<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 16:28:42 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 16:28:42 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیشنل بینک پر ہونے والے سائبر حملے کی تحقیقات کر رہے ہیں، ڈی جی ایف آئی اے
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1173958/</link>
      <description>&lt;p&gt;وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مختلف اداروں بشمول بینکوں پر ہونے والے سائبر حملوں کے حوالے سے تحقیقات شروع کردی ہیں اور اس ضمن میں سائبر کرائم پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے جس کے نتیجے میں اس سال اب تک ایک ہزار 160 ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر ثنااللہ عباسی نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز ایف آئی اے کے سندھ زونز کے دورے کے دوران ڈان اخبار سے بات کرتے ہوئے کیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ ایف آئی اے، نیشنل بینک آف پاکستان پر ہونے والے سائبر حملے کے بارے میں تحقیقات کر رہا ہے کیونکہ تمام اسٹیک ہولڈرز اس بات پر متفق ہیں کہ یہ معاملہ ایف آئی اے کہ دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق اکتوبر کے اواخر میں سائبر حملے کا نشانہ بننے کے باوجود نیشنل بینک نے باقاعدہ شکایت درج نہیں کروائی تھی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1171844"&gt;سائبر حملے پر این بی پی کی عدم شکایت کے باوجود ایف آئی اے کی مدد کی پیشکش&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈی جی ایف آئی اے سے پوچھا گیا کہ کیا ایف آئی اے کو بینک کی جانب سے کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جس پر ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے نیشنل بینک اور اسٹیٹ بینک کے اعلیٰ حکام سے بات کی تو انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ بینک پر ہونے والا سائبر حملہ ایف آئی اے کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈی جی ایف آئی نے سائبر کرائم اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے جاری سرگرمیوں کے متعلق بتایا کہ اس سال ادارے کو سائبر کرائم کے حوالے سے 75 ہزار 356 شکایات موصول ہوئی ہیں، یہ اس بات کا اشارہ کے ادارے کو افرادی قوت کی کمی کے باوجود کس بڑے چیلنج سے نمٹنا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ 14 ہزار 757 انکوائریوں کا آغاز کردیا گیا ہے، ایک ہزار 83 مقدمے درج کیے گئے ہیں جبکہ ایک ہزار 160 ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں یہ مقدمے جاری ہیں اور اب تک 28 ملزمان کو سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح ایف آئی نے 2017 سے اب تک منی لانڈرنگ کے 911 مقدمات درج کیے اور ایک ہزار 25 ملزمان کو گرفتار کیا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ 197 ملزمان کو سزائیں دی جاچکی ہیں جبکہ ان مقدمات میں کیس پراپرٹی کے طور پر 2 ارب 30 کروڑ روپے بھی ضبط کیے جاچکے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;غیر قانونی منی چینجرز کے بارے میں سوال کے جواب میں ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ آیف آئی اے نے منی چینجرز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 60 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے اور ان سے ملکی اور غیر ملکی کرنسی کی صورت میں تقریباً 26 کروڑ 30 لاکھ روپے برآمد کیے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;متروکہ وقف املاک بورڈ کے اثاثوں پر غیر قانونی قبضے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے متروکہ وقف املاک بورڈ کے اثاثوں پر قبضہ کرنے کے الزام میں 17 افراد کو گرفتار کرکے 2 ارب روپے سے زائد مالیت کی 13 زمینیں واگزار کروائی ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے ڈان کو تصدیق کی کہ اربوں روپے مالیت کے اثاثے متروکہ وقف املاک بورڈ کے حوالے کردیے گئے ہیں، اس کے علاوہ بھی متروکہ املاک کے 59 مقدمات میں تحقیقات جاری ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈی جی ایف آئی اے نے اپنے 2 روزہ دورہ سندھ کے دوران نواب شاہ، حیدر آباد، سکھر، لاڑکانہ اور کراچی زونز سے متعلق مختلف معاملات میں انکوائریوں اور شکایات پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آیف آئی اے میں افرادی قوت اور وسائل کی کمی کے حوالے سے سوال پر ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ بھرتیوں کا عمل پہلے ہی شروع ہوچکا ہے اور ادارے کو ضرورت پڑنے پر پولیس، کسٹمز اور دیگر محکموں کی خدمات لینے کی بھی ہدایات دی گئی ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1171731"&gt;سائبر حملے سے نیشنل بینک آف پاکستان کی خدمات متاثر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ ایف آئی اے کو 1100 اسامیوں کے لیے 11 لاکھ درخواستیں موصول ہوئی تھیں، ورچوئل یونیورسٹی کے ساتھ معاہدے کے بعد ہمیں امید ہے کہ بھرتیوں کا عمل مکمل ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ امیدواروں کے فزیکل ٹیسٹ لے لیے گئے ہیں جبکہ یونیورسٹی ان کا تحریری امتحان لے گی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کی توجہ منی لانڈرنگ اور سائبر کرائم پر ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل ڈی جی ایف آئی اے نے ہیڈ کواٹرز کے اعلیٰ حکام اور تمام زونل ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کی، انہوں نے ایف آئی اے حیدر آباد سندھ زون-2 کا دورہ کیا اور انکوائریوں میں تیزی لانے کے احکامات دیے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ اس سال ادارے نے تقریباً 20 ارب روپے واگزار کروائے ہیں جبکہ کرپشن کے کچھ بڑے مقدمات پر تفتیش جاری ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے مختلف محکموں کے ساتھ مل کر ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;hr /&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1663518/fia-digs-deep-into-cyberattack-on-nbp"&gt;خبر&lt;/a&gt; 13 دسمبر 2021 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے مختلف اداروں بشمول بینکوں پر ہونے والے سائبر حملوں کے حوالے سے تحقیقات شروع کردی ہیں اور اس ضمن میں سائبر کرائم پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے جس کے نتیجے میں اس سال اب تک ایک ہزار 160 ملزمان گرفتار ہو چکے ہیں۔ </p>

<p>ڈائریکٹر جنرل ایف آئی اے ڈاکٹر ثنااللہ عباسی نے ان خیالات کا اظہار گزشتہ روز ایف آئی اے کے سندھ زونز کے دورے کے دوران ڈان اخبار سے بات کرتے ہوئے کیا۔ </p>

<p>ایک سوال کے جواب میں ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ ایف آئی اے، نیشنل بینک آف پاکستان پر ہونے والے سائبر حملے کے بارے میں تحقیقات کر رہا ہے کیونکہ تمام اسٹیک ہولڈرز اس بات پر متفق ہیں کہ یہ معاملہ ایف آئی اے کہ دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ </p>

<p>ذرائع کے مطابق اکتوبر کے اواخر میں سائبر حملے کا نشانہ بننے کے باوجود نیشنل بینک نے باقاعدہ شکایت درج نہیں کروائی تھی۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1171844">سائبر حملے پر این بی پی کی عدم شکایت کے باوجود ایف آئی اے کی مدد کی پیشکش</a></strong></p>

<p>ڈی جی ایف آئی اے سے پوچھا گیا کہ کیا ایف آئی اے کو بینک کی جانب سے کسی قسم کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا جس پر ان کا کہنا تھا کہ جب انہوں نے نیشنل بینک اور اسٹیٹ بینک کے اعلیٰ حکام سے بات کی تو انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ بینک پر ہونے والا سائبر حملہ ایف آئی اے کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ </p>

<p>ڈی جی ایف آئی نے سائبر کرائم اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے جاری سرگرمیوں کے متعلق بتایا کہ اس سال ادارے کو سائبر کرائم کے حوالے سے 75 ہزار 356 شکایات موصول ہوئی ہیں، یہ اس بات کا اشارہ کے ادارے کو افرادی قوت کی کمی کے باوجود کس بڑے چیلنج سے نمٹنا ہے۔ </p>

<p>انہوں نے بتایا کہ 14 ہزار 757 انکوائریوں کا آغاز کردیا گیا ہے، ایک ہزار 83 مقدمے درج کیے گئے ہیں جبکہ ایک ہزار 160 ملزمان کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔ </p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں یہ مقدمے جاری ہیں اور اب تک 28 ملزمان کو سزائیں سنائی جاچکی ہیں۔ </p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ اسی طرح ایف آئی نے 2017 سے اب تک منی لانڈرنگ کے 911 مقدمات درج کیے اور ایک ہزار 25 ملزمان کو گرفتار کیا۔ </p>

<p>انہوں نے بتایا کہ 197 ملزمان کو سزائیں دی جاچکی ہیں جبکہ ان مقدمات میں کیس پراپرٹی کے طور پر 2 ارب 30 کروڑ روپے بھی ضبط کیے جاچکے ہیں۔</p>

<p>غیر قانونی منی چینجرز کے بارے میں سوال کے جواب میں ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ آیف آئی اے نے منی چینجرز کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 60 مشتبہ افراد کو گرفتار کیا ہے اور ان سے ملکی اور غیر ملکی کرنسی کی صورت میں تقریباً 26 کروڑ 30 لاکھ روپے برآمد کیے ہیں۔ </p>

<p>متروکہ وقف املاک بورڈ کے اثاثوں پر غیر قانونی قبضے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے نے متروکہ وقف املاک بورڈ کے اثاثوں پر قبضہ کرنے کے الزام میں 17 افراد کو گرفتار کرکے 2 ارب روپے سے زائد مالیت کی 13 زمینیں واگزار کروائی ہیں۔ </p>

<p>انہوں نے ڈان کو تصدیق کی کہ اربوں روپے مالیت کے اثاثے متروکہ وقف املاک بورڈ کے حوالے کردیے گئے ہیں، اس کے علاوہ بھی متروکہ املاک کے 59 مقدمات میں تحقیقات جاری ہیں۔ </p>

<p>ڈی جی ایف آئی اے نے اپنے 2 روزہ دورہ سندھ کے دوران نواب شاہ، حیدر آباد، سکھر، لاڑکانہ اور کراچی زونز سے متعلق مختلف معاملات میں انکوائریوں اور شکایات پر پیش رفت کا جائزہ لیا۔</p>

<p>آیف آئی اے میں افرادی قوت اور وسائل کی کمی کے حوالے سے سوال پر ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ بھرتیوں کا عمل پہلے ہی شروع ہوچکا ہے اور ادارے کو ضرورت پڑنے پر پولیس، کسٹمز اور دیگر محکموں کی خدمات لینے کی بھی ہدایات دی گئی ہیں۔ </p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1171731">سائبر حملے سے نیشنل بینک آف پاکستان کی خدمات متاثر</a></strong></p>

<p>انہوں نے بتایا کہ ایف آئی اے کو 1100 اسامیوں کے لیے 11 لاکھ درخواستیں موصول ہوئی تھیں، ورچوئل یونیورسٹی کے ساتھ معاہدے کے بعد ہمیں امید ہے کہ بھرتیوں کا عمل مکمل ہوجائے گا۔</p>

<p>انہوں نے بتایا کہ امیدواروں کے فزیکل ٹیسٹ لے لیے گئے ہیں جبکہ یونیورسٹی ان کا تحریری امتحان لے گی۔ </p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے کی توجہ منی لانڈرنگ اور سائبر کرائم پر ہے۔ </p>

<p>اس سے قبل ڈی جی ایف آئی اے نے ہیڈ کواٹرز کے اعلیٰ حکام اور تمام زونل ڈائریکٹرز کے اجلاس کی صدارت کی، انہوں نے ایف آئی اے حیدر آباد سندھ زون-2 کا دورہ کیا اور انکوائریوں میں تیزی لانے کے احکامات دیے۔ </p>

<p>میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈی جی ایف آئی اے نے کہا کہ اس سال ادارے نے تقریباً 20 ارب روپے واگزار کروائے ہیں جبکہ کرپشن کے کچھ بڑے مقدمات پر تفتیش جاری ہے۔ </p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ ایف آئی اے مختلف محکموں کے ساتھ مل کر ملک کو کرپشن سے پاک کرنے کے لیے کام کر رہی ہے۔ </p>

<hr />

<p><strong>یہ <a href="https://www.dawn.com/news/1663518/fia-digs-deep-into-cyberattack-on-nbp">خبر</a> 13 دسمبر 2021 کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔</strong></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1173958</guid>
      <pubDate>Mon, 13 Dec 2021 11:26:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (قربان علی خشک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/12/61b6e358473a4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/12/61b6e358473a4.jpg"/>
        <media:title>ثنااللہ عباسی نے کہا کہ تمام اسٹیک ہولڈرز اس بات پر متفق ہیں کہ یہ معاملہ ایف آئی اے کہ دائرہ اختیار میں آتا ہے — فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
