<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 13:35:55 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 13:35:55 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لمبی زندگی کا راز آپ کے اپنے اندر چھپا ہے
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1178598/</link>
      <description>&lt;p&gt;ہر قسم کے حالات میں پرامید رہنے والے افراد زیادہ صحت مند اور لمبی زندگی گزارتے ہیں کیونکہ انہیں تناؤ کا سامنا کم ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بات ایک نئی &lt;a href="https://www.theguardian.com/science/2022/mar/07/reasons-to-be-cheerful-optimists-live-longer-says-study"&gt;&lt;strong&gt;تحقیق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں سامنے آئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پرامید افراد بھی مایوس لوگوں کی طرح ہی پرتناؤ حالات پر ردعمل ظاہر کرتے ہیں مگر وہ جذباتی طور پر اس سے باہر نکلنے میں زیادہ بہتر ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ تو واضح نہیں کہ ان افراد کو کم تناؤ کا سامنا کیوں ہوتا ہے مگر محققین کا ماننا ہے کہ بحث سے گریز یا چابیاں گم ہونے، ٹریفک جام اور ایسے ہی حالات میں کم چڑچڑاہٹ ان میں تناؤ کی شدت کو کم کرتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بوسٹن یونیورسٹی کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ سابقہ تحقیقی کام میں پرامیدی کو لمبی زندگی اور صحت مند بڑھاپے سے منسلک کیا گیا ہے تو اسی کو آگے بڑھاتے ہوئے دیکھا گیا کہ اس سے تناؤ پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق کے لیے 233 ایسے مردوں کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی جن کی خدمات یو ایس ویٹرنز افیئرز نورمیٹیو ایجنگ اسٹڈی کے لیے 1961 سے 1970 کے دوران حاصل کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;1980 اور 90 کی دہائی میں سرویز کے ذریعے ان میں امید کی سطح کو جانچا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;2002 سے 2010 کے دوران ان افراد سے ڈائری انٹریز بھروائی گئیں تاکہ ان کے مزاج اور پرتناؤ حالات میں ان کے ردعمل کو جانا جاسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے بتایا کہ ہم نے دریافت کیا کہ جو لوگ زیادہ پرامید ہوتے ہیں انہیں روزمرہ کے معمولات میں اتنے کم تناؤ کا سامنا ہوتا ہے جس سے ان کے مزاج پر بھی کم منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگرچہ تحقیق میں معمر افراد شامل تھے مگر ممکنہ طور پر ان نتائج کا اطلاق معمر خواتین پر بھی ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف Gerontology میں شائع ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ہر قسم کے حالات میں پرامید رہنے والے افراد زیادہ صحت مند اور لمبی زندگی گزارتے ہیں کیونکہ انہیں تناؤ کا سامنا کم ہوتا ہے۔</p>

<p>یہ بات ایک نئی <a href="https://www.theguardian.com/science/2022/mar/07/reasons-to-be-cheerful-optimists-live-longer-says-study"><strong>تحقیق</strong></a> میں سامنے آئی۔</p>

<p>تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ پرامید افراد بھی مایوس لوگوں کی طرح ہی پرتناؤ حالات پر ردعمل ظاہر کرتے ہیں مگر وہ جذباتی طور پر اس سے باہر نکلنے میں زیادہ بہتر ہوتے ہیں۔</p>

<p>یہ تو واضح نہیں کہ ان افراد کو کم تناؤ کا سامنا کیوں ہوتا ہے مگر محققین کا ماننا ہے کہ بحث سے گریز یا چابیاں گم ہونے، ٹریفک جام اور ایسے ہی حالات میں کم چڑچڑاہٹ ان میں تناؤ کی شدت کو کم کرتا ہے۔</p>

<p>بوسٹن یونیورسٹی کی اس تحقیق میں بتایا گیا کہ سابقہ تحقیقی کام میں پرامیدی کو لمبی زندگی اور صحت مند بڑھاپے سے منسلک کیا گیا ہے تو اسی کو آگے بڑھاتے ہوئے دیکھا گیا کہ اس سے تناؤ پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں۔</p>

<p>تحقیق کے لیے 233 ایسے مردوں کے ڈیٹا کی جانچ پڑتال کی گئی جن کی خدمات یو ایس ویٹرنز افیئرز نورمیٹیو ایجنگ اسٹڈی کے لیے 1961 سے 1970 کے دوران حاصل کی گئی تھی۔</p>

<p>1980 اور 90 کی دہائی میں سرویز کے ذریعے ان میں امید کی سطح کو جانچا گیا۔</p>

<p>2002 سے 2010 کے دوران ان افراد سے ڈائری انٹریز بھروائی گئیں تاکہ ان کے مزاج اور پرتناؤ حالات میں ان کے ردعمل کو جانا جاسکے۔</p>

<p>محققین نے بتایا کہ ہم نے دریافت کیا کہ جو لوگ زیادہ پرامید ہوتے ہیں انہیں روزمرہ کے معمولات میں اتنے کم تناؤ کا سامنا ہوتا ہے جس سے ان کے مزاج پر بھی کم منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ اگرچہ تحقیق میں معمر افراد شامل تھے مگر ممکنہ طور پر ان نتائج کا اطلاق معمر خواتین پر بھی ہوتا ہے۔</p>

<p>اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل آف Gerontology میں شائع ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1178598</guid>
      <pubDate>Tue, 08 Mar 2022 13:16:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/03/62270ff1188a5.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/03/62270ff1188a5.jpg"/>
        <media:title>یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
