<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 04:25:07 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 04:25:07 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جولائی سے دسمبر تک تجارتی خسارہ 106.4 فیصد بڑھ گیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1175140/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کا سالانہ تجارتی خسارہ 106.4فیصد اضافے کے بعد 25 ارب 47 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک جا پہنچا جس کی بڑی وجہ درآمدات میں 3 گنا اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1667861/trade-deficit-widens-106pc-in-july-dec"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; میں پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا کہ مسلسل چھٹے ماہ تجارتی خسارے میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کی بڑی وجہ برآمدات کا 2 ارب 50 کروڑ ڈالر سے 2 ارب 80 کروڑ کے درمیان رہنا جبکہ زیادہ تر نیم تیار اشیا یا خام مال پر مشتمل درآمدات میں غیر معمولی اضافہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے ایک بیان میں کہا کہ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ درآمدات میں اضافہ کم ہونا شروع ہرگیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="http://dawnnews.tv/news/1173430"&gt;نومبر میں تجارتی خسارہ اب تک کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دسمبر 2021 کے دوران پاکستان کی درآمدات ایک ارب ڈالر کم ہو کر 6 ارب 90 کروڑ ڈالر ہوگئی جو نومبر 2021 میں 7 ارب 90 کروڑ ڈالر تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دسمبر کے لیے درآمدات کا تخمینہ 6 ارب 20 کروڑ ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دسمبر میں اشیا کی تجارت کا خسارہ سالانہ بنیاد پر 85.38 فیصد بڑھ کر 4 ارب 85 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درآمدات میں بلند ترین اضافے نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو درآمدی سطح پر سیلز ٹیکس، وِد ہولڈنگ ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کی مد میں زیادہ سے زیادہ ریونیو اکٹھا کرنے میں مدد ملی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1174941"&gt;درآمدات بڑھنے سے جولائی تا دسمبر تجارتی خسارہ دگنا ہوگیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم بڑھے ہوئے تجارتی خسارے کے خلاف حکومت کی کوششیں پلٹ رہی ہیں اور ریکارڈ درآمدات کی وجہ سے بیرونی طرف پر دباؤ پڑ سکتا ہے، البتہ ماہانہ بنیاد پر تجارتی خسارہ 2.82 فیصد رہا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سال 2018 میں تجارتی خسارہ اب تک کی بلند ترین سطح 37 ارب 70 کروڑ ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم حکومت کے اقدامات سے مالی سال 2019 میں یہ 31 ارب 80 کروڑ ڈالر، مالی سال 2020 میں 23 ارب 18 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تک کم ہوگیا تھا لیکن اس کے بعد مالی سال 2021 یہ خسارہ دوبارہ بڑھ کر 30 ارب 79 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جون 2022  کے اختتام تک تجارتی خسارہ ان تک بلند ترین سطح تک پہنچنے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1173490"&gt;نومبر کے دوران 30 اشیا کی درآمدات میں 142 فیصد اضافہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جولائی تا دسمبر 2021 کا درآمدی بل 65.94 فیصد بڑھ کر 40 ارب 58 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا تھا جو گزشتہ برس کے اسی عرصے میں 24 ارب 45 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دسمبر 2021 میں درآمدی بل بڑھ کر 7 ارب 59 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تک بڑھ گیا تھا یعنی اس میں گزشتہ برس کے اسی مہینے کے 4 ارب 98 کروڑ کے مقابلے میں 52.37 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رواں مالی سال کا آغاز بڑھتے ہوئے درآمدی بل کے ساتھ ہوا جس سے بیرونی جانب دباؤ پڑا جبکہ حکومت کی جانب سے خام مال کی درآمد کی حوسلہ افزائی سے بھی درآمدی بل بڑھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مالی سال 2020 میں درآمدی بل 44 ارب 57 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھا جو مالی سال 2021 میں 25.8 فیصد اضافے کے بعد 56 ارب 9 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تک جا پہنچا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کا سالانہ تجارتی خسارہ 106.4فیصد اضافے کے بعد 25 ارب 47 کروڑ 80 لاکھ ڈالر تک جا پہنچا جس کی بڑی وجہ درآمدات میں 3 گنا اضافہ ہے۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1667861/trade-deficit-widens-106pc-in-july-dec">رپورٹ</a></strong> میں پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے حوالے سے بتایا گیا کہ مسلسل چھٹے ماہ تجارتی خسارے میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا۔</p>

<p>اس کی بڑی وجہ برآمدات کا 2 ارب 50 کروڑ ڈالر سے 2 ارب 80 کروڑ کے درمیان رہنا جبکہ زیادہ تر نیم تیار اشیا یا خام مال پر مشتمل درآمدات میں غیر معمولی اضافہ ہے۔</p>

<p>مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد نے ایک بیان میں کہا کہ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ درآمدات میں اضافہ کم ہونا شروع ہرگیا ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="http://dawnnews.tv/news/1173430">نومبر میں تجارتی خسارہ اب تک کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا</a></strong></p>

<p>دسمبر 2021 کے دوران پاکستان کی درآمدات ایک ارب ڈالر کم ہو کر 6 ارب 90 کروڑ ڈالر ہوگئی جو نومبر 2021 میں 7 ارب 90 کروڑ ڈالر تھی۔</p>

<p>دسمبر کے لیے درآمدات کا تخمینہ 6 ارب 20 کروڑ ڈالر تھا۔</p>

<p>دسمبر میں اشیا کی تجارت کا خسارہ سالانہ بنیاد پر 85.38 فیصد بڑھ کر 4 ارب 85 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔</p>

<p>درآمدات میں بلند ترین اضافے نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو درآمدی سطح پر سیلز ٹیکس، وِد ہولڈنگ ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کی مد میں زیادہ سے زیادہ ریونیو اکٹھا کرنے میں مدد ملی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1174941">درآمدات بڑھنے سے جولائی تا دسمبر تجارتی خسارہ دگنا ہوگیا</a></strong></p>

<p>تاہم بڑھے ہوئے تجارتی خسارے کے خلاف حکومت کی کوششیں پلٹ رہی ہیں اور ریکارڈ درآمدات کی وجہ سے بیرونی طرف پر دباؤ پڑ سکتا ہے، البتہ ماہانہ بنیاد پر تجارتی خسارہ 2.82 فیصد رہا۔</p>

<p>سال 2018 میں تجارتی خسارہ اب تک کی بلند ترین سطح 37 ارب 70 کروڑ ڈالر کی سطح پر پہنچ گیا تھا۔</p>

<p>تاہم حکومت کے اقدامات سے مالی سال 2019 میں یہ 31 ارب 80 کروڑ ڈالر، مالی سال 2020 میں 23 ارب 18 کروڑ 30 لاکھ ڈالر تک کم ہوگیا تھا لیکن اس کے بعد مالی سال 2021 یہ خسارہ دوبارہ بڑھ کر 30 ارب 79 کروڑ 60 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا۔</p>

<p>جون 2022  کے اختتام تک تجارتی خسارہ ان تک بلند ترین سطح تک پہنچنے کا امکان ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1173490">نومبر کے دوران 30 اشیا کی درآمدات میں 142 فیصد اضافہ</a></strong></p>

<p>جولائی تا دسمبر 2021 کا درآمدی بل 65.94 فیصد بڑھ کر 40 ارب 58 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا تھا جو گزشتہ برس کے اسی عرصے میں 24 ارب 45 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھا۔</p>

<p>دسمبر 2021 میں درآمدی بل بڑھ کر 7 ارب 59 کروڑ 70 لاکھ ڈالر تک بڑھ گیا تھا یعنی اس میں گزشتہ برس کے اسی مہینے کے 4 ارب 98 کروڑ کے مقابلے میں 52.37 فیصد کا اضافہ دیکھا گیا۔</p>

<p>رواں مالی سال کا آغاز بڑھتے ہوئے درآمدی بل کے ساتھ ہوا جس سے بیرونی جانب دباؤ پڑا جبکہ حکومت کی جانب سے خام مال کی درآمد کی حوسلہ افزائی سے بھی درآمدی بل بڑھا۔</p>

<p>مالی سال 2020 میں درآمدی بل 44 ارب 57 کروڑ 40 لاکھ ڈالر تھا جو مالی سال 2021 میں 25.8 فیصد اضافے کے بعد 56 ارب 9 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تک جا پہنچا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1175140</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Jan 2022 09:58:06 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/01/61d675e70d6c2.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/01/61d675e70d6c2.jpg"/>
        <media:title>مسلسل چھٹے ماہ تجارتی خسارے میں اضافے کا رجحان دیکھا گیا—فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
