<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 11 May 2026 23:50:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 11 May 2026 23:50:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آڈٹ کے دوران پی آئی ڈی کے مالیاتی امور میں بے ضابطگیوں کی نشاندہی
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1178453/</link>
      <description>&lt;p&gt;آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) کے مالیاتی امور میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے مالی سال 21-2020 میں متعدد بے ضابطگیاں بے نقاب کردیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1678506/audit-finds-irregularities-in-pids-financial-affairs"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق مالی سال کے لیے جاری آڈٹ میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ وزارت اطلاعات و نشریات کے 13 ملازمین کو گھر کے کرایے کی مد میں ایک کروڑ 37 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے 31 جولائی 2014 کے میمورنڈم کے مطابق تمام ادائیگیاں کراس چیک کی صورت میں ہونی چاہیے جو مکان مالک کے اکاؤنٹ میں جمع کرانے کے لیے بینک منیجر کو بھجوایا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں:&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1165763"&gt;وفاقی وزارت خزانہ میں 136 ارب 82 کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آڈٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ وزارت اطلاعات کے مرکزی شعبے پی آئی ڈی کی انتظامیہ نے 13 ملازمین کی رہائشی عمارتوں کے کرایے کی ادائیگی کے لیے ایک کروڑ 37 لاکھ 20 ہزار روپے ادا کیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آڈٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایک ذیلی رجسٹرار کے ذریعے غیر رجسٹرڈ پاور آف اٹارنی کی بنیادی پر ملازمین کو کرایہ ادا کیا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم مالک مکانوں کے علاوہ کوئی قانونی اختیار نہ رکھنے والوں کو کی جانے والی ادائیگیاں باقاعدہ نہیں تھیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اٹارنی جنرل پاکستان نے سفارش کی کہ یہ عمل رکنا چاہیے ساتھ ہی پی آئی ڈی کو ہدایت کی گئی کہ اس بے ضابطگی کو دور کریں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1158804"&gt;اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کے 116 آڈٹ اعتراضات 'پی اے سی' کی منظوری کے بغیر کلیئر&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آڈٹ میں یہ نشاندہی بھی ہوئی کہ پی آئی ڈی نے خرید و فروخت کرنے والوں کو 77 لاکھ روپے کی ادائیگی میں وفاقی حکومت کے خزانہ سے متعلق قواعد کی خلاف ورزی کی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رول نمبر 157 (2) کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ ’تھرڈ پارٹی کو تمام ادائیگیاں وصول کنندہ کے نام سے جاری کیے گئے چیکس کے ذریعے کی جائیں گی‘۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم پی آئی ڈی انتظامیہ نے دکانداروں کے نام کراس چیک جاری کرنے کے بجائے ایک افسر کے نام پر 77 لاکھ روپے ادا کیے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مالی سال  2-2019 کے دوران بھی، آڈٹ نے محکمے پر بے ضابطگیوں، نجی گاڑیوں کی غیر مجاز خدمات اور مختلف عہدوں پر غیر قانونی تقرریوں کا الزام لگایا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1173328"&gt;کورونا سے متعلق اخراجات میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آڈٹ رپورٹ کے مطابق پی آئی ڈی میں 479 اسامیاں تھیں جس پر 110 افسران اور 369 سیکریٹیڑیل عملہ کی اسامی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انتظامیہ نے اخبار میں اشتہار دیے بغیر ان اسامیوں پر تعیناتیاں کیں، رپورٹ میں اس معاملے کی انکوائری کرنے کی بھی سفارش کی گئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;آڈٹ میں یہ بھی پتا چلا کہ محکمے  نے پروکیورمنٹ رولز کے خلاف پرائیویٹ گاڑیاں کرائے پر لی ہیں، کیونکہ قواعد کے مطابق اس کے لیے بھی پرنٹ میڈیا میں تشہیر بھی کی جا سکتی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>آڈیٹر جنرل آف پاکستان (اے جی پی) نے پریس انفارمیشن ڈپارٹمنٹ (پی آئی ڈی) کے مالیاتی امور میں خامیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے مالی سال 21-2020 میں متعدد بے ضابطگیاں بے نقاب کردیں۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1678506/audit-finds-irregularities-in-pids-financial-affairs">رپورٹ</a></strong> کے مطابق مالی سال کے لیے جاری آڈٹ میں اس بات کا انکشاف ہوا کہ وزارت اطلاعات و نشریات کے 13 ملازمین کو گھر کے کرایے کی مد میں ایک کروڑ 37 لاکھ روپے ادا کیے گئے۔</p>

<p>وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے 31 جولائی 2014 کے میمورنڈم کے مطابق تمام ادائیگیاں کراس چیک کی صورت میں ہونی چاہیے جو مکان مالک کے اکاؤنٹ میں جمع کرانے کے لیے بینک منیجر کو بھجوایا جائے گا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں:<a href="https://www.dawnnews.tv/news/1165763">وفاقی وزارت خزانہ میں 136 ارب 82 کروڑ روپے کی بے ضابطگیوں کا انکشاف</a></strong></p>

<p>آڈٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ وزارت اطلاعات کے مرکزی شعبے پی آئی ڈی کی انتظامیہ نے 13 ملازمین کی رہائشی عمارتوں کے کرایے کی ادائیگی کے لیے ایک کروڑ 37 لاکھ 20 ہزار روپے ادا کیے۔</p>

<p>آڈٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ ایک ذیلی رجسٹرار کے ذریعے غیر رجسٹرڈ پاور آف اٹارنی کی بنیادی پر ملازمین کو کرایہ ادا کیا گیا۔</p>

<p>تاہم مالک مکانوں کے علاوہ کوئی قانونی اختیار نہ رکھنے والوں کو کی جانے والی ادائیگیاں باقاعدہ نہیں تھیں۔</p>

<p>اٹارنی جنرل پاکستان نے سفارش کی کہ یہ عمل رکنا چاہیے ساتھ ہی پی آئی ڈی کو ہدایت کی گئی کہ اس بے ضابطگی کو دور کریں۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1158804">اربوں روپے کی بے ضابطگیوں کے 116 آڈٹ اعتراضات 'پی اے سی' کی منظوری کے بغیر کلیئر</a></strong></p>

<p>آڈٹ میں یہ نشاندہی بھی ہوئی کہ پی آئی ڈی نے خرید و فروخت کرنے والوں کو 77 لاکھ روپے کی ادائیگی میں وفاقی حکومت کے خزانہ سے متعلق قواعد کی خلاف ورزی کی۔</p>

<p>رول نمبر 157 (2) کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ میں کہا گیا کہ ’تھرڈ پارٹی کو تمام ادائیگیاں وصول کنندہ کے نام سے جاری کیے گئے چیکس کے ذریعے کی جائیں گی‘۔</p>

<p>تاہم پی آئی ڈی انتظامیہ نے دکانداروں کے نام کراس چیک جاری کرنے کے بجائے ایک افسر کے نام پر 77 لاکھ روپے ادا کیے۔</p>

<p>مالی سال  2-2019 کے دوران بھی، آڈٹ نے محکمے پر بے ضابطگیوں، نجی گاڑیوں کی غیر مجاز خدمات اور مختلف عہدوں پر غیر قانونی تقرریوں کا الزام لگایا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1173328">کورونا سے متعلق اخراجات میں سنگین بے ضابطگیوں کا انکشاف</a></strong></p>

<p>آڈٹ رپورٹ کے مطابق پی آئی ڈی میں 479 اسامیاں تھیں جس پر 110 افسران اور 369 سیکریٹیڑیل عملہ کی اسامی شامل ہیں۔</p>

<p>انتظامیہ نے اخبار میں اشتہار دیے بغیر ان اسامیوں پر تعیناتیاں کیں، رپورٹ میں اس معاملے کی انکوائری کرنے کی بھی سفارش کی گئی۔</p>

<p>آڈٹ میں یہ بھی پتا چلا کہ محکمے  نے پروکیورمنٹ رولز کے خلاف پرائیویٹ گاڑیاں کرائے پر لی ہیں، کیونکہ قواعد کے مطابق اس کے لیے بھی پرنٹ میڈیا میں تشہیر بھی کی جا سکتی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1178453</guid>
      <pubDate>Sun, 06 Mar 2022 09:49:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ملک اسد)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/03/622438c1e7ed5.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/03/622438c1e7ed5.jpg"/>
        <media:title>پی آئی ڈی کو ہدایت کی گئی کہ اس بے ضابطگی کو دور کریں—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
