<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 04:04:10 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 04:04:10 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>2021 میں عالمی وبا کے دباؤ کے باعث جمہوریت مزید گر گئی، رپورٹ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1177182/</link>
      <description>&lt;p&gt;اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ (ای آئی یو) نے کہا ہے کہ 2021 میں عالمی وبا اور آمریت کی بڑھتی ہوئی حمایت کے باعث دنیا بھر میں ایک بار پھر جمہوری معیار میں کمی ہوئی ہے اور اب دنیا کی صرف 45 فیصد آبادی جمہوریت میں رہ رہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق لندن کے تجزیہ کار گروپ نے کہا ہے کہ 2020 میں دنیا کی نصف سے کم آبادی جمہوریت میں رہ رہی تھی، تاہم یہ رجحان مزید خراب ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ای آئی یو نے کہا کہ سالانہ جمہوریت انڈیکس کے مطابق دنیا بھر میں جمہوریت کو مسلسل چیلنجز درپیش ہیں جو کہ کورونا وائرس کی وبا اور آمریت کی بڑھتی ہوئی حمایت کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سالانہ انڈیکس نے، جو کہ عالمی جمہوریت کی حالت کی پیمائش فراہم کرتا ہے، 2010 کے بعد سب سے بڑی کمی ریکارڈ کی ہے جو کہ 2006 میں شائع ہونے والے پہلے انڈیکس سے اب تک کا بدترین اسکور اور مایوس کن ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1173601"&gt;ڈیموکریسی اجلاس میں غیر جمہوری قوتوں پر امریکی پابندیوں کا امکان&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یورپ میں اسپین کی تنزلی کرکے ناقص جمہوریت کا درجہ دیا گیا ہے جس میں اس کی عدالتی آزادی کے اسکور کی گرتی صورتحال کو ظاہر کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ای آئی یو نے کہا کہ پارٹی فنانسنگ کے تنازعات اور اسکینڈلز کے سلسلے کے باعث لندن کی رینکنگ بھی گر گئی ہے، تاہم اس میں مکمل جمہوریت برقرار ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دنیا کی 45.7 فیصد آبادی کسی طرح کی جمہوریت میں رہ رہی ہے تاہم 2020 کے مقابلے میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ 49.4 فیصد تھی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یونٹ نے کہا کہ چلی اور اسپین مکمل جمہوریت سے گر کر ناقص جمہوریت میں شامل ہونے کے باعث دنیا کی صرف 6.4 فیصد آبادی مکمل جمہوریت میں رہ رہی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;دنیا کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی آمریت میں رہ رہی ہے جس کا بڑا حصہ چین میں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1175620"&gt;جمہوری قیادت ممالک میں آمروں کے انسداد کیلئے مزید کام کریں، ہیومین رائٹس واچ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ای آئی یو نے کہا کہ چین، امیر ہونے کے باوجود جمہوری ملک نہیں بن سکا، اس کے برخلاف چین میں آزادی میں مزید کمی آئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انڈیکس میں سرفہرست تین ممالک میں ناروے، نیوزی لینڈ اور فن لینڈ شامل ہیں جبکہ شمالی کوریا، میانمار اور افغانستان آخری نمبروں پر موجود ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تیونس کے ساتھ میانمار اور افغانستان میں فوجی بغاوت اور طالبان کے قبضے کے بعد انڈیکس میں سب سے بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اکنامسٹ انٹیلی جنس یونٹ (ای آئی یو) نے کہا ہے کہ 2021 میں عالمی وبا اور آمریت کی بڑھتی ہوئی حمایت کے باعث دنیا بھر میں ایک بار پھر جمہوری معیار میں کمی ہوئی ہے اور اب دنیا کی صرف 45 فیصد آبادی جمہوریت میں رہ رہی ہے۔</p>

<p>غیر ملکی خبر رساں ایجنسی 'اے ایف پی' کے مطابق لندن کے تجزیہ کار گروپ نے کہا ہے کہ 2020 میں دنیا کی نصف سے کم آبادی جمہوریت میں رہ رہی تھی، تاہم یہ رجحان مزید خراب ہو گیا ہے۔</p>

<p>ای آئی یو نے کہا کہ سالانہ جمہوریت انڈیکس کے مطابق دنیا بھر میں جمہوریت کو مسلسل چیلنجز درپیش ہیں جو کہ کورونا وائرس کی وبا اور آمریت کی بڑھتی ہوئی حمایت کے باعث دباؤ کا شکار ہے۔</p>

<p>اس سالانہ انڈیکس نے، جو کہ عالمی جمہوریت کی حالت کی پیمائش فراہم کرتا ہے، 2010 کے بعد سب سے بڑی کمی ریکارڈ کی ہے جو کہ 2006 میں شائع ہونے والے پہلے انڈیکس سے اب تک کا بدترین اسکور اور مایوس کن ہے۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1173601">ڈیموکریسی اجلاس میں غیر جمہوری قوتوں پر امریکی پابندیوں کا امکان</a></strong></p>

<p>یورپ میں اسپین کی تنزلی کرکے ناقص جمہوریت کا درجہ دیا گیا ہے جس میں اس کی عدالتی آزادی کے اسکور کی گرتی صورتحال کو ظاہر کیا گیا ہے۔</p>

<p>ای آئی یو نے کہا کہ پارٹی فنانسنگ کے تنازعات اور اسکینڈلز کے سلسلے کے باعث لندن کی رینکنگ بھی گر گئی ہے، تاہم اس میں مکمل جمہوریت برقرار ہے۔</p>

<p>دنیا کی 45.7 فیصد آبادی کسی طرح کی جمہوریت میں رہ رہی ہے تاہم 2020 کے مقابلے میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے جو کہ 49.4 فیصد تھی۔ </p>

<p>یونٹ نے کہا کہ چلی اور اسپین مکمل جمہوریت سے گر کر ناقص جمہوریت میں شامل ہونے کے باعث دنیا کی صرف 6.4 فیصد آبادی مکمل جمہوریت میں رہ رہی ہے۔</p>

<p>دنیا کی ایک تہائی سے زیادہ آبادی آمریت میں رہ رہی ہے جس کا بڑا حصہ چین میں ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1175620">جمہوری قیادت ممالک میں آمروں کے انسداد کیلئے مزید کام کریں، ہیومین رائٹس واچ</a></strong></p>

<p>ای آئی یو نے کہا کہ چین، امیر ہونے کے باوجود جمہوری ملک نہیں بن سکا، اس کے برخلاف چین میں آزادی میں مزید کمی آئی ہے۔</p>

<p>انڈیکس میں سرفہرست تین ممالک میں ناروے، نیوزی لینڈ اور فن لینڈ شامل ہیں جبکہ شمالی کوریا، میانمار اور افغانستان آخری نمبروں پر موجود ہیں۔</p>

<p>تیونس کے ساتھ میانمار اور افغانستان میں فوجی بغاوت اور طالبان کے قبضے کے بعد انڈیکس میں سب سے بڑی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1177182</guid>
      <pubDate>Thu, 10 Feb 2022 17:22:13 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/02/6204fd95d6ad4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="485" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/02/6204fd95d6ad4.jpg"/>
        <media:title>سالانہ انڈیکس نے 2010 کے بعد سب سے بڑی کمی ریکارڈ کی ہے — فائل فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
