<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Amazing</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 03:08:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 03:08:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>زمین پر سیارچے کو ٹکرانے سے روکنے کیلئے انسان کیا کریں گے؟
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1173005/</link>
      <description>&lt;p&gt;اگر کوئی سیارچہ کبھی زمین پر ٹکرا جائے تو انسانیت کے خاتمے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکی خلائی ادارے ناسا نے اس سے بچنے کا منصوبہ تیار کرلیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درحقیقت ناسا کا یہ منصوبہ کافی حد تک 1999 کی ایک ہولی وڈ فلم آرماگیڈن سے ملتا جلتا محسوس ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اگر آپ نے وہ فلم دیکھی ہو تو یاد ہوگا کہ اس میں ڈرلرز کی ایک ٹیم کو زمین کے خطرہ بن جانے والے سیارچے میں بھجوا کر کھدائی کرائی گئی اور پھر جوہری بم کا دھماکا کرکے اسے ریزہ ریزہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر ناسا نے سیارچے یا خلائی چٹانوں کو کسی جوہری بم سے روکنے کی بجائے براہ راست کسی اسپیس کرافٹ سے ٹکرانے کی منصوبہ بندی کی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس مقصد کے لیے ناسا کا &lt;a href="https://www.space.com/nasa-dart-asteroid-impact-mission-launch-webcast"&gt;&lt;strong&gt;ڈبل ایسٹرائیڈ ری ڈائریکٹ ٹیسٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; (ڈارٹ) مشن امریکی وقت کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایک بج کر 20 منٹ پر پہلے آزمائش مشن پر روانہ ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;امریکی خلائی ادارے نے بتایا کہ اس مشن سے یہ تعین کرنے میں مدد ملے گی کہ کسی اسپیس کرافٹ کو کسی سیارچے سے دانستہ طور پر ٹکرانا اس کے راستے کو بدلنے میں کس حد تک مؤثر ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آزمائشی مشن میں ڈارٹ کی جانب سے ایک ایسے سیارچے کو ہدف بنایا جارہا ہے جو زمین کے لیے خطرہ نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/11/619d05f309397.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/11/619d05f309397.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/11/619d05f309397.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/11/619d05f309397.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="ناسا کے ڈارٹ اسپیس کرافٹ اور سیارچے کا ایک خاکہ &amp;mdash; فوٹو بشکریہ ناسا" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;ناسا کے ڈارٹ اسپیس کرافٹ اور سیارچے کا ایک خاکہ — فوٹو بشکریہ ناسا&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ مشن کیلیفورنیا کی وینڈنبرگ اسپیس فورس بیس سے روانہ ہوگا اور 6.6 کلو میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرکے چھوٹے سیارچے ڈیموروفوس تک پہنچے گا جو ایک اور بڑے سیارے ڈیڈیموس کے گرد چکر لگارہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ستمبر 2022 میں کسی وقت یہ مشن دانستہ طور پر سیارچے سے اس وقت ٹکرائے گا جب وہ زمین سے ایک کروڑ 10 لاکھ کلومیٹر دور ہوگا، جس کے بعد دونوں سیارچوں کے مدار میں معمولی تبدیلی آئے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ناسا کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ڈیڈیموس سسٹم ڈارت کے لیے بہترین ہدف ہے کیونکہ اس سے زمین کو کوئی حقیقی خطرہ لاحق نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ویسے حجم میں 140 میٹر سے بڑے کسی سیارچے کا زمین سے اگلے 100 برسوں میں ٹکرانے کا کوئی زیادہ بڑا خطرہ نہیں مگر کسی غیرمتوقع خطرے سے نمٹنے کے لیے اس دفاعی نظام پر کام کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ زمین پر اکثر سیارچے ٹکراتے رہتے ہیں جو کہ حجم میں بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور ان سے کوئی نقصان نہیں ہوتا یا وہ غیرآباد علاقے سے ٹکراتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ناسا کے پلانٹیری ڈیفنس آفیسر لنڈلے جونسن نے بتایا کہ ڈارٹ سے پہلی بار اس تیکنیک کا مظاہرہ کیا جائے گا جس میں ایک اسپیس کرافٹ دانستہ طور پر ایک تیزی سے حرکت کرتے سیارے سے ٹکرا کر خلا میں اس کے حرکت کو بدلا جائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اگر کوئی سیارچہ کبھی زمین پر ٹکرا جائے تو انسانیت کے خاتمے کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ امریکی خلائی ادارے ناسا نے اس سے بچنے کا منصوبہ تیار کرلیا۔</p>

<p>درحقیقت ناسا کا یہ منصوبہ کافی حد تک 1999 کی ایک ہولی وڈ فلم آرماگیڈن سے ملتا جلتا محسوس ہوتا ہے۔</p>

<p>اگر آپ نے وہ فلم دیکھی ہو تو یاد ہوگا کہ اس میں ڈرلرز کی ایک ٹیم کو زمین کے خطرہ بن جانے والے سیارچے میں بھجوا کر کھدائی کرائی گئی اور پھر جوہری بم کا دھماکا کرکے اسے ریزہ ریزہ کیا گیا۔</p>

<p>مگر ناسا نے سیارچے یا خلائی چٹانوں کو کسی جوہری بم سے روکنے کی بجائے براہ راست کسی اسپیس کرافٹ سے ٹکرانے کی منصوبہ بندی کی ہے۔</p>

<p>اس مقصد کے لیے ناسا کا <a href="https://www.space.com/nasa-dart-asteroid-impact-mission-launch-webcast"><strong>ڈبل ایسٹرائیڈ ری ڈائریکٹ ٹیسٹ</strong></a> (ڈارٹ) مشن امریکی وقت کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایک بج کر 20 منٹ پر پہلے آزمائش مشن پر روانہ ہورہا ہے۔</p>

<p>امریکی خلائی ادارے نے بتایا کہ اس مشن سے یہ تعین کرنے میں مدد ملے گی کہ کسی اسپیس کرافٹ کو کسی سیارچے سے دانستہ طور پر ٹکرانا اس کے راستے کو بدلنے میں کس حد تک مؤثر ہے۔</p>

<p>آزمائشی مشن میں ڈارٹ کی جانب سے ایک ایسے سیارچے کو ہدف بنایا جارہا ہے جو زمین کے لیے خطرہ نہیں۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/11/619d05f309397.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/11/619d05f309397.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/11/619d05f309397.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/11/619d05f309397.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="ناسا کے ڈارٹ اسپیس کرافٹ اور سیارچے کا ایک خاکہ &mdash; فوٹو بشکریہ ناسا" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">ناسا کے ڈارٹ اسپیس کرافٹ اور سیارچے کا ایک خاکہ — فوٹو بشکریہ ناسا</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>یہ مشن کیلیفورنیا کی وینڈنبرگ اسپیس فورس بیس سے روانہ ہوگا اور 6.6 کلو میٹر فی سیکنڈ کی رفتار سے سفر کرکے چھوٹے سیارچے ڈیموروفوس تک پہنچے گا جو ایک اور بڑے سیارے ڈیڈیموس کے گرد چکر لگارہا ہے۔</p>

<p>ستمبر 2022 میں کسی وقت یہ مشن دانستہ طور پر سیارچے سے اس وقت ٹکرائے گا جب وہ زمین سے ایک کروڑ 10 لاکھ کلومیٹر دور ہوگا، جس کے بعد دونوں سیارچوں کے مدار میں معمولی تبدیلی آئے گی۔</p>

<p>ناسا کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ ڈیڈیموس سسٹم ڈارت کے لیے بہترین ہدف ہے کیونکہ اس سے زمین کو کوئی حقیقی خطرہ لاحق نہیں۔</p>

<p>ویسے حجم میں 140 میٹر سے بڑے کسی سیارچے کا زمین سے اگلے 100 برسوں میں ٹکرانے کا کوئی زیادہ بڑا خطرہ نہیں مگر کسی غیرمتوقع خطرے سے نمٹنے کے لیے اس دفاعی نظام پر کام کیا جارہا ہے۔</p>

<p>واضح رہے کہ زمین پر اکثر سیارچے ٹکراتے رہتے ہیں جو کہ حجم میں بہت چھوٹے ہوتے ہیں اور ان سے کوئی نقصان نہیں ہوتا یا وہ غیرآباد علاقے سے ٹکراتے ہیں۔</p>

<p>ناسا کے پلانٹیری ڈیفنس آفیسر لنڈلے جونسن نے بتایا کہ ڈارٹ سے پہلی بار اس تیکنیک کا مظاہرہ کیا جائے گا جس میں ایک اسپیس کرافٹ دانستہ طور پر ایک تیزی سے حرکت کرتے سیارے سے ٹکرا کر خلا میں اس کے حرکت کو بدلا جائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Amazing</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1173005</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Nov 2021 20:23:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/11/619d057a968cb.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/11/619d057a968cb.jpg"/>
        <media:title>ڈارٹ نامی مشن 23 اور 24 نومبر کی درمیانی شب روانہ ہوگا — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
