<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Punjab</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 03:54:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 03:54:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فیکٹ چیک: مری میں جاں بحق اے ایس آئی سے منسوب ویڈیو جعلی نکلی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1175528/</link>
      <description>&lt;p&gt;سیاحتی مقام مری میں برفباری کے دوران پھنس کر اپنی گاڑی میں ہی زندگی کی بازی ہار جانے والے اسلام آباد پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر(اے ایس آئی) نوید اقبال اور ان کے اہل خانہ سے منسوب وائرل ہونے والی ویڈیو جعلی نکلی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اے ایس آئی نوید اقبال اپنی بہن، بیٹیوں، بیٹوں، بھانجے اور بھتیجے کے ہمراہ اپنی گاڑی میں 8 جنوری کو مردہ پائے گئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اے ایس آئی نوید اقبال مری اور نتھیاگلی کے درمیان روڈ پر شدید برفباری میں پھنس گئے تھے اور وہ تمام اہل خانہ کے ہمراہ گاڑی میں تھے کہ وہیں چل بسے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کے ہمراہ  ان کی بیٹیاں 18 سالہ شفق، 13 سالہ دعا، 10 سالہ اقرا، 5 سالہ بیٹا احمد، بھانجی 2 سالہ حوریہ ، بھتیجا 9 سالہ آیان، اور بہن قرۃ العین بھی کار میں مردہ پائی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اے ایس آئی نوید اقبال سمیت مری میں 22 افراد گاڑیوں میں مردہ پائے گئے تھے، جس کے بعد وہاں ایمرجنسی نافذ کرکے سیاحتی مقام کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا تھا اور بعد ازاں وہاں ہونے والی بدنظمی اور اموات پر تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کردی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1175316"&gt;&lt;strong&gt;اے ایس آئی اور ان کے اہل خانہ کی مدد کی امید پوری نہ ہوئی&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مری میں لوگوں کی اموات کے بعد سوشل میڈیا پر حد سے زیادہ تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوئی تھیں،جن میں  سےبیشتر ویڈیو پرانی اور جعلی تھیں مگر ان کےکیپشن تبدیل کرکے انہیں مری سانحے سے وابستہ کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مری میں برفباری کے دوران جاں بحق ہونے والے اے ایس آئی  نوید اقبال کے نام سے منسوب بھی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی تھی اور اسے متعدد &lt;a href="https://www.youtube.com/watch?v=SSEtH2kFqVQ"&gt;&lt;strong&gt;ٹی وی چینلز&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; اور ویب سائٹس نے بھی &lt;a href="https://www.youtube.com/watch?v=IWNyvVqZEqA"&gt;&lt;strong&gt;نشر کیا&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اے ایس آئی نوید اقبال کے نام سے منسوب ویڈیو میں ایک ادھیڑ عمر کے شخص کو اپنے بچوں کے ہمراہ کار میں مری کی سیاحت اور موسم سے متعلق بات کرتے ہوئے دیکھا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2022/01/61debc0457bfa.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2022/01/61debc0457bfa.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2022/01/61debc0457bfa.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2022/01/61debc0457bfa.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="زندہ بچ جانے والے خاندان کی ویڈیو کو اے ایس آئی کی آخری ویڈیو بنا کر شیئر کیا گیا&amp;mdash;اسکرین شاٹ" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;زندہ بچ جانے والے خاندان کی ویڈیو کو اے ایس آئی کی آخری ویڈیو بنا کر شیئر کیا گیا—اسکرین شاٹ&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ ویڈیو سے متعلق دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ اے ایس آئی نوید اقبال کی آخری ویڈیو ہے مگر درحقیقت وہ جعلی ویڈیو تھی جو کہ نوید اقبال کی نہیں تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;a href="https://cybertv.network/"&gt;&lt;strong&gt;’سائبر ٹی وی‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; نامی یوٹیوب چینل اور ویب سائٹ نے اے ایس آئی نوید اقبال کے نام سے منسوب وائرل ویڈیو پر جب تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ جس خاندان کی ویڈیو تھی وہ دوسرا خاندان تھا اور خوش قسمتی سے وہ خاندان آفت سے محفوظ رہا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سائبر ٹی وی نے وائرل ہونے والی ویڈیو کے خاندان اور ویڈیو میں نظر آنے والے تمام افراد یعنی بچوں اور ان کے والد سے دوبارہ انٹرویو کیا اور ثابت کیا کہ وائرل ہونے والی ویڈیو جعلی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/primary/2022/01/61debc8ab5c72.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2022/01/61debc8ab5c72.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2022/01/61debc8ab5c72.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2022/01/61debc8ab5c72.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="زندہ بچ جانے والے خاندان نے اپنی ویڈیو کو غلط انداز میں وائرل کرنے پر افسوس کا اظہار بھی کیا&amp;mdash;اسکرین شاٹ/ سائبر ٹی وی" /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
				&lt;figcaption class="media__caption  "&gt;زندہ بچ جانے والے خاندان نے اپنی ویڈیو کو غلط انداز میں وائرل کرنے پر افسوس کا اظہار بھی کیا—اسکرین شاٹ/ سائبر ٹی وی&lt;/figcaption&gt;
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وائرل ویڈیو والے افراد نے بتایا کہ وہ بھی مری میں پھنس گئے تھے مگر وہ حالات زیادہ خراب ہونے تک وہاں سےنکل آئے اور مذکورہ ویڈیو انہوں نے بناکر ایک دوست کے پاس بھیجی تھی، جنہوں نے اسے کسی گروپ میں شیئر کیا، جہاں سے وہ ویڈیو دوسری جگہ وائرل ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ویڈیو میں اے ایس آئی نوید اقبال کے نام سے پیش کیے گئے شخص نے بتایا کہ ان کے کسی دوست نے ان کی بنائی گئی ویڈیو کو کسی گروپ میں شیئر کیا، جہاں سے لوگوں نے ان کی ویڈیو کو غلط کیپشن اور نام دے کر شیئر کیا جو دیکھتے دیکھتے وائرل ہوگئی اور ان کی ویڈیو کو لوگ اے ایس آئی نوید اقبال کے خاندان کی آخری ویڈیو سمجھنے لگے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ویڈیو میں بچوں نے بتایا کہ جب وہ اسکول گئے یا محلے کے لوگوں نے انہیں دیکھا تو سب حیران رہ گئے اور ان سے پوچھنے لگے کہ کہیں ان کی ’آتما‘ تو یہاں نہیں گھوم رہی؟&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ویڈیو میں تمام بچوں نے بتایا کہ ان کی اصلی ویڈیو کو غلط کیپشن دے کر وائرل کرکے انہیں غلط انداز میں مشہور کیا گیا اور لوگ بھی انہیں عجیب نظروں سے دیکھنے لگے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ویڈیو میں بچوں نے بتایا کہ وہ بھی مری میں ایک طرح سے پھنس گئے تھے اور کئی گھنٹے تک بھوکے رہے اور انہوں نے وہاں برا وقت گزارا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بچوں نے والدین اور دوسرے بچوں کو مشورہ دیا کہ وہ کبھی بھی خراب موسم میں مری یا دیگر سیاحتی مقام پر نہ جائیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch   media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/IWNyvVqZEqA?enablejsapi=1&amp;showinfo=0&amp;rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سیاحتی مقام مری میں برفباری کے دوران پھنس کر اپنی گاڑی میں ہی زندگی کی بازی ہار جانے والے اسلام آباد پولیس کے اسسٹنٹ سب انسپکٹر(اے ایس آئی) نوید اقبال اور ان کے اہل خانہ سے منسوب وائرل ہونے والی ویڈیو جعلی نکلی۔</p>

<p>اے ایس آئی نوید اقبال اپنی بہن، بیٹیوں، بیٹوں، بھانجے اور بھتیجے کے ہمراہ اپنی گاڑی میں 8 جنوری کو مردہ پائے گئے تھے۔</p>

<p>اے ایس آئی نوید اقبال مری اور نتھیاگلی کے درمیان روڈ پر شدید برفباری میں پھنس گئے تھے اور وہ تمام اہل خانہ کے ہمراہ گاڑی میں تھے کہ وہیں چل بسے۔</p>

<p>ان کے ہمراہ  ان کی بیٹیاں 18 سالہ شفق، 13 سالہ دعا، 10 سالہ اقرا، 5 سالہ بیٹا احمد، بھانجی 2 سالہ حوریہ ، بھتیجا 9 سالہ آیان، اور بہن قرۃ العین بھی کار میں مردہ پائی گئی تھیں۔</p>

<p>اے ایس آئی نوید اقبال سمیت مری میں 22 افراد گاڑیوں میں مردہ پائے گئے تھے، جس کے بعد وہاں ایمرجنسی نافذ کرکے سیاحتی مقام کو ٹریفک کے لیے بند کردیا گیا تھا اور بعد ازاں وہاں ہونے والی بدنظمی اور اموات پر تحقیقاتی کمیٹی بھی قائم کردی گئی تھی۔</p>

<p>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1175316"><strong>اے ایس آئی اور ان کے اہل خانہ کی مدد کی امید پوری نہ ہوئی</strong></a></p>

<p>مری میں لوگوں کی اموات کے بعد سوشل میڈیا پر حد سے زیادہ تصاویر اور ویڈیوز وائرل ہوئی تھیں،جن میں  سےبیشتر ویڈیو پرانی اور جعلی تھیں مگر ان کےکیپشن تبدیل کرکے انہیں مری سانحے سے وابستہ کیا گیا۔</p>

<p>مری میں برفباری کے دوران جاں بحق ہونے والے اے ایس آئی  نوید اقبال کے نام سے منسوب بھی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر خوب وائرل ہوئی تھی اور اسے متعدد <a href="https://www.youtube.com/watch?v=SSEtH2kFqVQ"><strong>ٹی وی چینلز</strong></a> اور ویب سائٹس نے بھی <a href="https://www.youtube.com/watch?v=IWNyvVqZEqA"><strong>نشر کیا</strong></a> تھا۔</p>

<p>اے ایس آئی نوید اقبال کے نام سے منسوب ویڈیو میں ایک ادھیڑ عمر کے شخص کو اپنے بچوں کے ہمراہ کار میں مری کی سیاحت اور موسم سے متعلق بات کرتے ہوئے دیکھا گیا۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2022/01/61debc0457bfa.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2022/01/61debc0457bfa.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2022/01/61debc0457bfa.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2022/01/61debc0457bfa.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="زندہ بچ جانے والے خاندان کی ویڈیو کو اے ایس آئی کی آخری ویڈیو بنا کر شیئر کیا گیا&mdash;اسکرین شاٹ" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">زندہ بچ جانے والے خاندان کی ویڈیو کو اے ایس آئی کی آخری ویڈیو بنا کر شیئر کیا گیا—اسکرین شاٹ</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>مذکورہ ویڈیو سے متعلق دعویٰ کیا گیا تھا کہ وہ اے ایس آئی نوید اقبال کی آخری ویڈیو ہے مگر درحقیقت وہ جعلی ویڈیو تھی جو کہ نوید اقبال کی نہیں تھی۔</p>

<p><a href="https://cybertv.network/"><strong>’سائبر ٹی وی‘</strong></a> نامی یوٹیوب چینل اور ویب سائٹ نے اے ایس آئی نوید اقبال کے نام سے منسوب وائرل ویڈیو پر جب تفتیش کی تو معلوم ہوا کہ جس خاندان کی ویڈیو تھی وہ دوسرا خاندان تھا اور خوش قسمتی سے وہ خاندان آفت سے محفوظ رہا۔</p>

<p>سائبر ٹی وی نے وائرل ہونے والی ویڈیو کے خاندان اور ویڈیو میں نظر آنے والے تمام افراد یعنی بچوں اور ان کے والد سے دوبارہ انٹرویو کیا اور ثابت کیا کہ وائرل ہونے والی ویڈیو جعلی تھی۔</p>

<figure class='media  sm:w-full  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><img src="https://i.dawn.com/primary/2022/01/61debc8ab5c72.jpg" srcset='https://i.dawn.com/medium/2022/01/61debc8ab5c72.jpg 500w, https://i.dawn.com/large/2022/01/61debc8ab5c72.jpg 800w, https://i.dawn.com/primary/2022/01/61debc8ab5c72.jpg 1600w' sizes='(min-width: 992px)  1600px, (min-width: 768px)  800px,  500px' alt="زندہ بچ جانے والے خاندان نے اپنی ویڈیو کو غلط انداز میں وائرل کرنے پر افسوس کا اظہار بھی کیا&mdash;اسکرین شاٹ/ سائبر ٹی وی" /></picture></div>
				
				<figcaption class="media__caption  ">زندہ بچ جانے والے خاندان نے اپنی ویڈیو کو غلط انداز میں وائرل کرنے پر افسوس کا اظہار بھی کیا—اسکرین شاٹ/ سائبر ٹی وی</figcaption>
			</figure>
<p>			</p>

<p>وائرل ویڈیو والے افراد نے بتایا کہ وہ بھی مری میں پھنس گئے تھے مگر وہ حالات زیادہ خراب ہونے تک وہاں سےنکل آئے اور مذکورہ ویڈیو انہوں نے بناکر ایک دوست کے پاس بھیجی تھی، جنہوں نے اسے کسی گروپ میں شیئر کیا، جہاں سے وہ ویڈیو دوسری جگہ وائرل ہوئی۔</p>

<p>ویڈیو میں اے ایس آئی نوید اقبال کے نام سے پیش کیے گئے شخص نے بتایا کہ ان کے کسی دوست نے ان کی بنائی گئی ویڈیو کو کسی گروپ میں شیئر کیا، جہاں سے لوگوں نے ان کی ویڈیو کو غلط کیپشن اور نام دے کر شیئر کیا جو دیکھتے دیکھتے وائرل ہوگئی اور ان کی ویڈیو کو لوگ اے ایس آئی نوید اقبال کے خاندان کی آخری ویڈیو سمجھنے لگے۔</p>

<p>ویڈیو میں بچوں نے بتایا کہ جب وہ اسکول گئے یا محلے کے لوگوں نے انہیں دیکھا تو سب حیران رہ گئے اور ان سے پوچھنے لگے کہ کہیں ان کی ’آتما‘ تو یہاں نہیں گھوم رہی؟</p>

<p>ویڈیو میں تمام بچوں نے بتایا کہ ان کی اصلی ویڈیو کو غلط کیپشن دے کر وائرل کرکے انہیں غلط انداز میں مشہور کیا گیا اور لوگ بھی انہیں عجیب نظروں سے دیکھنے لگے۔</p>

<p>ویڈیو میں بچوں نے بتایا کہ وہ بھی مری میں ایک طرح سے پھنس گئے تھے اور کئی گھنٹے تک بھوکے رہے اور انہوں نے وہاں برا وقت گزارا۔</p>

<p>بچوں نے والدین اور دوسرے بچوں کو مشورہ دیا کہ وہ کبھی بھی خراب موسم میں مری یا دیگر سیاحتی مقام پر نہ جائیں۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch   media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/IWNyvVqZEqA?enablejsapi=1&showinfo=0&rel=0' allowfullscreen=''  frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
				
			</figure>
<p>			</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1175528</guid>
      <pubDate>Wed, 12 Jan 2022 16:37:55 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/01/61debb2411799.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/01/61debb2411799.jpg?0.47833884853777464"/>
        <media:title>بچ جانے والے خاندان کے مطابق ان کی ویڈیو سوشل میڈیا سے لے کر وائرل کی گئی—فوٹو:  سائبر ٹی وی فیس بک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
