<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 01:54:19 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 01:54:19 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کووڈ ویکسین کی اضافی خوراک زیادہ ٹھوس اور طویل المعیاد تحفظ فراہم کرتی ہے، تحقیق
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1173012/</link>
      <description>&lt;p&gt;کووڈ 19 ویکسینز کا بوسٹر ڈوز ابتدائی 2 خوراکوں کے مقابلے میں زیادہ ٹھوس اور طویل المعیاد تحفظ کو متحرک کرتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی &lt;a href="https://medicalxpress.com/news/2021-11-booster-shots-prompt-stronger-longer.html"&gt;&lt;strong&gt;تحقیق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں سامنے آئی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ویکسینیشن مکمل کرانے والے ایسے افراد میں بوسٹر ڈوز کا ردعمل زیادہ بہترین ہوتا ہے جو ماضی میں کووڈ کو شکست دے چکے ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے بتایا کہ چونکہ اینٹی باڈی لیول بہت زیادہ ہوتا ہے جس سے عندیہ ملتا ہے کہ بوسٹر ڈوز سے ہمیں ویکسین کی ابتدائی 2 خوراکوں کے مقابلے میں زیادہ طویل عرصے تک تحفظ ملتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق میں 33 صحت مند ایسے جوان افراد کو شامل کیا گیا تھا جن کی ویکسینیشن مکمل ہوچکی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان افراد کی اوسط عمر 43 سال تھی یعنی نصف درمیانی عمر جبکہ باقی جوان تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق کے لیے ان افراد کے خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ فائزر یا موڈرنا ویکسینز کی 2 خوراکوں کے استعمال کے 9 ماہ بعد وائرس ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کی سطح میں 10 گنا کمی آچکی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر بوسٹر ڈوز کے استعمال کے بعد اینٹی باڈیز کی سطح میں 25 گنا اضافہ ہوا اور یہ تعداد ابتدائی 2 خوراکوں کے بعد بننے والی اینٹی باڈیز سے 5 گنا سے زیادہ تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ کووڈ کو شکست دینے کے بعد ویکسینیشن کرانے والے افراد میں بوسٹر ڈوز کے بعد اینٹی باڈیز کی سطح میں 50 گنا اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے بلکہ پری پرنٹ سرور medRxiv پر جاری کیے گئے، تو انہیں ابتدائی نتائج تصور کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے بتایا کہ بوسٹر ڈوز سے ڈیلٹا وائرس کو ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کی سطح میں بھی بڑھ گئی، مگر یہ ردعمل وائرس کی اوریجنل قسم کے خلاف اس سے بھی زیادہ تھوس ہوتا ہے، کیونکہ وہ ویکسینز کا بنیادی ہدف ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نتائج ان افراد کے لیے اہم ہیں جو بوسٹر شاٹ کے استعمال پر غور کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1168797' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/large/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/6172ba546c03d.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ ایم آر این اے ویکسینز سے کووڈ 19 کے سنگین کیسز کے خلاف زیادہ تھفظ ملتا ہے، مگر یہ اثر وقت کے ساتھ کم ہونے لگتا ہے بالخصوص ان اینٹی باڈیز کی سطح میں جو بیماری کی روک تھام کرتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ یہی وجہ ہے کہ ہم ویکسینیشن کے بعد بیماری کے کیسز کی شرح مٰں اضافے کو دیکھ رہے ہیں بالخصوص اس وقت جب زیادہ متعدی قسم ڈیلٹا کے پھیل رہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماہرین نے کہا کہ تحقیق میں شامل لوگوں کی تعداد کم تھی مگر زیادہ امکان یہی ہے کہ بڑی آبادی میں بھی یہی اثرات دیکھنے میں آئیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کووڈ 19 ویکسینز کا بوسٹر ڈوز ابتدائی 2 خوراکوں کے مقابلے میں زیادہ ٹھوس اور طویل المعیاد تحفظ کو متحرک کرتی ہے۔</p>

<p>یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک نئی طبی <a href="https://medicalxpress.com/news/2021-11-booster-shots-prompt-stronger-longer.html"><strong>تحقیق</strong></a> میں سامنے آئی۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>نارتھ ویسٹرن یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ ویکسینیشن مکمل کرانے والے ایسے افراد میں بوسٹر ڈوز کا ردعمل زیادہ بہترین ہوتا ہے جو ماضی میں کووڈ کو شکست دے چکے ہوتے ہیں۔</p>

<p>محققین نے بتایا کہ چونکہ اینٹی باڈی لیول بہت زیادہ ہوتا ہے جس سے عندیہ ملتا ہے کہ بوسٹر ڈوز سے ہمیں ویکسین کی ابتدائی 2 خوراکوں کے مقابلے میں زیادہ طویل عرصے تک تحفظ ملتا ہے۔</p>

<p>اس تحقیق میں 33 صحت مند ایسے جوان افراد کو شامل کیا گیا تھا جن کی ویکسینیشن مکمل ہوچکی تھی۔</p>

<p>ان افراد کی اوسط عمر 43 سال تھی یعنی نصف درمیانی عمر جبکہ باقی جوان تھے۔</p>

<p>تحقیق کے لیے ان افراد کے خون کے نمونوں کا تجزیہ کیا گیا۔</p>

<p>تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ فائزر یا موڈرنا ویکسینز کی 2 خوراکوں کے استعمال کے 9 ماہ بعد وائرس ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کی سطح میں 10 گنا کمی آچکی تھی۔</p>

<p>مگر بوسٹر ڈوز کے استعمال کے بعد اینٹی باڈیز کی سطح میں 25 گنا اضافہ ہوا اور یہ تعداد ابتدائی 2 خوراکوں کے بعد بننے والی اینٹی باڈیز سے 5 گنا سے زیادہ تھی۔</p>

<p>مگر تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ کووڈ کو شکست دینے کے بعد ویکسینیشن کرانے والے افراد میں بوسٹر ڈوز کے بعد اینٹی باڈیز کی سطح میں 50 گنا اضافہ ہوا۔</p>

<p>اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے بلکہ پری پرنٹ سرور medRxiv پر جاری کیے گئے، تو انہیں ابتدائی نتائج تصور کیا جاسکتا ہے۔</p>

<p>محققین نے بتایا کہ بوسٹر ڈوز سے ڈیلٹا وائرس کو ناکارہ بنانے والی اینٹی باڈیز کی سطح میں بھی بڑھ گئی، مگر یہ ردعمل وائرس کی اوریجنل قسم کے خلاف اس سے بھی زیادہ تھوس ہوتا ہے، کیونکہ وہ ویکسینز کا بنیادی ہدف ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ نتائج ان افراد کے لیے اہم ہیں جو بوسٹر شاٹ کے استعمال پر غور کررہے ہیں۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1168797' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/large/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/6172ba546c03d.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ہم جانتے ہیں کہ ایم آر این اے ویکسینز سے کووڈ 19 کے سنگین کیسز کے خلاف زیادہ تھفظ ملتا ہے، مگر یہ اثر وقت کے ساتھ کم ہونے لگتا ہے بالخصوص ان اینٹی باڈیز کی سطح میں جو بیماری کی روک تھام کرتی ہیں۔</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ یہی وجہ ہے کہ ہم ویکسینیشن کے بعد بیماری کے کیسز کی شرح مٰں اضافے کو دیکھ رہے ہیں بالخصوص اس وقت جب زیادہ متعدی قسم ڈیلٹا کے پھیل رہی ہے۔</p>

<p>ماہرین نے کہا کہ تحقیق میں شامل لوگوں کی تعداد کم تھی مگر زیادہ امکان یہی ہے کہ بڑی آبادی میں بھی یہی اثرات دیکھنے میں آئیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1173012</guid>
      <pubDate>Tue, 23 Nov 2021 23:17:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/11/619d2d6d8c7f4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/11/619d2d6d8c7f4.jpg"/>
        <media:title>یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
