>

<p>این سی او سی کے مطابق گزشتہ برس مارچ میں کورونا وبا کے آغاز سے مثبت شرح 10 فیصد سے زائد تھی اور جون 2020 میں یہ 22.24 فیصد تک جاپہنچی تھی۔</p>

<p>تاہم احتیاطی اقدامات پر سختی سے عملدرآمد کروانے کے بعد یہ شرح ستمبر 2020 میں 1.75 فیصد تک کم ہوگئی تھی جس کے بعد اس میں دوبارہ اضافہ دیکھنے میں آیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1172282/">کووڈ سے تحفظ کے لیے ویکسینیشن کی افادیت کا نیا ڈیٹا سامنے آگیا</a></strong></p>

<p>دسمبر میں ایک مرتبہ پھر مثبت شرح بڑھ کر 7.94 فیصد ہوگئی اور 2 ماہ بعد کم ہو کر 3.3 فیصد پر آگئی، تاہم رواں برس اپریل میں یہ شرح 10 فیصد تک بڑھ گئی تھی۔</p>

<p>اسی طرح وبا کی موجودہ لہر میں بلند ترین مثبت شرح اگست میں 8.23 فیصد ریکارڈ کی گئی جو کم ہوتے ہوئے گزشتہ روز 0.94 فیصد تک آگئی۔</p>

<p>کووڈ 19 ٹاسک فورس کے رکن ڈاکٹر جاوید اکرم نے ڈان سے بات کرتے ہوئے اس پیش رفت کو مثبت قرار دیا۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ اس کی ایک بڑی وجہ ویکسی نیشن ہے کیوں کہ آبادی کے بڑے حصے کو ویکسین لگادی گئی ہے اور اس میں زیادہ توجہ بڑے شہروں پر ہے جہاں زیادہ کیسز رپورٹ ہوئے جبکہ ہیلتھ ورکرز کے متاثر ہونے کی شرح بھی کم ہوگئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1172300</guid>
      <pubDate>Wed, 10 Nov 2021 11:35:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اکرام جنیدیعاتکہ رحمان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/11/618b56b21f34e.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/11/618b56b21f34e.jpg"/>
        <media:title>ویکسین کی منظوری کا اطلاق 22 نومبر سے ہوگا — فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
