<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 17:34:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 17:34:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>کووڈ کو شکست دینے کے کئی ماہ بعد بھی مریضوں میں موت کا خطرہ برقرار رہنے کا انکشاف
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1176458/</link>
      <description>&lt;p&gt;ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد بھی کووڈ کے جان لیوا اثرات کا سامنا متعدد مریضوں کو ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک نئی طبی &lt;a href="https://www.bloomberg.com/news/articles/2022-01-25/deaths-months-after-covid-point-to-pandemic-s-grim-aftermath?srnd=premium-asia"&gt;&lt;strong&gt;تحقیق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں سامنے آئی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آکسفورڈ یونیورسٹی اور لندن اسکول آف ہائی جین اینڈ ٹروپیکل میڈیسین کی مشترکہ تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ کے باعث بہت زیادہ بیمار ہوکر ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے مریضوں میں ڈسچارج کے چند ماہ بعد موت یا دوبارہ ہسپتال میں داخلے کا امکان دگنا زیادہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق کووڈ سے بچ جانے والے مریضوں میں آنے والے 10 ماہ میں موت کا خطرہ دیگر افراد کے مقابلے میں لگ بھگ 5 گنا زیادہ ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق کے نتائج سے ان شواہد میں اضافہ ہوتا ہے جن کے مطابق ابتدائی بیماری سے ہٹ کر بھی صحت اور شخصیت پر اثرا مرتب ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;حال ہی میں نیدرلینڈز کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ کے باعث آئی سی یو میں زیرعلاج رہنے والے تین چوتھائی مریضوں کو ایک سال بعد بھی تھکاوٹ، جسمانی فٹنس میں کمی اور دیگر جسمانی علامات کا سامنا ہوا، جبکہ ہر 4 میں سے ایک نے انزائٹی اور ذہنی علامات کو رپورٹ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;کووڈ مریضوں میں صحت کے حوالے سے طویل المعیاد خطرات کی وضاحت کے لیے محققین نے ان افراد پر توجہ مرکوز کی جو بیماری کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج رہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس مقصد کے لیے محققین نے 2020 میں کووڈ کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے لگ بھگ 25 ہزار مریضوں کے الیکٹرونک ہیلتھ ریکارڈز کا شماریاتی تجزیہ کیا اور نتائج کا موازنہ ایک لاکھ سے زیادہ عام افراد کے ریکارڈ کے ساتھ کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح کسی وبائی مرض کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج رہنے کے خطرات کا جائزہ لینے کے لیے محققین نے 2017 سے 2019 کے دوران فلو کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے افراد کے ڈیٹا کا موازنہ بھی کیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نتائج سے معلوم ہوا کہ فلو کے مریضوں کے مقابلے میں کووڈ کے شکار افراد میں ابتدائی بیماری کے بعد ڈیمینشیا یا کسی بھی عارضے کے باعث ہسپتال میں دوبارہ داخلے یا موت کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ کووڈ سے زیادہ بیمار رہنے والے افراد میں ہسپتال سے ڈسچارج کے بعد آنے والے مہینوں میں مزید طبی مسائل کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ہمارے نتائج سے ویکسینیشن کی اہمیت کا بھی اظہار ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل پلوس میڈیسین میں شائع ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1168797' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/large/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/6172ba546c03d.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل دسمبر 2021 میں فلوریڈا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ کووڈ کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے 65 سال سے کم عمر افراد میں اگلے ایک سال کے دوران موت کا امکان اس بیماری سے محفوظ رہنے والوں کے مقابلے میں 233 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ کو شکست دینے کے بعد مریضوں کی لگ بھگ 80 فیصد اموات کی وجہ نظام تنفس یا دل کی شریانوں کی پیچیدگیوں سے ہ کر تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین کے مطابق کووڈ ممکنہ طو پر لوگوں کے جسم کو شدید صدمہ پہنچاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ہسپتال سے ڈسچارج ہونے کے بعد بھی کووڈ کے جان لیوا اثرات کا سامنا متعدد مریضوں کو ہوتا ہے۔</p>

<p>یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک نئی طبی <a href="https://www.bloomberg.com/news/articles/2022-01-25/deaths-months-after-covid-point-to-pandemic-s-grim-aftermath?srnd=premium-asia"><strong>تحقیق</strong></a> میں سامنے آئی۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>آکسفورڈ یونیورسٹی اور لندن اسکول آف ہائی جین اینڈ ٹروپیکل میڈیسین کی مشترکہ تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ کے باعث بہت زیادہ بیمار ہوکر ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے مریضوں میں ڈسچارج کے چند ماہ بعد موت یا دوبارہ ہسپتال میں داخلے کا امکان دگنا زیادہ ہوتا ہے۔</p>

<p>تحقیق کے مطابق کووڈ سے بچ جانے والے مریضوں میں آنے والے 10 ماہ میں موت کا خطرہ دیگر افراد کے مقابلے میں لگ بھگ 5 گنا زیادہ ہوسکتا ہے۔</p>

<p>تحقیق کے نتائج سے ان شواہد میں اضافہ ہوتا ہے جن کے مطابق ابتدائی بیماری سے ہٹ کر بھی صحت اور شخصیت پر اثرا مرتب ہوتے ہیں۔</p>

<p>حال ہی میں نیدرلینڈز کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ کے باعث آئی سی یو میں زیرعلاج رہنے والے تین چوتھائی مریضوں کو ایک سال بعد بھی تھکاوٹ، جسمانی فٹنس میں کمی اور دیگر جسمانی علامات کا سامنا ہوا، جبکہ ہر 4 میں سے ایک نے انزائٹی اور ذہنی علامات کو رپورٹ کیا۔</p>

<p>کووڈ مریضوں میں صحت کے حوالے سے طویل المعیاد خطرات کی وضاحت کے لیے محققین نے ان افراد پر توجہ مرکوز کی جو بیماری کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج رہے۔</p>

<p>اس مقصد کے لیے محققین نے 2020 میں کووڈ کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے لگ بھگ 25 ہزار مریضوں کے الیکٹرونک ہیلتھ ریکارڈز کا شماریاتی تجزیہ کیا اور نتائج کا موازنہ ایک لاکھ سے زیادہ عام افراد کے ریکارڈ کے ساتھ کیا۔</p>

<p>اسی طرح کسی وبائی مرض کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج رہنے کے خطرات کا جائزہ لینے کے لیے محققین نے 2017 سے 2019 کے دوران فلو کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے افراد کے ڈیٹا کا موازنہ بھی کیا۔</p>

<p>نتائج سے معلوم ہوا کہ فلو کے مریضوں کے مقابلے میں کووڈ کے شکار افراد میں ابتدائی بیماری کے بعد ڈیمینشیا یا کسی بھی عارضے کے باعث ہسپتال میں دوبارہ داخلے یا موت کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔</p>

<p>محققین نے بتایا کہ نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ کووڈ سے زیادہ بیمار رہنے والے افراد میں ہسپتال سے ڈسچارج کے بعد آنے والے مہینوں میں مزید طبی مسائل کا خطرہ نمایاں حد تک بڑھ جاتا ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ہمارے نتائج سے ویکسینیشن کی اہمیت کا بھی اظہار ہوتا ہے۔</p>

<p>اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل پلوس میڈیسین میں شائع ہوئے۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1168797' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/large/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/6172ba546c03d.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>اس سے قبل دسمبر 2021 میں فلوریڈا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ کووڈ کے باعث ہسپتال میں زیرعلاج رہنے والے 65 سال سے کم عمر افراد میں اگلے ایک سال کے دوران موت کا امکان اس بیماری سے محفوظ رہنے والوں کے مقابلے میں 233 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔</p>

<p>اس تحقیق میں بتایا گیا کہ کووڈ کو شکست دینے کے بعد مریضوں کی لگ بھگ 80 فیصد اموات کی وجہ نظام تنفس یا دل کی شریانوں کی پیچیدگیوں سے ہ کر تھی۔</p>

<p>محققین کے مطابق کووڈ ممکنہ طو پر لوگوں کے جسم کو شدید صدمہ پہنچاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1176458</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Jan 2022 17:47:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/01/61f3e3d828384.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/01/61f3e3d828384.png"/>
        <media:title>یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں دریافت کی گئی — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
