<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 00:11:28 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 00:11:28 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایف بی آر نے جائیداد کی نئی قیمتوں کا اطلاق 16 جنوری تک معطل کردیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1173717/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد: جائیداد کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے پر جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اگلے سال 16 جنوری تک ٹیکسوں کے لیے نئی قیمتوں کو مؤخر کردیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1662504/fbr-puts-off-new-property-valuations-till-jan-16"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق ایف بی آر کے فیصلے کے بعد جائیداد کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اور ریئل اسٹیٹ کے اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے شکایات موصول ہو رہی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ ایف بی آر نے یکم دسمبر کو ملک کے 40 بڑے شہروں میں ٹیکس لگانے کے مقصد سے پراپرٹی کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا تاکہ انہیں مارکیٹ ریٹ کے برابر لایا جا سکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1173663"&gt;سینیٹ کمیٹی کا ایف بی آر کو جائیداد کی نئی قیمتیں واپس لینے کا حکم&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جائیداد کے لین دین پر اصل انکم ٹیکس وصول کرنے کے لیے نرخوں پر نظر ثانی کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ضمن میں جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ان لینڈ ریونیو کے تمام چیف کمشنرز (سی سی آئی آرز) قیمتوں پر نظرِ ثانی کی کمیٹیاں (وی آر سی) تشکیل دیں گے اور انہیں 10 دسمبر تک نوٹیفائی کریں گے جبکہ کوئی بھی اسٹیک ہولڈر جسے قیمتوں پر تحفظات ہوں وہ 15 دسمبر تک وی آر سی میں درخواست دے سکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سی سی آئی آرز اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بامعنی مشاورتی عمل کریں گے اور قیمتوں کے تعین کے لیے اسٹیٹ بینک سے منظور شدہ قیمتوں کو شامل کریں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف بی آر نے پہلے ہی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعلیٰ پراپرٹی ویلیوایشن ماہرین کو شامل کرنے کا اعلان کیا ہے جو اہم اسٹیک ہولڈرز اور ٹاؤن ڈویلپرز، ریئل اسٹیٹ ایجنٹس کے ساتھ بامعنی مشاورت کریں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1159108"&gt;ایف بی آر کو اپریل میں ہدف سے 34 ارب روپے اضافی ٹیکس وصول&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس مشاورتی عمل میں ایسے معاملات کا انفرادی طور پر جائزہ لیا جائے گا اور اگر کوئی بگاڑ ہے تو اسے دور کرنے اور جائیداد کی قیمت کو مارکیٹ کی قیمت کے قریب لانے کے لیے ضروری سفارشات پیش کی جائیں گی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جب تک یہ عمل مکمل نہیں ہو جاتا، جنوری 2022 کے وسط تک نئی قیمتوں کا اطلاق معطل رہے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف بی آر کو حال ہی میں جائیداد کی نئی قیمتوں کے نوٹی فکیشن کے بعد ملک بھر سے متعدد اسٹیک ہولڈرز بشمول ریئل اسٹیٹ ایجنٹس اور ٹاؤن ڈویلپرز کی جانب سے پراپرٹی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی شکایات موصول ہوئی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف بی آر نے جائیداد کی قیمتوں میں بے ضابطگیوں کا جائزہ لینے اور اسے معقول بنانے کے لیے اپنائے جانے والے طریقہ کار کے حوالے سے ایک آفس میمورنڈم کے ذریعے تفصیلی ہدایات جاری کی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1099422"&gt;ایف بی آر نے بے نامی جائیداد رکھنے والوں کو سخت سزائیں تیار کرلی&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جس کے مطابق ایف بی آر نے ان ویلیوایشن ٹیبل کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے جہاں اسٹیک ہولڈرز نے قیمتوں کے زائد یا کم ہونے کی نشاندہی کی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایف بی آر نے چند روز قبل 40 شہروں کے لیے قیمتوں کے تعین کے نئے ٹیبلز جاری کیے تھے تاکہ انہیں اصل مارکیٹ کے قریب لایا جاسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم بیورو کو متعدد اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے شکایات موصول ہوئیں جس میں نئے ٹیبلز میں بے ضابطگیوں اور خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;چنانچہ وی آر سی موصول ہونے والی درخواستوں پر 10 جنوری 2022 تک فیصلہ کرکے نوٹی فکیشن کے لیے اسے ایف بی آر بھجوائیں گی جس کے بعد وی آر سی کی قیمتوں کے حوالے سے تمام سفارشات کو 15 جنوری 2022 کو دوبارہ نوٹیفائیڈ کیا جائے گا جو 16 جنوری سے لاگو ہوں گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد: جائیداد کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے پر جاری تنازع کو ختم کرنے کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے اگلے سال 16 جنوری تک ٹیکسوں کے لیے نئی قیمتوں کو مؤخر کردیا۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1662504/fbr-puts-off-new-property-valuations-till-jan-16">رپورٹ</a></strong> کے مطابق ایف بی آر کے فیصلے کے بعد جائیداد کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ اور ریئل اسٹیٹ کے اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے شکایات موصول ہو رہی تھیں۔</p>

<p>خیال رہے کہ ایف بی آر نے یکم دسمبر کو ملک کے 40 بڑے شہروں میں ٹیکس لگانے کے مقصد سے پراپرٹی کی قیمتوں میں اضافہ کیا تھا تاکہ انہیں مارکیٹ ریٹ کے برابر لایا جا سکے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1173663">سینیٹ کمیٹی کا ایف بی آر کو جائیداد کی نئی قیمتیں واپس لینے کا حکم</a></strong></p>

<p>جائیداد کے لین دین پر اصل انکم ٹیکس وصول کرنے کے لیے نرخوں پر نظر ثانی کی گئی تھی۔</p>

<p>اس ضمن میں جاری ایک بیان میں کہا گیا کہ ان لینڈ ریونیو کے تمام چیف کمشنرز (سی سی آئی آرز) قیمتوں پر نظرِ ثانی کی کمیٹیاں (وی آر سی) تشکیل دیں گے اور انہیں 10 دسمبر تک نوٹیفائی کریں گے جبکہ کوئی بھی اسٹیک ہولڈر جسے قیمتوں پر تحفظات ہوں وہ 15 دسمبر تک وی آر سی میں درخواست دے سکتا ہے۔</p>

<p>سی سی آئی آرز اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ بامعنی مشاورتی عمل کریں گے اور قیمتوں کے تعین کے لیے اسٹیٹ بینک سے منظور شدہ قیمتوں کو شامل کریں گے۔</p>

<p>ایف بی آر نے پہلے ہی اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے اعلیٰ پراپرٹی ویلیوایشن ماہرین کو شامل کرنے کا اعلان کیا ہے جو اہم اسٹیک ہولڈرز اور ٹاؤن ڈویلپرز، ریئل اسٹیٹ ایجنٹس کے ساتھ بامعنی مشاورت کریں گے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1159108">ایف بی آر کو اپریل میں ہدف سے 34 ارب روپے اضافی ٹیکس وصول</a></strong></p>

<p>اس مشاورتی عمل میں ایسے معاملات کا انفرادی طور پر جائزہ لیا جائے گا اور اگر کوئی بگاڑ ہے تو اسے دور کرنے اور جائیداد کی قیمت کو مارکیٹ کی قیمت کے قریب لانے کے لیے ضروری سفارشات پیش کی جائیں گی۔</p>

<p>جب تک یہ عمل مکمل نہیں ہو جاتا، جنوری 2022 کے وسط تک نئی قیمتوں کا اطلاق معطل رہے گا۔</p>

<p>ایف بی آر کو حال ہی میں جائیداد کی نئی قیمتوں کے نوٹی فکیشن کے بعد ملک بھر سے متعدد اسٹیک ہولڈرز بشمول ریئل اسٹیٹ ایجنٹس اور ٹاؤن ڈویلپرز کی جانب سے پراپرٹی کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کی شکایات موصول ہوئی تھیں۔</p>

<p>ایف بی آر نے جائیداد کی قیمتوں میں بے ضابطگیوں کا جائزہ لینے اور اسے معقول بنانے کے لیے اپنائے جانے والے طریقہ کار کے حوالے سے ایک آفس میمورنڈم کے ذریعے تفصیلی ہدایات جاری کی تھیں۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1099422">ایف بی آر نے بے نامی جائیداد رکھنے والوں کو سخت سزائیں تیار کرلی</a></strong></p>

<p>جس کے مطابق ایف بی آر نے ان ویلیوایشن ٹیبل کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا ہے جہاں اسٹیک ہولڈرز نے قیمتوں کے زائد یا کم ہونے کی نشاندہی کی ہے۔</p>

<p>ایف بی آر نے چند روز قبل 40 شہروں کے لیے قیمتوں کے تعین کے نئے ٹیبلز جاری کیے تھے تاکہ انہیں اصل مارکیٹ کے قریب لایا جاسکے۔</p>

<p>تاہم بیورو کو متعدد اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے شکایات موصول ہوئیں جس میں نئے ٹیبلز میں بے ضابطگیوں اور خامیوں کی نشاندہی کی گئی تھی۔</p>

<p>چنانچہ وی آر سی موصول ہونے والی درخواستوں پر 10 جنوری 2022 تک فیصلہ کرکے نوٹی فکیشن کے لیے اسے ایف بی آر بھجوائیں گی جس کے بعد وی آر سی کی قیمتوں کے حوالے سے تمام سفارشات کو 15 جنوری 2022 کو دوبارہ نوٹیفائیڈ کیا جائے گا جو 16 جنوری سے لاگو ہوں گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1173717</guid>
      <pubDate>Wed, 08 Dec 2021 10:34:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/12/61b020e963d15.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/12/61b020e963d15.jpg"/>
        <media:title>ایف بی آر کو اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے شکایات موصول ہو رہی تھیں — فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
