<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 02:54:24 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 02:54:24 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نیدر لینڈ میں ایچ آئی وی کی نئی قسم دریافت
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1176896/</link>
      <description>&lt;p&gt;دنیا بھر میں کورونا کی نئی قسمیں دریافت ہونے کے بعد یورپ سے ایک اور مہلک مرض ایچ آئی وی کی بھی نئی اور متعدی قسم دریافت کرلی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (&lt;a href="https://apnews.com/article/science-health-europe-netherlands-western-europe-176156e8d785f10b53224c856c671aba"&gt;&lt;strong&gt;اے پی&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;) کے مطابق مغربی یورپی ملک نیدر لینڈ جسے عام طور پر ہالینڈ بھی کہا جاتا ہے، وہاں پر کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وہاں کئی دہائیوں سے ایچ آئی وی کی ایک متعدی قسم پھیل رہی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹ میں بتایا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کی جانب سے یورپ میں ایچ آئی وی وائرس پر کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا کہ نیدر لینڈ میں مہلک وائرس کی ایک متعددی قسم کئی دہائیاں قبل ہی پھیلنا شروع ہوئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماہرین نے مختلف یورپی ممالک کے ایچ آئی وی وائرس کے شکار مریضوں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا تو انہیں 17 ایسے کیسز ملے جو کہ باقی ایچ آئی وی مریضوں سے مختلف تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1140698"&gt;&lt;strong&gt;ادویات کے بغیر ایک خاتون ایچ آئی وی ایڈز سے صحتیاب ہونے میں کامیاب&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ 17 میں سے دو مریضوں کا تعلق یورپ کے مختلف ممالک سے تھا جب کہ بقیہ 15 ہی مریض نیدر لینڈ کے تھے اور ان میں ایچ آئی وی کی ایک ہی قسم کی تشخیص ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سائنسدانوں نے بعد ازاں نیدر لینڈ کے تمام ایچ آئی وی مریضوں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا تو انہیں 109 مریض ایسے ملے جو ایک ہی طرح کے متعددی وائرس کا شکار ہوئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماہرین کو معلوم ہوا کہ 109 افراد 1990 سے سال 2000 کے درمیان ایچ آئی وی کی امریکا اور یورپ میں پائی جانے والی عام قسم ’بی‘ کی ذیلی قسم جسے سائنسدانوں نے ’وی بی‘ کا نام دیا ہے، اس سے متاثر ہوئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ ایچ آئی وی کی مذکورہ قسم سے متاثر ہونے والے افراد کا مدافعتی نظام دیگر اقسام کے مقابلے زیادہ کمزور پڑ جاتا ہے، تاہم ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا کہ مذکورہ قسم کا ایچ آئی وی کی عام ادویات سے بھی علاج ممکن ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ماہرین نے بتایا کہ ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ نیدر لینڈ میں دریافت ہونے والی ایچ آئی وی کی نئی قسم 2010 کے بعد کم متعدی ہونا شروع ہوئی اور اب وہ پہلے جیسے خطرناک نہیں رہی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سائنسدانوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایچ آئی وی کی نئی قسم کا دریافت ہونا خطرے کی بات نہیں، دنیا بھر میں مذکورہ مرض کی بھی کئی قسمیں ہیں اور ہر خطے میں الگ قسم پائی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1122062"&gt;&lt;strong&gt;ایچ آئی وی سے مکمل نجات پانے والا دوسرا مریض&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دنیا میں پہلی بار &lt;a href="https://www.hiv.gov/"&gt;&lt;strong&gt;ایچ آئی وی&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; جسے (ہیومن امیونیوڈیفی شنسی وائرس) کہتے ہیں، اسے 1980 کی دہائی میں جنوبی افریقہ میں دریافت کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل بھی مذکورہ وائرس دنیا میں موجود تھا مگر میڈیکل سائنس کے فقدان کی وجہ سے اس کی تشخیص نہیں ہو سکی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مذکورہ وائرس خطرناک موذی مرض ’ایڈز‘ یعنی (اکوائرڈ امیونٹی ڈیفی شنسی سنڈروم) کا سبب بنتا ہے، جس میں 10 سال کے اندر ہی انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;عام طور پر ایچ آئی وی کی تشخیص کے بعد ادویات سے مریض کا وائرس ایڈز میں تبدیل نہیں ہوتا، تاہم بعض اوقات احتیاط نہ کرنے اور مکمل علاج نہ کروانے پر ایچ آئی وی کا مریض ایڈز کا شکار بن جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایچ آئی وی وائرس اور ایڈز کو عام طور پر لوگ ایک ہی چیز سمجھ لیتے ہیں، تاہم حقیقت میں ایچ آئی وی میں مبتلا ہونا ایڈز کا مریض بن جانا نہیں ہوتا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دنیا بھر میں کورونا کی نئی قسمیں دریافت ہونے کے بعد یورپ سے ایک اور مہلک مرض ایچ آئی وی کی بھی نئی اور متعدی قسم دریافت کرلی گئی۔</p>

<p>خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (<a href="https://apnews.com/article/science-health-europe-netherlands-western-europe-176156e8d785f10b53224c856c671aba"><strong>اے پی</strong></a>) کے مطابق مغربی یورپی ملک نیدر لینڈ جسے عام طور پر ہالینڈ بھی کہا جاتا ہے، وہاں پر کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ وہاں کئی دہائیوں سے ایچ آئی وی کی ایک متعدی قسم پھیل رہی تھی۔</p>

<p>رپورٹ میں بتایا کہ آکسفورڈ یونیورسٹی کے ماہرین کی جانب سے یورپ میں ایچ آئی وی وائرس پر کی جانے والی تحقیق سے معلوم ہوا کہ نیدر لینڈ میں مہلک وائرس کی ایک متعددی قسم کئی دہائیاں قبل ہی پھیلنا شروع ہوئی۔</p>

<p>ماہرین نے مختلف یورپی ممالک کے ایچ آئی وی وائرس کے شکار مریضوں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا تو انہیں 17 ایسے کیسز ملے جو کہ باقی ایچ آئی وی مریضوں سے مختلف تھے۔</p>

<p>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1140698"><strong>ادویات کے بغیر ایک خاتون ایچ آئی وی ایڈز سے صحتیاب ہونے میں کامیاب</strong></a></p>

<p>مذکورہ 17 میں سے دو مریضوں کا تعلق یورپ کے مختلف ممالک سے تھا جب کہ بقیہ 15 ہی مریض نیدر لینڈ کے تھے اور ان میں ایچ آئی وی کی ایک ہی قسم کی تشخیص ہوئی تھی۔</p>

<p>سائنسدانوں نے بعد ازاں نیدر لینڈ کے تمام ایچ آئی وی مریضوں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا تو انہیں 109 مریض ایسے ملے جو ایک ہی طرح کے متعددی وائرس کا شکار ہوئے تھے۔</p>

<p>ماہرین کو معلوم ہوا کہ 109 افراد 1990 سے سال 2000 کے درمیان ایچ آئی وی کی امریکا اور یورپ میں پائی جانے والی عام قسم ’بی‘ کی ذیلی قسم جسے سائنسدانوں نے ’وی بی‘ کا نام دیا ہے، اس سے متاثر ہوئے۔</p>

<p>ڈیٹا سے معلوم ہوا کہ ایچ آئی وی کی مذکورہ قسم سے متاثر ہونے والے افراد کا مدافعتی نظام دیگر اقسام کے مقابلے زیادہ کمزور پڑ جاتا ہے، تاہم ساتھ ہی یہ بھی معلوم ہوا کہ مذکورہ قسم کا ایچ آئی وی کی عام ادویات سے بھی علاج ممکن ہے۔</p>

<p>ماہرین نے بتایا کہ ڈیٹا سے معلوم ہوتا ہے کہ نیدر لینڈ میں دریافت ہونے والی ایچ آئی وی کی نئی قسم 2010 کے بعد کم متعدی ہونا شروع ہوئی اور اب وہ پہلے جیسے خطرناک نہیں رہی۔</p>

<p>سائنسدانوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایچ آئی وی کی نئی قسم کا دریافت ہونا خطرے کی بات نہیں، دنیا بھر میں مذکورہ مرض کی بھی کئی قسمیں ہیں اور ہر خطے میں الگ قسم پائی جاتی ہے۔</p>

<p>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1122062"><strong>ایچ آئی وی سے مکمل نجات پانے والا دوسرا مریض</strong></a></p>

<p>یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ دنیا میں پہلی بار <a href="https://www.hiv.gov/"><strong>ایچ آئی وی</strong></a> جسے (ہیومن امیونیوڈیفی شنسی وائرس) کہتے ہیں، اسے 1980 کی دہائی میں جنوبی افریقہ میں دریافت کیا گیا تھا۔</p>

<p>اس سے قبل بھی مذکورہ وائرس دنیا میں موجود تھا مگر میڈیکل سائنس کے فقدان کی وجہ سے اس کی تشخیص نہیں ہو سکی تھی۔</p>

<p>مذکورہ وائرس خطرناک موذی مرض ’ایڈز‘ یعنی (اکوائرڈ امیونٹی ڈیفی شنسی سنڈروم) کا سبب بنتا ہے، جس میں 10 سال کے اندر ہی انسان کی موت واقع ہوجاتی ہے۔</p>

<p>عام طور پر ایچ آئی وی کی تشخیص کے بعد ادویات سے مریض کا وائرس ایڈز میں تبدیل نہیں ہوتا، تاہم بعض اوقات احتیاط نہ کرنے اور مکمل علاج نہ کروانے پر ایچ آئی وی کا مریض ایڈز کا شکار بن جاتا ہے۔</p>

<p>ایچ آئی وی وائرس اور ایڈز کو عام طور پر لوگ ایک ہی چیز سمجھ لیتے ہیں، تاہم حقیقت میں ایچ آئی وی میں مبتلا ہونا ایڈز کا مریض بن جانا نہیں ہوتا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1176896</guid>
      <pubDate>Sat, 05 Feb 2022 16:57:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/02/61fe657d3d9ad.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/02/61fe657d3d9ad.jpg?0.9851370683145215"/>
        <media:title>ایچ آئی وی کی نئی قسم 1990 سے 2000 کے درمیان تیزی سے پھیلی، سائنسدان—فوٹو: کینوا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
