<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 16:10:57 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 16:10:57 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاک-افغان سرحد پر برفانی تودہ گرنے سے 19 افراد جاں بحق
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1176990/</link>
      <description>&lt;p&gt;افغانستان کے دوردراز پہاڑی علاقوں سے پاکستان میں داخل ہونے والے افراد برفانی تودے کے حادثے کا شکار ہوگئے اور اس کے نتیجے میں 19 افراد جاں بحق ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکام کا کہنا تھا کہ برفانی تودے کا حادثہ طویل پہاڑی علاقے کی گزرگاہ میں پیش آیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1051783"&gt;افغانستان میں برفانی تودے گرنے سے 100 افراد ہلاک&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ افغانستان سے بڑی تعداد میں شہری روزگار اور اشیائے ضروریہ کی تجارت کے لیے روزانہ کی بنیاد پر غیرقانونی طور پر سرحد پار کرکے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ کے انفارمیشن کے سربراہ کے نجیب اللہ حسن ابدال کا کہنا تھا کہ ریسکیو کے عملے نے جائے وقوع پر تلاش کا کام جاری رکھا ہوا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ‘تاحال 19 لاشیں نکال لی گئی ہیں’۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاک-افغان سرحد سے غیر قانونی آمد و رفت میں گزشتہ برس اگست میں افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ ملک میں بدترین معاشی بحران کے باعث ہزاروں افراد بےروزگار ہوگئے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دوسری جانب پاکستان 2 ہزار 670 کلومیٹر طویل سرحد ڈیورنڈ لائن پر باڑ لگا رہا ہے، جس کا تعین ابتدائی طور پر برطانوی نوآبادیاتی انتظامیہ نے کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رپورٹس کے مطابق صدیوں سے تاجر اور اسمگلرز ٹیکسوں کی ادائیگی سے بچنے کے لیے دور دراز اور پرخطر پہاڑی گزرگاہ کا استعمال کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1017698"&gt;افغانستان: صوبہ پنجشیر میں برفانی تودے گرنے سے 186 ہلاکتیں&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاک-افغان سرحد کے مذکورہ پہاڑی علاقوں میں برفانی تودے گرنے کے حادثے اکثر پیش آتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل افغانستان میں 2015 میں بدترین برفانی تودے گرنے کا ایک سلسلہ سامنے آیا تھا اور اس کے نتیجے میں 250 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;افغانستان کے صوبہ پروان اور صوبہ بدخشاں سمیت مختلف صوبوں میں فروری 2017 میں شدید برف باری ہوئی تھی اور  اس دوران 100 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس وقت کے افغان وزیر مملکت برائے ڈیزاسٹر منیجمنٹ اینڈ ہیومن افیئرز کے ترجمان عمر محمدی نے بتایا تھا کہ صوبہ نورستان میں ایک گاؤں برف میں دفن ہوگیا جس کے نتیجے میں وہاں 50 افراد جاں بحق ہوگئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے بتایا تھا کہ صوبہ نورستان کے دو گاؤں برفانی تودہ گرنے کے نتیجے میں مکمل طور پر تباہ ہوگئے جہاں سے اب تک 50 لاشیں نکالی جاچکی ہیں اور ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ برفانی تودے گرنے سے 550 سے زائد جانور بھی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ڈھائی ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں، اس کے علاوہ برفانی تودوں کی زد میں آکر 150 سے زائد گھر بھی تباہ ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>افغانستان کے دوردراز پہاڑی علاقوں سے پاکستان میں داخل ہونے والے افراد برفانی تودے کے حادثے کا شکار ہوگئے اور اس کے نتیجے میں 19 افراد جاں بحق ہوگئے۔</p>

<p>خبر ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق طالبان حکام کا کہنا تھا کہ برفانی تودے کا حادثہ طویل پہاڑی علاقے کی گزرگاہ میں پیش آیا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1051783">افغانستان میں برفانی تودے گرنے سے 100 افراد ہلاک</a></strong></p>

<p>خیال رہے کہ افغانستان سے بڑی تعداد میں شہری روزگار اور اشیائے ضروریہ کی تجارت کے لیے روزانہ کی بنیاد پر غیرقانونی طور پر سرحد پار کرکے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں۔</p>

<p>افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ کے انفارمیشن کے سربراہ کے نجیب اللہ حسن ابدال کا کہنا تھا کہ ریسکیو کے عملے نے جائے وقوع پر تلاش کا کام جاری رکھا ہوا ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ‘تاحال 19 لاشیں نکال لی گئی ہیں’۔</p>

<p>پاک-افغان سرحد سے غیر قانونی آمد و رفت میں گزشتہ برس اگست میں افغانستان میں طالبان کی واپسی کے بعد اضافہ ہوگیا ہے کیونکہ ملک میں بدترین معاشی بحران کے باعث ہزاروں افراد بےروزگار ہوگئے ہیں۔</p>

<p>دوسری جانب پاکستان 2 ہزار 670 کلومیٹر طویل سرحد ڈیورنڈ لائن پر باڑ لگا رہا ہے، جس کا تعین ابتدائی طور پر برطانوی نوآبادیاتی انتظامیہ نے کیا تھا۔</p>

<p>رپورٹس کے مطابق صدیوں سے تاجر اور اسمگلرز ٹیکسوں کی ادائیگی سے بچنے کے لیے دور دراز اور پرخطر پہاڑی گزرگاہ کا استعمال کر رہے ہیں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1017698">افغانستان: صوبہ پنجشیر میں برفانی تودے گرنے سے 186 ہلاکتیں</a></strong></p>

<p>پاک-افغان سرحد کے مذکورہ پہاڑی علاقوں میں برفانی تودے گرنے کے حادثے اکثر پیش آتے ہیں۔</p>

<p>اس سے قبل افغانستان میں 2015 میں بدترین برفانی تودے گرنے کا ایک سلسلہ سامنے آیا تھا اور اس کے نتیجے میں 250 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔</p>

<p>افغانستان کے صوبہ پروان اور صوبہ بدخشاں سمیت مختلف صوبوں میں فروری 2017 میں شدید برف باری ہوئی تھی اور  اس دوران 100 سے زائد افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔</p>

<p>اس وقت کے افغان وزیر مملکت برائے ڈیزاسٹر منیجمنٹ اینڈ ہیومن افیئرز کے ترجمان عمر محمدی نے بتایا تھا کہ صوبہ نورستان میں ایک گاؤں برف میں دفن ہوگیا جس کے نتیجے میں وہاں 50 افراد جاں بحق ہوگئے۔</p>

<p>انہوں نے بتایا تھا کہ صوبہ نورستان کے دو گاؤں برفانی تودہ گرنے کے نتیجے میں مکمل طور پر تباہ ہوگئے جہاں سے اب تک 50 لاشیں نکالی جاچکی ہیں اور ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ برفانی تودے گرنے سے 550 سے زائد جانور بھی ہلاک ہوئے ہیں جبکہ ڈھائی ہزار ایکڑ رقبے پر پھیلی فصلیں تباہ ہوچکی ہیں، اس کے علاوہ برفانی تودوں کی زد میں آکر 150 سے زائد گھر بھی تباہ ہوچکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1176990</guid>
      <pubDate>Mon, 07 Feb 2022 19:40:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/02/620113044922f.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/02/620113044922f.jpg"/>
        <media:title>افغان حکام نے بتایا کہ ریسکیو عملہ امدادی کام میں مصروف ہے— فائل/فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
