<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 05:00:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 05:00:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>جولائی سے دسمبر کے دوران تیل، خوراک کے درآمدی بل میں 73 فیصد اضافہ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1175842/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی سطح پر قیمتیں بڑھنے اور روپے کی قدر بہت زیادہ گرنے کی وجہ سے پاکستان کا تیل اور خوراک کی درآمد کا بل جولائی سے دسمبر کے دوران  73 فیصد اضافے سے تقریباً 15 ارب ڈالر ہوگیا جو ایک سال قبل 8 ارب 67 کروڑ ڈالر تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1670066/oil-food-import-bill-jumps-73pc-to-15bn-in-july-dec"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق پاکستان شماریات بیورو کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ان مصنوعات کا مجموعی درآمدی بل میں حصہ گزشہ 6 ماہ کے دوران 37 فیصد بڑھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان دو شعبوں کے درآمدی بل میں مسلسل اضافے نے تجارتی خسارے کو بڑھایا ہے اور ملک کے غذائی تحفظ سے متعلق خدشات کو جنم دیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مجموعی درآمدی بل جو ایک سال قبل 24 ارب 45 کروڑ تھا، جولائی سے دسمبر کے دوران 66 فیصد اضافے سے 40 ارب 65 کروڑ ہوگیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1175140"&gt;جولائی سے دسمبر تک تجارتی خسارہ 106.4 فیصد بڑھ گیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;زیر جائزہ مدت کے دوران طبی اشیا کی درآمد میں سالانہ بنیاد پر 475 فیصد اضافہ ہوا جو 53 کروڑ 89 لاکھ ڈالر سے 3 ارب 9 کروڑ ڈالر ہوگئیں، یہ کسی بھی درآمدی شعبے میں ایک نمایاں اضافہ ہے جس کی بڑی وجہ کورونا ویکسین کی درآمد ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شماریات بیورو کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 6 ماہ کے دوران تیل کی درآمد کا بل 4 ارب 77 کروڑ ڈالر سے 113 فیصد اضافے کے ساتھ 10 ارب 18 کروڑ ڈالر ہوگیا، جس کے نتیجے میں ملکی صارفین کے لیے پیٹرولم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مزید جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 113 فیصد اور مقدار میں 29 فیصد اضافہ ہوا، زیر جائزہ مدت کے دوران خام تیل کی قیمت میں 82 فیصد اضافہ ہوا اور اس کی مقدار میں صفر اعشاریہ 69 فیصد کمی ہوئی جبکہ ایل این جی کی قیمت میں 128 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ زیر جائزہ مدت کے دوران  ایل پی جی درآمد کی قدر میں 39 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خوراک کی کمی کو پورا کرنے کے لیے گزشتہ سال کے مقابلے میں خوراک کا درآمدی بل 23 فیصد اضافے سے جولائی سے دسمبر کے دوران 3 ارب 90 کروڑ سے بڑھ کر 4 ارب 79 کروڑ ڈالر ہوگیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1173430"&gt;نومبر میں تجارتی خسارہ اب تک کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خوراک کی بڑھتی درآمد اور اس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ حکومت کے لیے پریشان کن ہے، پاکستان نے گزشتہ مالی سال کے دوران کھانے پینے کی اشیا کی درآمد پر 8 ارب سے زیادہ ڈالر خرچ کیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درآمدی بل میں آنے والے مہینوں میں مزید اضافے کا امکان ہے، کیونکہ حکومت نے اپنے اسٹریٹیجک ذخائر برقرار رکھنے کے لیے 6 لاکھ ٹن چینی اور 40 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خوراک کی درآمد میں گندم، چینی، خوردنی تیل، مصالحے، چائےاور دالیں شامل ہیں، خوردنی تیل کی درآمد میں مقدار اور قدر دونوں لحاظ سے نمایاں اضافہ ہوا، 6 ماہ کے دوران عالمی سطح پر قیمتیں بڑھنے سے پام تیل کی درآمد 65 فیصد اضافے سے ایک ارب 84 کروڑ ڈالر ہوگئیں جو گزشتہ سال ایک ارب 11 کروڑ ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے نتیجے میں گھی اور کوکنگ آئل کی مقامی قیمتوں می بھی اضافہ ہوا، جبکہ زیر جائزہ مدت کے دوران سویابین آئل کی درآمدی قمیت میں 4.1 فیصد اور مقدار میں 49 فیصد کمی ہوئی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1173490"&gt;نومبر کے دوران 30 اشیا کی درآمدات میں 142 فیصد اضافہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم گندم کی درآمد 29 فیصد کمی سے 10 لاکھ 36 ہزار ٹن رہی جو گزشتہ سال جولائی سے دسمبر کے دوران 20 لاکھ 48 ہزار تھی، دسمبر میں گندم کی درآمد میں 15 فیصد اضافہ ہوا۔  &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;شوگر کی درآمد میں 3 لاکھ 8 ہزار 819 ٹن اضافے سے، جو گزشتہ سال 2 لاکھ 78 ہزار 237 ٹن تھی، 49 فیصد اضافہ ہوا، اس مدت میں چینی کی درآمد میں سالانہ بنیادوں پر دسمبر میں 98 فیصد کمی ہوئی تاہم دالوں، چائے اور مصالحہ جات کے درآمدی بل میں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مشینری کا درآمدی بل 39 فیصد اضافے سے گزشتہ سال کے 4 ارب 24 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 5 ارب 92 کروڑ ڈالر ہوگیا، پاکستان ۔ چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کی وجہ سے پاور جنریشن مشینری کی درآمد میں 20.6 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;الیکٹریکل مشینری اور آلات کی درآمد چھ ماہ کے دوران 75 فیصد بڑھ کر ایک ارب 5 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی جو ایک سال قبل 64 کروڑ ڈالر تھی، موبائل فون کی درآمدات سالانہ بنیادوں پر 16 فیصد اضافے سے ایک ارب 9 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ ان کے آلات کی درآمدات 54 فیصد بڑھ 3 کروڑ 32 لاکھ 702 ڈالر تک پہنچ گئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گاڑیوں کی درآمدی شعبے میں 105 فیصد اضافہ ہوا جو گزشتہ سال جولائی سے دسمبر کے دوران کے ایک ارب 13 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 2 ارب 32 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔  &lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی سطح پر قیمتیں بڑھنے اور روپے کی قدر بہت زیادہ گرنے کی وجہ سے پاکستان کا تیل اور خوراک کی درآمد کا بل جولائی سے دسمبر کے دوران  73 فیصد اضافے سے تقریباً 15 ارب ڈالر ہوگیا جو ایک سال قبل 8 ارب 67 کروڑ ڈالر تھا۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1670066/oil-food-import-bill-jumps-73pc-to-15bn-in-july-dec">رپورٹ</a></strong> کے مطابق پاکستان شماریات بیورو کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق ان مصنوعات کا مجموعی درآمدی بل میں حصہ گزشہ 6 ماہ کے دوران 37 فیصد بڑھا۔</p>

<p>ان دو شعبوں کے درآمدی بل میں مسلسل اضافے نے تجارتی خسارے کو بڑھایا ہے اور ملک کے غذائی تحفظ سے متعلق خدشات کو جنم دیا ہے۔</p>

<p>مجموعی درآمدی بل جو ایک سال قبل 24 ارب 45 کروڑ تھا، جولائی سے دسمبر کے دوران 66 فیصد اضافے سے 40 ارب 65 کروڑ ہوگیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1175140">جولائی سے دسمبر تک تجارتی خسارہ 106.4 فیصد بڑھ گیا</a></strong></p>

<p>زیر جائزہ مدت کے دوران طبی اشیا کی درآمد میں سالانہ بنیاد پر 475 فیصد اضافہ ہوا جو 53 کروڑ 89 لاکھ ڈالر سے 3 ارب 9 کروڑ ڈالر ہوگئیں، یہ کسی بھی درآمدی شعبے میں ایک نمایاں اضافہ ہے جس کی بڑی وجہ کورونا ویکسین کی درآمد ہے۔</p>

<p>شماریات بیورو کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 6 ماہ کے دوران تیل کی درآمد کا بل 4 ارب 77 کروڑ ڈالر سے 113 فیصد اضافے کے ساتھ 10 ارب 18 کروڑ ڈالر ہوگیا، جس کے نتیجے میں ملکی صارفین کے لیے پیٹرولم مصنوعات کی قیمتوں میں بھی نمایاں اضافہ ہوا۔</p>

<p>اعداد و شمار کے مزید جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 113 فیصد اور مقدار میں 29 فیصد اضافہ ہوا، زیر جائزہ مدت کے دوران خام تیل کی قیمت میں 82 فیصد اضافہ ہوا اور اس کی مقدار میں صفر اعشاریہ 69 فیصد کمی ہوئی جبکہ ایل این جی کی قیمت میں 128 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ زیر جائزہ مدت کے دوران  ایل پی جی درآمد کی قدر میں 39 فیصد اضافہ ہوا۔</p>

<p>خوراک کی کمی کو پورا کرنے کے لیے گزشتہ سال کے مقابلے میں خوراک کا درآمدی بل 23 فیصد اضافے سے جولائی سے دسمبر کے دوران 3 ارب 90 کروڑ سے بڑھ کر 4 ارب 79 کروڑ ڈالر ہوگیا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1173430">نومبر میں تجارتی خسارہ اب تک کی بلند ترین سطح پر جا پہنچا</a></strong></p>

<p>خوراک کی بڑھتی درآمد اور اس کے نتیجے میں تجارتی خسارہ حکومت کے لیے پریشان کن ہے، پاکستان نے گزشتہ مالی سال کے دوران کھانے پینے کی اشیا کی درآمد پر 8 ارب سے زیادہ ڈالر خرچ کیے۔</p>

<p>درآمدی بل میں آنے والے مہینوں میں مزید اضافے کا امکان ہے، کیونکہ حکومت نے اپنے اسٹریٹیجک ذخائر برقرار رکھنے کے لیے 6 لاکھ ٹن چینی اور 40 لاکھ ٹن گندم درآمد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>

<p>خوراک کی درآمد میں گندم، چینی، خوردنی تیل، مصالحے، چائےاور دالیں شامل ہیں، خوردنی تیل کی درآمد میں مقدار اور قدر دونوں لحاظ سے نمایاں اضافہ ہوا، 6 ماہ کے دوران عالمی سطح پر قیمتیں بڑھنے سے پام تیل کی درآمد 65 فیصد اضافے سے ایک ارب 84 کروڑ ڈالر ہوگئیں جو گزشتہ سال ایک ارب 11 کروڑ ڈالر تھیں۔</p>

<p>اس کے نتیجے میں گھی اور کوکنگ آئل کی مقامی قیمتوں می بھی اضافہ ہوا، جبکہ زیر جائزہ مدت کے دوران سویابین آئل کی درآمدی قمیت میں 4.1 فیصد اور مقدار میں 49 فیصد کمی ہوئی۔ </p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1173490">نومبر کے دوران 30 اشیا کی درآمدات میں 142 فیصد اضافہ</a></strong></p>

<p>تاہم گندم کی درآمد 29 فیصد کمی سے 10 لاکھ 36 ہزار ٹن رہی جو گزشتہ سال جولائی سے دسمبر کے دوران 20 لاکھ 48 ہزار تھی، دسمبر میں گندم کی درآمد میں 15 فیصد اضافہ ہوا۔  </p>

<p>شوگر کی درآمد میں 3 لاکھ 8 ہزار 819 ٹن اضافے سے، جو گزشتہ سال 2 لاکھ 78 ہزار 237 ٹن تھی، 49 فیصد اضافہ ہوا، اس مدت میں چینی کی درآمد میں سالانہ بنیادوں پر دسمبر میں 98 فیصد کمی ہوئی تاہم دالوں، چائے اور مصالحہ جات کے درآمدی بل میں اضافہ ہوا۔</p>

<p>مشینری کا درآمدی بل 39 فیصد اضافے سے گزشتہ سال کے 4 ارب 24 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 5 ارب 92 کروڑ ڈالر ہوگیا، پاکستان ۔ چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کی وجہ سے پاور جنریشن مشینری کی درآمد میں 20.6 فیصد اضافہ ہوا۔</p>

<p>الیکٹریکل مشینری اور آلات کی درآمد چھ ماہ کے دوران 75 فیصد بڑھ کر ایک ارب 5 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئی جو ایک سال قبل 64 کروڑ ڈالر تھی، موبائل فون کی درآمدات سالانہ بنیادوں پر 16 فیصد اضافے سے ایک ارب 9 کروڑ ڈالر تک پہنچ گئیں جبکہ ان کے آلات کی درآمدات 54 فیصد بڑھ 3 کروڑ 32 لاکھ 702 ڈالر تک پہنچ گئیں۔</p>

<p>گاڑیوں کی درآمدی شعبے میں 105 فیصد اضافہ ہوا جو گزشتہ سال جولائی سے دسمبر کے دوران کے ایک ارب 13 کروڑ ڈالر سے بڑھ کر 2 ارب 32 کروڑ ڈالر تک پہنچ گیا۔  </p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1175842</guid>
      <pubDate>Tue, 18 Jan 2022 13:23:32 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/01/61e66788387a1.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/01/61e66788387a1.jpg"/>
        <media:title>ان مصنوعات کا مجموعی درآمدی بل میں حصہ گزشہ 6 ماہ کے دوران 37 فیصد بڑھا —فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
