<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 13:03:56 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 13:03:56 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>دعا منگی کیس کا ملزم پولیس حراست سے فرار، وزیر اعلیٰ سندھ نے نوٹس لے لیا
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1176452/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے دعا منگی کیس کے مرکزی ملزم زوہیب قریشی کا پولیس حراست سے فرار ہونے کا نوٹس لے لیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;گزشتہ روز ہائی پروفائل دعا منگی کیس کا مرکزی ملزم زوہیب قریشی کراچی پولیس کی غفلت سے فرار ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ملزم زوہیب قریشی کو کل عدالت میں پیش کیا گیا تھا، حاضری کے بعد ملزم پولیس کے ساتھ جوتوں کی خریداری کے بہانے طارق روڈ گیا، پولیس اہلکار ملزم کو قیدیوں کی وین کے بجائے پرائیویٹ گاڑی میں لائے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1122734"&gt;پولیس کا دعا منگی، بسمہ کے ‘اغوا کار’ گرفتار کرنے کا دعویٰ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;زوہیب قریشی گاڑی سے اکیلا باہر آیا، شاپنگ مال کے ایک دروازے سے داخل ہوکر دوسرے سے باہر نکلا اور رکشے میں بیٹھ کر وہاں سے باآسانی فرار ہوگیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولیس اہلکاروں نے جان بوجھ کر کسی کو اطلاع نہ دی، جیل پہنچنے پر جب قیدیوں کی گنتی ہوئی تو زوہیب قریشی کے فرار کا عقدہ کھلا۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/NKMalazai/status/1486873029292474372"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق ملزم زوہیب قریشی کو واپس جیل پہنچانے کی ذمہ داری ہیڈ کانسٹیبل نوید اور کانسٹیبل ظفر کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1116165"&gt;ڈیفنس سے اغوا ہونے والی طالبہ دعا منگی گھر واپس پہنچ گئیں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیر اعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ اور سیکریٹری داخلہ کو سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی اور ملزم زوہیب قریشی کو فوری گرفتار کر کے رپورٹ طلب کی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر دونوں پولیس اہلکاروں نوید اور ظفر کو گرفتار کرکے لاک اپ کردیا گیا ہے جبکہ ایس ایس پی کورٹ پولیس اعظم درانی کو فوری طور پر معطل کرنے کی ہدایت بھی جاری کی جاچکی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولیس نے وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہ کیا ہے کہ واقعے کی ایف آئی آر درج کرکے تفتیش کی جارہی ہے اور ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس پارٹی تشکیل دی جاچکی ہے، ڈی آئی جی شرقی اور سی آئی اے کے اہلکارروں پر مشتمل پولیس پارٹی ملزم کی گرفتاری عمل میں لائے گی۔&lt;/p&gt;

&lt;h3 id='61f3eec693d73'&gt;دعا منگی کیس کا پس منظر&lt;/h3&gt;

&lt;p&gt;واضح رہے کہ دعا منگی کے اغوا کا واقعہ 30 نومبر 2019 کو کراچی کے علاقے ڈیفنس میں پیش آیا تھا جہاں دعا منگی کو خیابان بخاری سے مسلح افراد نے اغوا کیا تھا جبکہ ان کے دوست حارث سومرو پر فائرنگ بھی کی تھی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دعا منگی بعد ازاں دسمبر میں گھر واپس آئی تھیں، ان کی رہائی 20 سے 25 لاکھ روپے تاوان کی ادائیگی کے بعد عمل میں آئی تھی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس ہائی پروفائل کیس کے ملزمان کو کراچی پولیس کی خصوصی ٹیم نے 18 مارچ 2020 کو گرفتار کیا تھا جن میں زوہیب قریشی بھی شامل تھا، ملزمان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1116058"&gt;کراچی: دعا منگی کو تاوان کیلئے اغوا کیا گیا، پولیس&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تفتیش میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ان ہی ملزمان نے ڈیفنس سے بسمہ سلیم نامی لڑکی کو بھی تاوان کے لیے اغوا کیا تھا اور تاوان کی ادائیگی کے بعد رہا کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بسمہ نامی طالبہ کو 11 مئی 2019 کو ڈیفنس میں کار سوار مسلح افراد نے  ان کے گھر کے باہر سے اغوا کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پولیس کے مطابق دونوں ملزمان کا جرائم کا ریکارڈ ہے اور وہ شہر میں گاڑیاں چھیننے میں بھی ملوث ہیں جبکہ ایک پولیس افسر بھی ان سرگرمیوں میں ملوث تھا جن کو محکمے سے فارغ کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دونوں مقدمات انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ملزم زوہیب قریشی پر ایک کیس میں 3 سال کی سزا اور جرمانہ عائد کیا جاچکا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے دعا منگی کیس کے مرکزی ملزم زوہیب قریشی کا پولیس حراست سے فرار ہونے کا نوٹس لے لیا۔</p>

<p>گزشتہ روز ہائی پروفائل دعا منگی کیس کا مرکزی ملزم زوہیب قریشی کراچی پولیس کی غفلت سے فرار ہوگیا تھا۔</p>

<p>ملزم زوہیب قریشی کو کل عدالت میں پیش کیا گیا تھا، حاضری کے بعد ملزم پولیس کے ساتھ جوتوں کی خریداری کے بہانے طارق روڈ گیا، پولیس اہلکار ملزم کو قیدیوں کی وین کے بجائے پرائیویٹ گاڑی میں لائے تھے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1122734">پولیس کا دعا منگی، بسمہ کے ‘اغوا کار’ گرفتار کرنے کا دعویٰ</a></strong></p>

<p>زوہیب قریشی گاڑی سے اکیلا باہر آیا، شاپنگ مال کے ایک دروازے سے داخل ہوکر دوسرے سے باہر نکلا اور رکشے میں بیٹھ کر وہاں سے باآسانی فرار ہوگیا۔</p>

<p>پولیس اہلکاروں نے جان بوجھ کر کسی کو اطلاع نہ دی، جیل پہنچنے پر جب قیدیوں کی گنتی ہوئی تو زوہیب قریشی کے فرار کا عقدہ کھلا۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/NKMalazai/status/1486873029292474372"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ذرائع کے مطابق ملزم زوہیب قریشی کو واپس جیل پہنچانے کی ذمہ داری ہیڈ کانسٹیبل نوید اور کانسٹیبل ظفر کی تھی۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1116165">ڈیفنس سے اغوا ہونے والی طالبہ دعا منگی گھر واپس پہنچ گئیں</a></strong></p>

<p>وزیر اعلیٰ سندھ نے آئی جی سندھ اور سیکریٹری داخلہ کو سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی اور ملزم زوہیب قریشی کو فوری گرفتار کر کے رپورٹ طلب کی ہے۔</p>

<p>وزیر اعلیٰ کی ہدایت پر دونوں پولیس اہلکاروں نوید اور ظفر کو گرفتار کرکے لاک اپ کردیا گیا ہے جبکہ ایس ایس پی کورٹ پولیس اعظم درانی کو فوری طور پر معطل کرنے کی ہدایت بھی جاری کی جاچکی ہے۔</p>

<p>پولیس نے وزیراعلیٰ سندھ کو آگاہ کیا ہے کہ واقعے کی ایف آئی آر درج کرکے تفتیش کی جارہی ہے اور ملزم کی گرفتاری کے لیے پولیس پارٹی تشکیل دی جاچکی ہے، ڈی آئی جی شرقی اور سی آئی اے کے اہلکارروں پر مشتمل پولیس پارٹی ملزم کی گرفتاری عمل میں لائے گی۔</p>

<h3 id='61f3eec693d73'>دعا منگی کیس کا پس منظر</h3>

<p>واضح رہے کہ دعا منگی کے اغوا کا واقعہ 30 نومبر 2019 کو کراچی کے علاقے ڈیفنس میں پیش آیا تھا جہاں دعا منگی کو خیابان بخاری سے مسلح افراد نے اغوا کیا تھا جبکہ ان کے دوست حارث سومرو پر فائرنگ بھی کی تھی۔ </p>

<p>دعا منگی بعد ازاں دسمبر میں گھر واپس آئی تھیں، ان کی رہائی 20 سے 25 لاکھ روپے تاوان کی ادائیگی کے بعد عمل میں آئی تھی۔ </p>

<p>اس ہائی پروفائل کیس کے ملزمان کو کراچی پولیس کی خصوصی ٹیم نے 18 مارچ 2020 کو گرفتار کیا تھا جن میں زوہیب قریشی بھی شامل تھا، ملزمان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد ہوا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1116058">کراچی: دعا منگی کو تاوان کیلئے اغوا کیا گیا، پولیس</a></strong></p>

<p>تفتیش میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ان ہی ملزمان نے ڈیفنس سے بسمہ سلیم نامی لڑکی کو بھی تاوان کے لیے اغوا کیا تھا اور تاوان کی ادائیگی کے بعد رہا کیا تھا۔</p>

<p>بسمہ نامی طالبہ کو 11 مئی 2019 کو ڈیفنس میں کار سوار مسلح افراد نے  ان کے گھر کے باہر سے اغوا کیا تھا۔</p>

<p>پولیس کے مطابق دونوں ملزمان کا جرائم کا ریکارڈ ہے اور وہ شہر میں گاڑیاں چھیننے میں بھی ملوث ہیں جبکہ ایک پولیس افسر بھی ان سرگرمیوں میں ملوث تھا جن کو محکمے سے فارغ کردیا گیا تھا۔</p>

<p>دونوں مقدمات انسداد دہشت گردی کی عدالت میں زیر سماعت ہیں۔</p>

<p>ملزم زوہیب قریشی پر ایک کیس میں 3 سال کی سزا اور جرمانہ عائد کیا جاچکا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1176452</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Jan 2022 18:25:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسکامتیاز علی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/01/61f3ee90641db.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/01/61f3ee90641db.png"/>
        <media:title>
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/01/61f3d52c4030f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/01/61f3d52c4030f.jpg"/>
        <media:title>ذرائع کے مطابق پولیس اہلکار ملزم کو قیدیوں کی وین کے بجائے پرائیویٹ گاڑی میں لائے تھے — فائل/فوٹو:ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
