<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Sindh</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 00:50:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 00:50:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>این آئی سی وی ڈی میں مفت علاج روکنے کے الزامات مسترد
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1177248/</link>
      <description>&lt;p&gt;قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) نے کسی قسم کا مفت علاج روکنے کے تمام الزامات کو مسترد کردیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;این آئی سی وی ڈی کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں نے کہا گیا کہ ‘این آئی سی وی ڈی ان تمام الزامات کی تردید کرتا ہے کہ این آئی سی وی ڈی میں کسی قسم کا مفت علاج روک دیا گیا ہے’۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/nicvd_karachi/status/1492048695034003467"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قبل ازیں این آئی سی وی ڈی نے وضاحتی بیان میں بھی تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ این آئی سی وی ڈی طبی ثبوت کی بنیاد پر تمام علاج کر رہا ہے جو اس وقت دکھا رہا ہے کہ انجیوپلاسٹی صرف اس وقت مفید ہے جب دل کا دورہ پڑے یا بے قابو انجائنا ہو اور انہی دونوں صورتوں میں انجیوپلاسٹی سے فائدہ ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہبھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1171307"&gt;این آئی سی وی ڈی کے 3 ملازمین، مریضوں سے رشوت لینے پر برطرف&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ ثبوت سے واضح ہورہا ہے کہ مہلک انجائنا کے شکار مریضوں کے لیے انجیوپلاسٹی مفید نہیں ہے، اس کا صرف علامتی فائدہ ہے، جو دوائیوں سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قومی ادارہ امراض قلب نے کہا تھا کہ انجائنا کنٹرول کرنے کے لیے انجیوپلاسٹی کا فائدہ صرف اسی وقت ہوتا ہے جب دوا سے علاج ناکام ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا تھا کہ این آئی سی وی ڈی ابتدائی انجیوپلاسٹی کا دنیا کا سب سے بڑا مرکز ہے، جہاں 2021 میں انجائنا میں مبتلا مریضوں کی 25 ہزار سے زائد ابتدائی انجیوپلاسٹیز ہوئی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ادارے کی کارکردگی کے حوالے سے کہا گیا کہ الیکٹیو انجیوپلاسٹی کے لیے این آئی سی وی ڈی کے پاس ماہرین امراض قلب کی ٹیم ہے، جو کارڈیک سرجن اور انٹروینشنل کارڈیالوجسٹ پر مشتمل ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بیان میں کہا گیا کہ ماہرین امراض قلب کی تیم روزانہ مل بیٹھتی ہے اور فیصلہ کرتی ہے کہ اگر کسی مریض کا دواؤں سے علاج ناکام ہو تو اس مریض کو الیکٹیو انجیوپلاسٹی کے لیے بھیجا جائے  اور یہ سب بالکل مفت کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1167925"&gt;سندھ ہائیکورٹ نے این آئی سی وی ڈی کو فراہم کردہ سرکاری فنڈنگ کا ریکارڈ طلب کرلیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;قومی ادارے نے اپنا عزم دہراتے ہوئے کہا کہ این آئی سی وی ڈی ہر کسی کے لیے بہترین علاج فراہم کرتے ہوئے پاکستان کے عوام کی خدمت جاری رکھے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ این آئی سی وی ڈی کے ماتحت 10 ہسپتال اور23 چیسٹ پین یونٹس کام کر رہے ہیں جہاں ہر طرح کا علاج بالکل مفت کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>قومی ادارہ برائے امراض قلب (این آئی سی وی ڈی) نے کسی قسم کا مفت علاج روکنے کے تمام الزامات کو مسترد کردیا ہے۔</p>

<p>این آئی سی وی ڈی کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر جاری بیان میں نے کہا گیا کہ ‘این آئی سی وی ڈی ان تمام الزامات کی تردید کرتا ہے کہ این آئی سی وی ڈی میں کسی قسم کا مفت علاج روک دیا گیا ہے’۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/nicvd_karachi/status/1492048695034003467"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>قبل ازیں این آئی سی وی ڈی نے وضاحتی بیان میں بھی تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ این آئی سی وی ڈی طبی ثبوت کی بنیاد پر تمام علاج کر رہا ہے جو اس وقت دکھا رہا ہے کہ انجیوپلاسٹی صرف اس وقت مفید ہے جب دل کا دورہ پڑے یا بے قابو انجائنا ہو اور انہی دونوں صورتوں میں انجیوپلاسٹی سے فائدہ ہوتا ہے۔</p>

<p><strong>یہبھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1171307">این آئی سی وی ڈی کے 3 ملازمین، مریضوں سے رشوت لینے پر برطرف</a></strong></p>

<p>بیان میں کہا گیا کہ ثبوت سے واضح ہورہا ہے کہ مہلک انجائنا کے شکار مریضوں کے لیے انجیوپلاسٹی مفید نہیں ہے، اس کا صرف علامتی فائدہ ہے، جو دوائیوں سے بھی حاصل کیا جاسکتا ہے۔</p>

<p>قومی ادارہ امراض قلب نے کہا تھا کہ انجائنا کنٹرول کرنے کے لیے انجیوپلاسٹی کا فائدہ صرف اسی وقت ہوتا ہے جب دوا سے علاج ناکام ہو۔</p>

<p>بیان میں کہا گیا تھا کہ این آئی سی وی ڈی ابتدائی انجیوپلاسٹی کا دنیا کا سب سے بڑا مرکز ہے، جہاں 2021 میں انجائنا میں مبتلا مریضوں کی 25 ہزار سے زائد ابتدائی انجیوپلاسٹیز ہوئی ہیں۔</p>

<p>ادارے کی کارکردگی کے حوالے سے کہا گیا کہ الیکٹیو انجیوپلاسٹی کے لیے این آئی سی وی ڈی کے پاس ماہرین امراض قلب کی ٹیم ہے، جو کارڈیک سرجن اور انٹروینشنل کارڈیالوجسٹ پر مشتمل ہے۔</p>

<p>بیان میں کہا گیا کہ ماہرین امراض قلب کی تیم روزانہ مل بیٹھتی ہے اور فیصلہ کرتی ہے کہ اگر کسی مریض کا دواؤں سے علاج ناکام ہو تو اس مریض کو الیکٹیو انجیوپلاسٹی کے لیے بھیجا جائے  اور یہ سب بالکل مفت کیا جاتا ہے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1167925">سندھ ہائیکورٹ نے این آئی سی وی ڈی کو فراہم کردہ سرکاری فنڈنگ کا ریکارڈ طلب کرلیا</a></strong> </p>

<p>قومی ادارے نے اپنا عزم دہراتے ہوئے کہا کہ این آئی سی وی ڈی ہر کسی کے لیے بہترین علاج فراہم کرتے ہوئے پاکستان کے عوام کی خدمت جاری رکھے گا۔</p>

<p>خیال رہے کہ این آئی سی وی ڈی کے ماتحت 10 ہسپتال اور23 چیسٹ پین یونٹس کام کر رہے ہیں جہاں ہر طرح کا علاج بالکل مفت کیا جاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1177248</guid>
      <pubDate>Fri, 11 Feb 2022 19:56:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/02/62067831f365b.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/02/62067831f365b.jpg"/>
        <media:title>این آئی سی وی ڈی نے الزامات پر وضاحت بھی دے دی—فائل فوٹو: این آئی سی وی ڈی ویب سائٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
