<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 18:27:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 18:27:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کورونا کی نئی قسم اومیکرون کے بارے میں حقیقی دنیا کا پہلا ڈیٹا سامنے آگیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1173516/</link>
      <description>&lt;p&gt;کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کے بارے میں حقیقی دنیا کا پہلا ڈیٹا سامنے آگیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنوبی افریقہ کے سائنسدانوں کی جانب سے جاری &lt;a href="https://www.bbc.com/news/health-59520945"&gt;&lt;strong&gt;تحقیق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں بتایا گیا کہ ڈیٹا سے عندیہ ملتا ہے کہ کورونا کی یہ نئی قسم بیماری کے خلاف جسم میں پیدا ہونے والی مدافعت کے خلاف کسی حد تک حملہ آور ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درحقیقت محققین نے جنوبی افریقہ میں ایسے افراد کی تعداد میں اضافے کو دیکھا ہے جو دوسری یا اس سے زیادہ بار کووڈ 19 سے متاثر ہوئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ ایک ابتدائی تجزیہ ہے اور حتمی نہیں، مگر اومیکرون کے اسپائیک پروٹین میں ہونے والی میوٹیشنز کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات سے مطابقت رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ابھی یہ بھی واضح نہیں کہ ویکسینز سے کووڈ 19 سے ملنے والے تحفظ کے حوالے سے یہ ڈیٹا کس حد تک کارآمد ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنوبی افریقہ نے ہی کورونا کی اس نئی قسم کو سب سے پہلے رپورٹ کیا تھا اور دنیا بھر کے ماہرین اس کے حقیقی خطرے کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اب اومیکرون کے حوالے سے پہلی تحقیق کے نتائج سامنے آئے ہیں جس کے مطابق جو افراد ماضی میں کووڈ کا سامنا کرچکے ہیں، ان میں پیدا ہونے والی مدافعت ممکنہ طور پر اومیکرون سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے کافی نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ اومیکرون کے کیسز اب تک 30 سے زیادہ ممالک میں سامنے آچکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق کے لیے ماہرین نے جنوبی افریقہ میں کووڈ ری انفیکشن کے لگ بھگ 36 ہزار مشتبہ کیسز کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی تاکہ دیکھا جاسکے کہ وبا کے دوران دوبارہ بیمار ہونے کی شرح میں کس حد تک تبدیلیاں آئی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نتائج سے معلوم ہوا کہ کووڈ سے دوبارہ متاثر ہونے کی شرح میں بیٹا یا ڈیلٹا کی لہروں کے دوران کوئی تبدیلی نہیں آئی مگر اس بار جنوبی افریقہ میں ری انفیکشن کیسز میں اضافہ ہورہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے تمام مریضوں کو ٹیسٹ کرکے اومیکرون سے متاثر ہونے کی تصدیق تو نہیں مگر ان کا کہنا تھا کہ بیماری کے وقت سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ نئی قسم ہی اس کی وجہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ اومیکرون میں کم از کم قدرتی بیماری کا سامنا رکنے والے افراد کو بیمار کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر یہ معمے کا ایک حصہ ہے اور ابھی یہ جاننا باقی ہے کہ ویکسینز سے پیدا ہونے والی مدافعت کے خلاف اس نئی قسم کس حد تک خطرناک ہے اور مدافعت میں کس حد تک کمی دوبارہ بیماری کا باعث بنتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وائرس پر حملہ آور ہونے والی اینٹی باڈیز کے بارے میں لیبارٹری تحقیقی رپورٹس کے نتائج آئندہ ہفتے سے سامنے آنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنوبی افریقہ میں ابھی صرف 24 فیصد افراد کی ویکسینیشن مکمل ہوئی ہے اور محققین کا کہنا ہے کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کی صورتحال کا سامنا ان ممالک کو بھی ہوسکتا ہے جہاں ویکسینیشن کی شرح کم اور قدرتی بیماری سے پیدا ہونے والی مدافعت کی شرح زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے زور دیا کہ ابھی ایسا نہیں کہا جاسکتا کہ اومیکرون ویکسین سے بننے والی مدافعت پر حملہ آور ہوسکتی ہے کیونکہ ابھی اس حوالے سے ڈیٹا موجود نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے بلکہ پری پرنٹ سرور پر جاری کیے گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل 2 دسمبر کو نیشنل انسٹیٹوٹ فار کمیونیکیبل ڈیزیز (این آئی سی ڈی) کی ماہر این وون گوتھبرگ نے بتایا کہ ہمارا ماننا ہے کہ سابقہ بیماری سے اومیکرون سے تحفظ نہیں ملتا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1168797' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/large/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/6172ba546c03d.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کورونا کی نئی قسم کے حوالے سے ابتدائی تحقیق کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر اومیکرون کے باعث لوگوں میں دوسری بار کووڈ کیسز کی شرح میں اضافے کو دیکھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت کے افریقہ میں حکام کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران این وون نے بتایا کہ ہمارا ماننا ہے کہ کیسز کی تعداد میں ملک کے تمام صوبوں میں بہت تیزی سے اضافہ ہوگا مگر ہمارا یہ بھی ماننا ہے کہ ویکسینز سے بیماری کی سنگین شدت سے اب بھی تحفظ ملے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ویکسینز سے ہمیشہ بیماری کی زیادہ شدت، ہسپتال میں داخلے اور موت کے خطرے سے تحفط ملتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کورونا وائرس کی نئی قسم اومیکرون کے بارے میں حقیقی دنیا کا پہلا ڈیٹا سامنے آگیا ہے۔</p>

<p>جنوبی افریقہ کے سائنسدانوں کی جانب سے جاری <a href="https://www.bbc.com/news/health-59520945"><strong>تحقیق</strong></a> میں بتایا گیا کہ ڈیٹا سے عندیہ ملتا ہے کہ کورونا کی یہ نئی قسم بیماری کے خلاف جسم میں پیدا ہونے والی مدافعت کے خلاف کسی حد تک حملہ آور ہوسکتی ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>درحقیقت محققین نے جنوبی افریقہ میں ایسے افراد کی تعداد میں اضافے کو دیکھا ہے جو دوسری یا اس سے زیادہ بار کووڈ 19 سے متاثر ہوئے ہیں۔</p>

<p>یہ ایک ابتدائی تجزیہ ہے اور حتمی نہیں، مگر اومیکرون کے اسپائیک پروٹین میں ہونے والی میوٹیشنز کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات سے مطابقت رکھتا ہے۔</p>

<p>ابھی یہ بھی واضح نہیں کہ ویکسینز سے کووڈ 19 سے ملنے والے تحفظ کے حوالے سے یہ ڈیٹا کس حد تک کارآمد ہے۔</p>

<p>جنوبی افریقہ نے ہی کورونا کی اس نئی قسم کو سب سے پہلے رپورٹ کیا تھا اور دنیا بھر کے ماہرین اس کے حقیقی خطرے کو سمجھنے کی کوشش کررہے ہیں۔</p>

<p>اب اومیکرون کے حوالے سے پہلی تحقیق کے نتائج سامنے آئے ہیں جس کے مطابق جو افراد ماضی میں کووڈ کا سامنا کرچکے ہیں، ان میں پیدا ہونے والی مدافعت ممکنہ طور پر اومیکرون سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے کافی نہیں۔</p>

<p>واضح رہے کہ اومیکرون کے کیسز اب تک 30 سے زیادہ ممالک میں سامنے آچکے ہیں۔</p>

<p>اس تحقیق کے لیے ماہرین نے جنوبی افریقہ میں کووڈ ری انفیکشن کے لگ بھگ 36 ہزار مشتبہ کیسز کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی تاکہ دیکھا جاسکے کہ وبا کے دوران دوبارہ بیمار ہونے کی شرح میں کس حد تک تبدیلیاں آئی ہیں۔</p>

<p>نتائج سے معلوم ہوا کہ کووڈ سے دوبارہ متاثر ہونے کی شرح میں بیٹا یا ڈیلٹا کی لہروں کے دوران کوئی تبدیلی نہیں آئی مگر اس بار جنوبی افریقہ میں ری انفیکشن کیسز میں اضافہ ہورہا ہے۔</p>

<p>محققین نے تمام مریضوں کو ٹیسٹ کرکے اومیکرون سے متاثر ہونے کی تصدیق تو نہیں مگر ان کا کہنا تھا کہ بیماری کے وقت سے عندیہ ملتا ہے کہ یہ نئی قسم ہی اس کی وجہ ہے۔</p>

<p>محققین نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ اومیکرون میں کم از کم قدرتی بیماری کا سامنا رکنے والے افراد کو بیمار کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔</p>

<p>مگر یہ معمے کا ایک حصہ ہے اور ابھی یہ جاننا باقی ہے کہ ویکسینز سے پیدا ہونے والی مدافعت کے خلاف اس نئی قسم کس حد تک خطرناک ہے اور مدافعت میں کس حد تک کمی دوبارہ بیماری کا باعث بنتی ہے۔</p>

<p>وائرس پر حملہ آور ہونے والی اینٹی باڈیز کے بارے میں لیبارٹری تحقیقی رپورٹس کے نتائج آئندہ ہفتے سے سامنے آنے کا امکان ہے۔</p>

<p>جنوبی افریقہ میں ابھی صرف 24 فیصد افراد کی ویکسینیشن مکمل ہوئی ہے اور محققین کا کہنا ہے کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ اس طرح کی صورتحال کا سامنا ان ممالک کو بھی ہوسکتا ہے جہاں ویکسینیشن کی شرح کم اور قدرتی بیماری سے پیدا ہونے والی مدافعت کی شرح زیادہ ہے۔</p>

<p>محققین نے زور دیا کہ ابھی ایسا نہیں کہا جاسکتا کہ اومیکرون ویکسین سے بننے والی مدافعت پر حملہ آور ہوسکتی ہے کیونکہ ابھی اس حوالے سے ڈیٹا موجود نہیں۔</p>

<p>اس تحقیق کے نتائج ابھی کسی طبی جریدے میں شائع نہیں ہوئے بلکہ پری پرنٹ سرور پر جاری کیے گئے۔</p>

<p>اس سے قبل 2 دسمبر کو نیشنل انسٹیٹوٹ فار کمیونیکیبل ڈیزیز (این آئی سی ڈی) کی ماہر این وون گوتھبرگ نے بتایا کہ ہمارا ماننا ہے کہ سابقہ بیماری سے اومیکرون سے تحفظ نہیں ملتا۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1168797' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/large/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/6172ba546c03d.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>کورونا کی نئی قسم کے حوالے سے ابتدائی تحقیق کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر اومیکرون کے باعث لوگوں میں دوسری بار کووڈ کیسز کی شرح میں اضافے کو دیکھ رہے ہیں۔</p>

<p>عالمی ادارہ صحت کے افریقہ میں حکام کے ساتھ پریس کانفرنس کے دوران این وون نے بتایا کہ ہمارا ماننا ہے کہ کیسز کی تعداد میں ملک کے تمام صوبوں میں بہت تیزی سے اضافہ ہوگا مگر ہمارا یہ بھی ماننا ہے کہ ویکسینز سے بیماری کی سنگین شدت سے اب بھی تحفظ ملے گا۔</p>

<p>انہوں نے مزید کہا کہ ویکسینز سے ہمیشہ بیماری کی زیادہ شدت، ہسپتال میں داخلے اور موت کے خطرے سے تحفط ملتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1173516</guid>
      <pubDate>Fri, 03 Dec 2021 20:56:36 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/12/61aa3c7f11713.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/12/61aa3c7f11713.jpg"/>
        <media:title>یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
