<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 18:22:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 18:22:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ماہرین ’اومیکرون‘ میں ’ایچ آئی وی‘ وائرس کی موجودگی کی تحقیق میں مصروف
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1174383/</link>
      <description>&lt;p&gt;جنوبی افریقی ماہرین کورونا کی نئی قسم ’اومیکرون‘ میں موذی وائرس ’ایچ آئی وی‘ کی موجودگی کے الزامات کی تحقیق میں مصروف ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’اومیکرون‘ کا پہلا کیس گزشتہ ماہ 26 نومبر کو جنوبی افریقہ میں دریافت ہوا تھا، جسے اب تک کی سب سے متعدی قسم قرار دیا جا رہا ہے اور مذکورہ قسم دنیا کے 80 سے زائد ممالک تک پھیل چکی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’اومیکرون‘ کے پیش نظر متعدد یورپی، افریقی، ایشیائی اور امریکی ممالک نے نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے اور تاحال مذکورہ قسم سے متعلق اہم ڈیٹا دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اس متعلق قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;’اومیکرون‘ سے متعلق یہ قیاس آرائیاں بھی پھیل رہی ہیں کہ اس میں ممکنہ طور پر ’ایچ آئی وی‘ وائرس کی موجودگی بھی ہے، جس کے بعد وہاں کے ماہرین نے تحقیق شروع کردی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے &lt;a href="https://www.bbc.com/news/world-africa-59697807"&gt;&lt;strong&gt;’بی بی سی‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق جنوبی افریقی ماہرین نے ابتدائی طور پر اس تاثر کو مسترد کردیا ہے کہ ’اومیکرون‘ میں ’ایچ آئی وی‘ وائرس کی موجودگی ہوگی، تاہم اس کے باوجود انہوں نے اس پر تحقیق شروع کردی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بعض ماہرین کا خیال ہے کہ چوں کہ جنوبی افریقہ میں 80 لاکھ افراد ایچ آئی وی کے مریض ہیں، جن میں سے ایک تہائی مریض موذی وائرس کی دوائیاں بھی نہیں لے رہے، اس لیے خیال کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر ’اومیکرون‘ میں ’ایچ آئی وی‘ کے اثرات ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1174321/"&gt;&lt;strong&gt;’اومیکرون‘ ویکسین لگوانے والے افراد کو نشانہ بنا رہا ہے، عالمی ادارہ صحت&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں جنوبی افریقہ میں رپورٹ ہونے والے چند عجیب و غریب کیسز کا حوالہ دیا گیا کہ 2021 میں ایک خاتون 8 ماہ تک کورونا میں مبتلا رہیں اور بار بار ٹیسٹ کروائے جانے اور ویکسینیشن کے باوجود وہ وبا سے صحت یاب نہیں ہوئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا گیا کہ چوں کہ ایچ آئی وی افراد کا قوت مدافعت کا نظام کمزور ہوتا ہے اور ممکنہ طور پر جو لوگ جنوبی افریقہ میں کافی وقت تک کورونا میں مبتلا رہے ہیں، ان سے متعلق شکوک پیدا ہوئے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم دوسری جانب جنوبی افریقی حکومت کے سرکاری ماہرین نے اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ ’اومیکرون‘ میں ’ایچ آئی وی‘ وائرس کے اثرات ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سرکاری ماہرین کے مطابق اب تک دنیا بھر میں کورونا کی پانچ قسمیں دریافت ہو چکی ہیں جو چار مختلف خطوں سے سامنے آئیں، تاہم کسی بھی وائرس سے متعلق اتنی منفی معلومات نہیں پھیلائی گئی، جیسی ’اومیکرون‘ پر پھیلا کر جنوبی افریقہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ برطانیہ سے دریافت ہونے والی کورونا کی قسم ’ایلفا‘ سے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایک کینسر کا شکار خاتون سے پھیلی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم اس قسم سے متعلق ایسی کوئی بات نہیں پھیلائی گئی تھی مگر ’اومیکرون‘ میں ’ایچ آئی وی‘ سے متعلق شکوک پیدا کیے جا رہے ہیں، جن پر مقامی ماہرین نے تحقیق بھی شروع کردی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جنوبی افریقی ماہرین کورونا کی نئی قسم ’اومیکرون‘ میں موذی وائرس ’ایچ آئی وی‘ کی موجودگی کے الزامات کی تحقیق میں مصروف ہیں۔</p>

<p>’اومیکرون‘ کا پہلا کیس گزشتہ ماہ 26 نومبر کو جنوبی افریقہ میں دریافت ہوا تھا، جسے اب تک کی سب سے متعدی قسم قرار دیا جا رہا ہے اور مذکورہ قسم دنیا کے 80 سے زائد ممالک تک پھیل چکی ہے۔</p>

<p>’اومیکرون‘ کے پیش نظر متعدد یورپی، افریقی، ایشیائی اور امریکی ممالک نے نئی پابندیوں کا اعلان کیا ہے اور تاحال مذکورہ قسم سے متعلق اہم ڈیٹا دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے اس متعلق قیاس آرائیاں بھی جاری ہیں۔</p>

<p>’اومیکرون‘ سے متعلق یہ قیاس آرائیاں بھی پھیل رہی ہیں کہ اس میں ممکنہ طور پر ’ایچ آئی وی‘ وائرس کی موجودگی بھی ہے، جس کے بعد وہاں کے ماہرین نے تحقیق شروع کردی۔</p>

<p>برطانوی نشریاتی ادارے <a href="https://www.bbc.com/news/world-africa-59697807"><strong>’بی بی سی‘</strong></a> کے مطابق جنوبی افریقی ماہرین نے ابتدائی طور پر اس تاثر کو مسترد کردیا ہے کہ ’اومیکرون‘ میں ’ایچ آئی وی‘ وائرس کی موجودگی ہوگی، تاہم اس کے باوجود انہوں نے اس پر تحقیق شروع کردی۔</p>

<p>بعض ماہرین کا خیال ہے کہ چوں کہ جنوبی افریقہ میں 80 لاکھ افراد ایچ آئی وی کے مریض ہیں، جن میں سے ایک تہائی مریض موذی وائرس کی دوائیاں بھی نہیں لے رہے، اس لیے خیال کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر ’اومیکرون‘ میں ’ایچ آئی وی‘ کے اثرات ہو سکتے ہیں۔</p>

<p>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1174321/"><strong>’اومیکرون‘ ویکسین لگوانے والے افراد کو نشانہ بنا رہا ہے، عالمی ادارہ صحت</strong></a></p>

<p>رپورٹ میں جنوبی افریقہ میں رپورٹ ہونے والے چند عجیب و غریب کیسز کا حوالہ دیا گیا کہ 2021 میں ایک خاتون 8 ماہ تک کورونا میں مبتلا رہیں اور بار بار ٹیسٹ کروائے جانے اور ویکسینیشن کے باوجود وہ وبا سے صحت یاب نہیں ہوئیں۔</p>

<p>رپورٹ میں بتایا گیا کہ چوں کہ ایچ آئی وی افراد کا قوت مدافعت کا نظام کمزور ہوتا ہے اور ممکنہ طور پر جو لوگ جنوبی افریقہ میں کافی وقت تک کورونا میں مبتلا رہے ہیں، ان سے متعلق شکوک پیدا ہوئے ہیں۔ </p>

<p>تاہم دوسری جانب جنوبی افریقی حکومت کے سرکاری ماہرین نے اس تاثر کو مسترد کیا ہے کہ ’اومیکرون‘ میں ’ایچ آئی وی‘ وائرس کے اثرات ہیں۔</p>

<p>سرکاری ماہرین کے مطابق اب تک دنیا بھر میں کورونا کی پانچ قسمیں دریافت ہو چکی ہیں جو چار مختلف خطوں سے سامنے آئیں، تاہم کسی بھی وائرس سے متعلق اتنی منفی معلومات نہیں پھیلائی گئی، جیسی ’اومیکرون‘ پر پھیلا کر جنوبی افریقہ کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔</p>

<p>یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ برطانیہ سے دریافت ہونے والی کورونا کی قسم ’ایلفا‘ سے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایک کینسر کا شکار خاتون سے پھیلی تھی۔</p>

<p>تاہم اس قسم سے متعلق ایسی کوئی بات نہیں پھیلائی گئی تھی مگر ’اومیکرون‘ میں ’ایچ آئی وی‘ سے متعلق شکوک پیدا کیے جا رہے ہیں، جن پر مقامی ماہرین نے تحقیق بھی شروع کردی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1174383</guid>
      <pubDate>Wed, 22 Dec 2021 18:54:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2021/12/61c32c981886f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2021/12/61c32c981886f.jpg"/>
        <media:title>’اومیکرونِ کی قسم جنوبی افریقہ سے دریافت ہوئی تھی—فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
