<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Amazing</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 10:19:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 10:19:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>چین کی طالبہ کی پڑھائی کا انداز انٹرنیٹ پر وائرل
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1172655/</link>
      <description>&lt;p&gt;چین میں ایک طالبہ کو سخت محنت کی ایک مثال قرار دیا جارہا ہے جس کی وجہ اس کی ایک ویڈیو وائرل ہونا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی سوشل میڈیا سائٹ ویبو میں ایک ویڈیو &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.insider.com/woman-reading-light-ponytail-china-new-viral-symbol-hard-work-2021-11"&gt;&lt;strong&gt;وائرل&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; ہوئی ہے جس میں ایک طالبہ ممکنہ طور پر یونیورسٹی نوٹس کے ڈھیڑ کے سامنے بیٹھی ہے اور ایک بڑی لائٹ اس کے بالوں میں پھنسی روشن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی میڈیا کے مطابق یہ ویڈیو ویبو پر 12 نومبر کو شمالی صوبے ہبئی کی ایک یونیورسٹی سے پوسٹ کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طالبہ کی یہ ویڈیو اس کے ساتھیوں نے بنائی تھی جو رات گئے پڑھائی کررہے تھے جب لائٹ بند ہوگئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس طالبہ نے اپنے ایک دوست سے فلورسینٹ لائٹ لی اور اسے بالوں میں پھنسا کر آن کیا تاکہ اپنی پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھ سکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق یہ طالبہ چین کے سالانہ یونیفائیڈ گریجویٹ انٹرنس امتحان کی تیاری کررہی تھی، یہ چین میں ماسٹر پروگرام میں داخلے کا امتحان ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ویڈیو ویبو پر وائرل ہوکر بحث کا موضوع بن گئی جبکہ اسے 14 نومبر تک 29 کروڑ بار دیکھا جاچکا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس ویڈیو پر ہزاروں تھریڈز بنی جہاں لوگوں نے اس پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ پہلا موقع نہیں جب چین میں کوئی طالبعلم اس طرح سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2020 میں بھی بیجنگ کی ایک یونیورسٹی کے طالبعلم کی تصویر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ بائیک پر سفر کے دوران لیپ ٹاپ پر پڑھائی کررہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چین میں ایک تخمینے کے مطابق 37 لاکھ سے زیادہ طالبعلموں نے 2021 کے گریجویٹ پروگرام کے انٹرنس امتحان میں شرکت کریں گے جو دسمبر کے وسط میں ہوں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>چین میں ایک طالبہ کو سخت محنت کی ایک مثال قرار دیا جارہا ہے جس کی وجہ اس کی ایک ویڈیو وائرل ہونا ہے۔</p>
<p>چینی سوشل میڈیا سائٹ ویبو میں ایک ویڈیو <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.insider.com/woman-reading-light-ponytail-china-new-viral-symbol-hard-work-2021-11"><strong>وائرل</strong></a> ہوئی ہے جس میں ایک طالبہ ممکنہ طور پر یونیورسٹی نوٹس کے ڈھیڑ کے سامنے بیٹھی ہے اور ایک بڑی لائٹ اس کے بالوں میں پھنسی روشن ہے۔</p>
<p>چینی میڈیا کے مطابق یہ ویڈیو ویبو پر 12 نومبر کو شمالی صوبے ہبئی کی ایک یونیورسٹی سے پوسٹ کی گئی تھی۔</p>
<p>اس طالبہ کی یہ ویڈیو اس کے ساتھیوں نے بنائی تھی جو رات گئے پڑھائی کررہے تھے جب لائٹ بند ہوگئی۔</p>
<p>اس طالبہ نے اپنے ایک دوست سے فلورسینٹ لائٹ لی اور اسے بالوں میں پھنسا کر آن کیا تاکہ اپنی پڑھائی کا سلسلہ جاری رکھ سکے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق یہ طالبہ چین کے سالانہ یونیفائیڈ گریجویٹ انٹرنس امتحان کی تیاری کررہی تھی، یہ چین میں ماسٹر پروگرام میں داخلے کا امتحان ہوتا ہے۔</p>
<p>یہ ویڈیو ویبو پر وائرل ہوکر بحث کا موضوع بن گئی جبکہ اسے 14 نومبر تک 29 کروڑ بار دیکھا جاچکا تھا۔</p>
<p>اس ویڈیو پر ہزاروں تھریڈز بنی جہاں لوگوں نے اس پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔</p>
<p>یہ پہلا موقع نہیں جب چین میں کوئی طالبعلم اس طرح سوشل میڈیا پر وائرل ہوا ہو۔</p>
<p>2020 میں بھی بیجنگ کی ایک یونیورسٹی کے طالبعلم کی تصویر وائرل ہوئی تھی جس میں وہ بائیک پر سفر کے دوران لیپ ٹاپ پر پڑھائی کررہا تھا۔</p>
<p>چین میں ایک تخمینے کے مطابق 37 لاکھ سے زیادہ طالبعلموں نے 2021 کے گریجویٹ پروگرام کے انٹرنس امتحان میں شرکت کریں گے جو دسمبر کے وسط میں ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1172655</guid>
      <pubDate>Wed, 17 Nov 2021 00:43:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/11/6193e125dfe8d.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/11/6193e125dfe8d.jpg"/>
        <media:title>— اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
