<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 22:25:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 22:25:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کووڈ سے موت کا خطرہ بڑھانے والے جین کی دریافت
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1175664/</link>
      <description>&lt;p&gt;سائنسدانوں نے ایک ایسے جین کو دریافت کیا ہے جو کووڈ 19 سے بہت زیادہ بیمار ہونے یا موت کا خطرہ بڑھاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولینڈ کے طبی ماہرین نے اس جین کو دریافت کیا اور وہاں کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس پیشرفت سے ان افراد کو شناخت کرنے میں مدد مل سکے گی جن کو بیماری سے سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولینڈ میں کووڈ 19 کی وبا سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ماپرین کی جانب سے جون 2022 کے آخر تک ایسے جینیاتی ٹیسٹوں کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے تاکہ کووڈ سے زیادہ خطرے سے دوچار افراد کی شناخت کی جاسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میڈیکل یونیورسٹی آف بائیلسٹوک کی &lt;a href="https://www.bloomberg.com/news/articles/2022-01-14/gene-linked-to-severe-covid-to-provide-clues-for-those-at-risk?srnd=premium-asia"&gt;&lt;strong&gt;تحقیق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے تخمینے کے مطابق خطرہ بڑھانے والا جین 14 فیصد پولش آبادی میں موجود ہے جبکہ یورپ میں یہ 9 فیصد اور بھارت میں 27 فیصد افراد میں پایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق عمر، وزن اور جنس کے ساتھ بیماری کی شدت کے تعین میں مددگار چوتھا اہم ترین عنصر ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے بتایا کہ ایک جینیاتی ٹیسٹ سے ان افراد کی شناخت میں ممکنہ مدد مل سکے گی جن میں بیماری کا خطرہ ہوگا اور ایسا ان کے بیمار ہونے سے پہلے جاننا ممکن ہوسکے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق میں لگ بھگ ڈیڑھ ہزار افراد کو شامل کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس دریافت یہ ممکنہ وضاحت ہوتی ہے کہ ویکسینیشن کرانے سے ہچکچاہٹ سے ہٹ کر بھی پولینڈ میں کووڈ سے اموات کی شرح زیادہ کیوں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولینڈ یورپ میں کووڈ سے شرح اموات کے لحاظ سے سب سے اوپر ہے جو 20 فیصد سے زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولش وزارت صحت نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس نئی تحقیق کے نتائج کسی طبی جریدے میں شائع ہوئے ہیں یا نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1172061"&gt;&lt;strong&gt;نومبر 2021 میں برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں کووڈ کے مریضوں میں موت اور پھیپھڑوں کے افعال فیل ہونے کا خطرہ بڑھانے والے ایک جین کو دریافت کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں بتایا گیا کہ جین کا یہ ورژن کروموسوم کے خطے میں ہوتا ہے جس کو ماہرین نے 60 سال سے کم عمر کووڈ مریضوں میں موت کا خطرہ دگنا بڑھا دیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق یہ مخصوص جین ایل زی ٹی ایف ایل 1 دیگر جینز کی سرگرمیوں کو ریگولیٹ کرنے کا کام کرتا ہے اور وائرسز کے خلاف پھیپھڑوں کے خلیات کے ردعمل کے عمل کا بھی حصہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جین کی یہ قسم سانس کی نالی اور پھیپھڑوں کے خلیات میں وائرس کو جکڑنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1168797' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/large/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/6172ba546c03d.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کا کہنا تھا کہ مگر یہ جین مدافعتی نظام پر اثرات مرتب نہیں کرتا جو بیماریوں سے لڑنے کے لیے اینٹی باڈیز بنانے کا کام کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ جن افراد میں جین کی یہ قسم ہوتی ہے ان میں ویکسینز کا ردعمل معمول کا ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ بیماری کے خلاف پھیپھڑوں کا ردعمل انتہائی اہمیت رکھتا ہے، یہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس وقت زیاد&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سائنسدانوں نے ایک ایسے جین کو دریافت کیا ہے جو کووڈ 19 سے بہت زیادہ بیمار ہونے یا موت کا خطرہ بڑھاتا ہے۔</p>

<p>پولینڈ کے طبی ماہرین نے اس جین کو دریافت کیا اور وہاں کی وزارت صحت کا کہنا ہے کہ اس پیشرفت سے ان افراد کو شناخت کرنے میں مدد مل سکے گی جن کو بیماری سے سنگین خطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>پولینڈ میں کووڈ 19 کی وبا سے اب تک ایک لاکھ سے زیادہ افراد ہلاک ہوچکے ہیں اور ماپرین کی جانب سے جون 2022 کے آخر تک ایسے جینیاتی ٹیسٹوں کی منصوبہ بندی کی جارہی ہے تاکہ کووڈ سے زیادہ خطرے سے دوچار افراد کی شناخت کی جاسکے۔</p>

<p>میڈیکل یونیورسٹی آف بائیلسٹوک کی <a href="https://www.bloomberg.com/news/articles/2022-01-14/gene-linked-to-severe-covid-to-provide-clues-for-those-at-risk?srnd=premium-asia"><strong>تحقیق</strong></a> کے تخمینے کے مطابق خطرہ بڑھانے والا جین 14 فیصد پولش آبادی میں موجود ہے جبکہ یورپ میں یہ 9 فیصد اور بھارت میں 27 فیصد افراد میں پایا جاتا ہے۔</p>

<p>تحقیق کے مطابق عمر، وزن اور جنس کے ساتھ بیماری کی شدت کے تعین میں مددگار چوتھا اہم ترین عنصر ہے۔</p>

<p>محققین نے بتایا کہ ایک جینیاتی ٹیسٹ سے ان افراد کی شناخت میں ممکنہ مدد مل سکے گی جن میں بیماری کا خطرہ ہوگا اور ایسا ان کے بیمار ہونے سے پہلے جاننا ممکن ہوسکے گا۔</p>

<p>اس تحقیق میں لگ بھگ ڈیڑھ ہزار افراد کو شامل کیا گیا تھا۔</p>

<p>اس دریافت یہ ممکنہ وضاحت ہوتی ہے کہ ویکسینیشن کرانے سے ہچکچاہٹ سے ہٹ کر بھی پولینڈ میں کووڈ سے اموات کی شرح زیادہ کیوں ہے۔</p>

<p>پولینڈ یورپ میں کووڈ سے شرح اموات کے لحاظ سے سب سے اوپر ہے جو 20 فیصد سے زیادہ ہے۔</p>

<p>پولش وزارت صحت نے یہ واضح نہیں کیا کہ اس نئی تحقیق کے نتائج کسی طبی جریدے میں شائع ہوئے ہیں یا نہیں۔</p>

<p>اس سے قبل <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1172061"><strong>نومبر 2021 میں برطانیہ کی آکسفورڈ یونیورسٹی کی ایک تحقیق</strong></a> میں کووڈ کے مریضوں میں موت اور پھیپھڑوں کے افعال فیل ہونے کا خطرہ بڑھانے والے ایک جین کو دریافت کرنے کا دعویٰ کیا گیا تھا۔</p>

<p>تحقیق میں بتایا گیا کہ جین کا یہ ورژن کروموسوم کے خطے میں ہوتا ہے جس کو ماہرین نے 60 سال سے کم عمر کووڈ مریضوں میں موت کا خطرہ دگنا بڑھا دیتا ہے۔</p>

<p>تحقیق کے مطابق یہ مخصوص جین ایل زی ٹی ایف ایل 1 دیگر جینز کی سرگرمیوں کو ریگولیٹ کرنے کا کام کرتا ہے اور وائرسز کے خلاف پھیپھڑوں کے خلیات کے ردعمل کے عمل کا بھی حصہ ہوتا ہے۔</p>

<p>جین کی یہ قسم سانس کی نالی اور پھیپھڑوں کے خلیات میں وائرس کو جکڑنے میں بھی مدد فراہم کرتا ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1168797' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/large/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/6172ba546c03d.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>محققین کا کہنا تھا کہ مگر یہ جین مدافعتی نظام پر اثرات مرتب نہیں کرتا جو بیماریوں سے لڑنے کے لیے اینٹی باڈیز بنانے کا کام کرتا ہے۔</p>

<p>انہوں نے مزید بتایا کہ جن افراد میں جین کی یہ قسم ہوتی ہے ان میں ویکسینز کا ردعمل معمول کا ہوتا ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ نتائج سے ثابت ہوتا ہے کہ بیماری کے خلاف پھیپھڑوں کا ردعمل انتہائی اہمیت رکھتا ہے، یہ اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس وقت زیاد</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1175664</guid>
      <pubDate>Fri, 14 Jan 2022 18:16:30 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/01/61e175a2dc4d9.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/01/61e175a2dc4d9.png"/>
        <media:title>یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
