<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 14:47:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 14:47:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ہمیں ڈرامے اور فلمیں بنانے میں بھارت جتنی آزادی نہیں، سلطانہ صدیقی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1174304/</link>
      <description>&lt;p&gt;معروف ڈراما ساز اور ہم ٹی وی کی بانی سلطانہ صدیقی کا کہنا ہے کہ پاکستانی فلموں اور ڈراموں کا مقابلہ بھارتی مواد سے کرنے کی باتیں تو کی جاتی ہیں مگر ہمیں انڈیا جتنی آزادی نہیں دی جاتی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے &lt;a href="https://www.bbc.com/urdu/entertainment-59708556"&gt;&lt;strong&gt;’بی بی سی اردو‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; سے بات کرتے ہوئے جہاں سلطانہ صدیقی نے ڈرامے بنانے سے متعلق آزادی نہ دیے جانے کا شکوہ کیا وہیں یہ دعویٰ بھی کیا کہ پاکستانی ڈرامے ’نیٹ فلیکس‘ پر موجود مواد کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈراما ساز کا کہنا تھا کہ پاکستانی ڈرامے ’زندگی گلزار ہے‘ کو نیٹ فلیکس پر کافی پسند کیا گیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانی مواد کو عالمی سطح پر پسند کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ اگر حالیہ معروف ڈراموں ’پری زاد اور ہم کہاں کے سچے تھے‘ سمیت دیگر ڈراموں کو نیٹ فلیکس پر نشر کیا جائے تو انہیں بھی پسند کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/12/61c16494c51d3.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/12/61c16494c51d3.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/12/61c16494c51d3.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/12/61c16494c51d3.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="پاکستانی مواد کی بھارتی مواد سے مقابلے کی باتیں کی جاتی ہیں، ڈراما ساز&amp;mdash;فائل فوٹو: انسٹاگرام" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;پاکستانی مواد کی بھارتی مواد سے مقابلے کی باتیں کی جاتی ہیں، ڈراما ساز—فائل فوٹو: انسٹاگرام&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں سلطانہ صدیقی نے کہا کہ ’نیٹ فلیکس‘ جیسے بڑے پلیٹ فارم کی جانب سے پاکستانی اوریجنل مواد نہ بنانے کی متعدد دیگر وجوہات بھی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1163349"&gt;&lt;strong&gt;سلطانہ صدیقی کے گھر کی شادی میں اداکاراؤں کا رقص&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نیٹ فلیکس والوں کو لگتا ہے کہ پاکستانی ڈراما و فلم ساز ’بولڈ‘ یعنی بے باک اور نڈر مواد نہیں بنا سکتے، لیکن درحقیقت ایسا نہیں، ہماری جانب سے ایسا مواد تیار نہ کرنے کا سبب ہمارے اوپر عائد پابندیاں ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سلطانہ صدیقی نے ایک مثال دی کہ انہوں نے بچوں کے استحصال سے شعور سے متعلق ڈراما ’اڈاری‘ بنایا، جسے عالمی سطح پر پسند کیا گیا مگر انہیں پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے خط آگیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے شکوہ کیا کہ پاکستانی ڈراموں اور فلموں کا بھارتی مواد سے مقابلہ کرنے کی باتیں تو کی جاتی ہیں مگر ہمیں اس ضمن میں انڈیا جیسی آزادی نہیں دی جاتی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سلطانہ صدیقی نے واضح نہیں کیا کہ انہیں بھارتی ڈراموں اور فلموں کے ٹکر کا مواد تیار کرنے سے متعلق کون سے ادارے آزادی نہیں دیتے، تاہم انہوں نے شکوہ کیا کہ پاکستانی ڈراما سازوں پر پابندیاں عائد ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2021/12/61c1655fba265.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/12/61c1655fba265.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/12/61c1655fba265.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/12/61c1655fba265.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="پاکستانی ڈرامے نیٹ فلیکس پر جاری ہوں تو انہیں پسند کیا جائے گا، سلطانہ صدیقی&amp;mdash;فائل فوٹو: انسٹاگرام" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;پاکستانی ڈرامے نیٹ فلیکس پر جاری ہوں تو انہیں پسند کیا جائے گا، سلطانہ صدیقی—فائل فوٹو: انسٹاگرام&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>معروف ڈراما ساز اور ہم ٹی وی کی بانی سلطانہ صدیقی کا کہنا ہے کہ پاکستانی فلموں اور ڈراموں کا مقابلہ بھارتی مواد سے کرنے کی باتیں تو کی جاتی ہیں مگر ہمیں انڈیا جتنی آزادی نہیں دی جاتی۔</p>

<p>برطانوی نشریاتی ادارے <a href="https://www.bbc.com/urdu/entertainment-59708556"><strong>’بی بی سی اردو‘</strong></a> سے بات کرتے ہوئے جہاں سلطانہ صدیقی نے ڈرامے بنانے سے متعلق آزادی نہ دیے جانے کا شکوہ کیا وہیں یہ دعویٰ بھی کیا کہ پاکستانی ڈرامے ’نیٹ فلیکس‘ پر موجود مواد کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔</p>

<p>ڈراما ساز کا کہنا تھا کہ پاکستانی ڈرامے ’زندگی گلزار ہے‘ کو نیٹ فلیکس پر کافی پسند کیا گیا، جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانی مواد کو عالمی سطح پر پسند کیا جاتا ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ اگر حالیہ معروف ڈراموں ’پری زاد اور ہم کہاں کے سچے تھے‘ سمیت دیگر ڈراموں کو نیٹ فلیکس پر نشر کیا جائے تو انہیں بھی پسند کیا جائے گا۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/12/61c16494c51d3.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/12/61c16494c51d3.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/12/61c16494c51d3.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/12/61c16494c51d3.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="پاکستانی مواد کی بھارتی مواد سے مقابلے کی باتیں کی جاتی ہیں، ڈراما ساز&mdash;فائل فوٹو: انسٹاگرام" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">پاکستانی مواد کی بھارتی مواد سے مقابلے کی باتیں کی جاتی ہیں، ڈراما ساز—فائل فوٹو: انسٹاگرام</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>ایک سوال کے جواب میں سلطانہ صدیقی نے کہا کہ ’نیٹ فلیکس‘ جیسے بڑے پلیٹ فارم کی جانب سے پاکستانی اوریجنل مواد نہ بنانے کی متعدد دیگر وجوہات بھی ہیں۔</p>

<p>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1163349"><strong>سلطانہ صدیقی کے گھر کی شادی میں اداکاراؤں کا رقص</strong></a></p>

<p>انہوں نے کہا کہ نیٹ فلیکس والوں کو لگتا ہے کہ پاکستانی ڈراما و فلم ساز ’بولڈ‘ یعنی بے باک اور نڈر مواد نہیں بنا سکتے، لیکن درحقیقت ایسا نہیں، ہماری جانب سے ایسا مواد تیار نہ کرنے کا سبب ہمارے اوپر عائد پابندیاں ہیں۔</p>

<p>سلطانہ صدیقی نے ایک مثال دی کہ انہوں نے بچوں کے استحصال سے شعور سے متعلق ڈراما ’اڈاری‘ بنایا، جسے عالمی سطح پر پسند کیا گیا مگر انہیں پاکستان میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کی جانب سے خط آگیا۔</p>

<p>انہوں نے شکوہ کیا کہ پاکستانی ڈراموں اور فلموں کا بھارتی مواد سے مقابلہ کرنے کی باتیں تو کی جاتی ہیں مگر ہمیں اس ضمن میں انڈیا جیسی آزادی نہیں دی جاتی۔</p>

<p>سلطانہ صدیقی نے واضح نہیں کیا کہ انہیں بھارتی ڈراموں اور فلموں کے ٹکر کا مواد تیار کرنے سے متعلق کون سے ادارے آزادی نہیں دیتے، تاہم انہوں نے شکوہ کیا کہ پاکستانی ڈراما سازوں پر پابندیاں عائد ہیں۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left  '>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2021/12/61c1655fba265.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/12/61c1655fba265.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2021/12/61c1655fba265.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2021/12/61c1655fba265.jpg 800w' sizes='(min-width: 992px)  800px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="پاکستانی ڈرامے نیٹ فلیکس پر جاری ہوں تو انہیں پسند کیا جائے گا، سلطانہ صدیقی&mdash;فائل فوٹو: انسٹاگرام" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">پاکستانی ڈرامے نیٹ فلیکس پر جاری ہوں تو انہیں پسند کیا جائے گا، سلطانہ صدیقی—فائل فوٹو: انسٹاگرام</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1174304</guid>
      <pubDate>Tue, 21 Dec 2021 10:57:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/12/61c1642b35e0a.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/12/61c1642b35e0a.jpg?0.08422933607380068"/>
        <media:title>نیٹ فلیکس والوں کو لگتا ہے ہم بولڈ مواد نہیں بنا سکتے، سلطانہ صدیقی—فائل فوٹو: فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
