<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 05:13:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 05:13:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سری لنکا: تیل کا بحران سنگین، بجلی کی طویل بندش کا اعلان
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1178244/</link>
      <description>&lt;p&gt;سری لنکا نے ملک بھر میں یومیہ ساڑھے 7 گھنٹے پر محیط بجلی کی بندش کا اعلان کردیا جو گزشتہ 26 سال کے عرصے میں سب سے طویل دورانیہ ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع ہونے والی ’اے ایف پی‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1677772/sri-lanka-imposes-longest-power-cuts-in-26-years"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt; کے مطابق سری لنکا کو زرِ مبادلہ کے ذخائر کے شدید بحران کا سامنا ہے جس سے اب وہ تیل درآمد کرنے سے قاصر ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بجلی گھروں کو تیل میسر نہ ہونے پر پبلک یوٹیلیٹیز کمیشن نے بجلی فراہمی کی حد مقرر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اسے قوم کے لیے ’سیاہ دن‘ قرار دیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ریگولیٹری کمیشن نے کہا کہ ’ہمیں بجلی بنانے کی صلاحیت نہیں بلکہ زرِ مبادلہ کے بحران کا سامنا ہے کیوں کہ ملک کے پاس تیل درآمد کرنے کے لیے ڈالرز نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بجلی کی فراہمی میں یہ کٹوتی 1996 کے بعد سب سے طویل ہے، جب پن بجلی پر 80 فیصد انحصار کرنے والے ملک کو ذخائر سوکھ جانے کی وجہ سے ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نئی ہدایات کے تحت تمام سرکاری اداروں کو دوپہر میں اپنے ایئرکنڈینشنرز بند رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے تا کہ بجلی بچائی جاسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بس آپریٹرز کا کہنا ہے کہ انہیں ڈیزل دستیاب نہیں اور 11 ہزار میں نصف بسز نہیں چلائی جارہیں البتہ منگل کے روز عام تعطیل کے باعث اس کا زیادہ اثر محسوس نہیں ہوا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے پرائیویٹ بس آپریٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے کہا کہ ’ہمیں ڈیزل کی قلت کا زیادہ اثر کل دکھائی دے گا جب لوگ کام پر جائیں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سری لنکا کو ایندھن فراہم کرنے والے سب سے بڑے ادارے لنکا آئی او سی نے تیل کی قیمت میں 12 فیصد اضافہ کردیا جبکہ سرکاری کمپنی سیلون پیٹرولیم کارپوریشن نے کہا کہ انہوں نے بھی قیمت برھانے کے لیے حکومت سے بات کی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تیل کی قلت کے سبب منگل کے روز کئی پمپس بند ہوگئے اور جو کھلے تھے وہاں لوگوں کی طویل قطاریں دیکھی گئیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزیر توانائی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈالرز کے بحران کے سبسب بجلی کا بحران ہوا، انہوں نے کہا کہ یہ 1948 میں برطانیہ سے آزادی کے بعد سے اب تک کا سب سے بدترین معاشی بحران ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خیال رہے کہ سری لنکا کا سیاحتی شعبہ زرمبادلہ کمانے کا سب سے اہم ذریعہ ہے جو کورونا وبا کے باعث تباہ ہوگیا تھا اور حکومت نے مارچ 2020 میں غیر ملکی کرنسی بچانے لیے درآمدات پر وسیع پابندیاں عائد کردی تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس وقت سری لنکا کو  معاشی بحران کے ساتھ ساتھ اشیائے خورو نوش، ادویات، گاڑیوں کے پرزہ جات اور سیمنٹ کی بڑی قلت کا سامنا ہے اور سپر مارکیٹس لوگوں کو اشیائے ضروریہ بشمول چاول، چینی اور خشک دودھ کی محدود مقدار فراہم کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جنوری کے دوران سری لنکا میں اشیائے خورو نوش کی مہنگائی 25 فیصد تک بڑھ گئی جبکہ مجموعی طور پر افراطِ زر کی شرح 16.8 فیصد ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سری لنکا نے ملک بھر میں یومیہ ساڑھے 7 گھنٹے پر محیط بجلی کی بندش کا اعلان کردیا جو گزشتہ 26 سال کے عرصے میں سب سے طویل دورانیہ ہے۔</p>

<p>ڈان اخبار میں شائع ہونے والی ’اے ایف پی‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1677772/sri-lanka-imposes-longest-power-cuts-in-26-years">رپورٹ</a> کے مطابق سری لنکا کو زرِ مبادلہ کے ذخائر کے شدید بحران کا سامنا ہے جس سے اب وہ تیل درآمد کرنے سے قاصر ہے۔</p>

<p>بجلی گھروں کو تیل میسر نہ ہونے پر پبلک یوٹیلیٹیز کمیشن نے بجلی فراہمی کی حد مقرر کرنے کا اعلان کرتے ہوئے اسے قوم کے لیے ’سیاہ دن‘ قرار دیا۔</p>

<p>ریگولیٹری کمیشن نے کہا کہ ’ہمیں بجلی بنانے کی صلاحیت نہیں بلکہ زرِ مبادلہ کے بحران کا سامنا ہے کیوں کہ ملک کے پاس تیل درآمد کرنے کے لیے ڈالرز نہیں ہیں۔</p>

<p>بجلی کی فراہمی میں یہ کٹوتی 1996 کے بعد سب سے طویل ہے، جب پن بجلی پر 80 فیصد انحصار کرنے والے ملک کو ذخائر سوکھ جانے کی وجہ سے ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔</p>

<p>نئی ہدایات کے تحت تمام سرکاری اداروں کو دوپہر میں اپنے ایئرکنڈینشنرز بند رکھنے کی ہدایت کی گئی ہے تا کہ بجلی بچائی جاسکے۔</p>

<p>بس آپریٹرز کا کہنا ہے کہ انہیں ڈیزل دستیاب نہیں اور 11 ہزار میں نصف بسز نہیں چلائی جارہیں البتہ منگل کے روز عام تعطیل کے باعث اس کا زیادہ اثر محسوس نہیں ہوا۔</p>

<p>اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے پرائیویٹ بس آپریٹرز ایسوسی ایشن کے چیئرمین نے کہا کہ ’ہمیں ڈیزل کی قلت کا زیادہ اثر کل دکھائی دے گا جب لوگ کام پر جائیں گے۔</p>

<p>سری لنکا کو ایندھن فراہم کرنے والے سب سے بڑے ادارے لنکا آئی او سی نے تیل کی قیمت میں 12 فیصد اضافہ کردیا جبکہ سرکاری کمپنی سیلون پیٹرولیم کارپوریشن نے کہا کہ انہوں نے بھی قیمت برھانے کے لیے حکومت سے بات کی ہے۔</p>

<p>تیل کی قلت کے سبب منگل کے روز کئی پمپس بند ہوگئے اور جو کھلے تھے وہاں لوگوں کی طویل قطاریں دیکھی گئیں۔</p>

<p>وزیر توانائی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ڈالرز کے بحران کے سبسب بجلی کا بحران ہوا، انہوں نے کہا کہ یہ 1948 میں برطانیہ سے آزادی کے بعد سے اب تک کا سب سے بدترین معاشی بحران ہے۔</p>

<p>خیال رہے کہ سری لنکا کا سیاحتی شعبہ زرمبادلہ کمانے کا سب سے اہم ذریعہ ہے جو کورونا وبا کے باعث تباہ ہوگیا تھا اور حکومت نے مارچ 2020 میں غیر ملکی کرنسی بچانے لیے درآمدات پر وسیع پابندیاں عائد کردی تھیں۔</p>

<p>اس وقت سری لنکا کو  معاشی بحران کے ساتھ ساتھ اشیائے خورو نوش، ادویات، گاڑیوں کے پرزہ جات اور سیمنٹ کی بڑی قلت کا سامنا ہے اور سپر مارکیٹس لوگوں کو اشیائے ضروریہ بشمول چاول، چینی اور خشک دودھ کی محدود مقدار فراہم کررہے ہیں۔</p>

<p>جنوری کے دوران سری لنکا میں اشیائے خورو نوش کی مہنگائی 25 فیصد تک بڑھ گئی جبکہ مجموعی طور پر افراطِ زر کی شرح 16.8 فیصد ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1178244</guid>
      <pubDate>Wed, 02 Mar 2022 09:36:41 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/03/621ef322a5fff.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/03/621ef322a5fff.jpg"/>
        <media:title>زرمبادلہ کے بحران کے سبب سری لنکا کو تیل درآمد کرنے میں مشکلات کا سامنا ہے—تصویر: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
