<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 01:25:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 22 Jun 2026 01:25:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مریضوں میں کووڈ کی شدت بڑھانے والے 16 جینز کی دریافت
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1178630/</link>
      <description>&lt;p&gt;سائنسدانوں نے ایسے 16 جینز کو شناخت کیا ہے جو لوگوں میں کووڈ 19 کی شدت کو بڑھانے کا باعث بنتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بات اسکاٹ لینڈ میں ہونے والی ایک طبی &lt;a href="https://www.nature.com/articles/s41586-022-04576-6"&gt;&lt;strong&gt;تحقیق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں سامنے آئی۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایڈنبرگ یونیورسٹی کی تحقیق کے نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ کووڈ سے بہت زیادہ بیمار ہونے والے افراد میں ایسے جینز ہوتے ہیں جو مختلف مسائل جیسے وائرس کے نقول بنانے کی صلاحیت کو محدود کرنے، شدید ورم یا بلڈ کلاٹس کی روک تھام نہیں کرپاتے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے کہا کہ ان نتائج کی بنیاد پر ایسے علاج تشکیل دینے میں مدد مل سکے گی جو مریضوں کو سنگین پیچیدگیوں سے بچانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس سے یہ پیشگوئی کرنے میں بھی مدد مل سکے گی کہ کون سے مریض زیادہ بیمار ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق کے دوران برطانیہ میں کووڈ کے باعث آئی سی یو میں زیرعلاج رہنے والے مریضوں کے 56 ہزار کے لگ بھگ نمونوں کا جینیاتی تجزیہ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;جب ان کا موازنہ بیماری سے محفوظ رہنے والے یا معمولی بیمار ہونے والے گروپس سے کیا گیا تو ایسے 16 جینز کی شناخت ہوئی جن کا پہلے علم نہیں تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے بتایا کہ نئی دریافت سے ماہرین کو اس وقت دستیاب ادویات کو تلاش کرنے میں مدد مل سکے گی جو کووڈ 19 کے علاج میں ممکنہ طور پر مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مثال کے طور پر ماہرین نے دریافت کیا کہ ایسے بنیادی جینز میں بیماری کے دوران تبدیلیاں آتی ہیں جو ایک پروٹین فیکٹر VIII کو ریگولیٹ کرتے ہیں جو بلڈ کلاٹس بننے کے عمل کا حصہ ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بلڈ کلاٹس ان چند بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے جن کی وجہ سے کووڈ کے مریضوں کو آکسیجن کی کمی کا سامان ہوتا ہے، تو ایسا ممکن ہے کہ ایسے حصوں کو ہدف بنایا جائے جس سے بلڈ کلاٹس کو بننے سے روکا جاسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1168797' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/large/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/6172ba546c03d.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ مگر ہم ٹرائلز کے بغیر یہ نہیں جان سکتے کہ یہ ادویات کام کریں گی یا نہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے قبل سائنسدانوں نے کووڈ کی شدت بڑھانے والے ایک جین ٹی وائے کے 2 کو دریافت کیا گیا تھا جس کو مونوکلونل اینٹی باڈی علاج میں ہدف بھی بنایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل نیچر میں شائع ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سائنسدانوں نے ایسے 16 جینز کو شناخت کیا ہے جو لوگوں میں کووڈ 19 کی شدت کو بڑھانے کا باعث بنتی ہے۔</p>

<p>یہ بات اسکاٹ لینڈ میں ہونے والی ایک طبی <a href="https://www.nature.com/articles/s41586-022-04576-6"><strong>تحقیق</strong></a> میں سامنے آئی۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>ایڈنبرگ یونیورسٹی کی تحقیق کے نتائج سے عندیہ ملتا ہے کہ کووڈ سے بہت زیادہ بیمار ہونے والے افراد میں ایسے جینز ہوتے ہیں جو مختلف مسائل جیسے وائرس کے نقول بنانے کی صلاحیت کو محدود کرنے، شدید ورم یا بلڈ کلاٹس کی روک تھام نہیں کرپاتے۔</p>

<p>محققین نے کہا کہ ان نتائج کی بنیاد پر ایسے علاج تشکیل دینے میں مدد مل سکے گی جو مریضوں کو سنگین پیچیدگیوں سے بچانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ اس سے یہ پیشگوئی کرنے میں بھی مدد مل سکے گی کہ کون سے مریض زیادہ بیمار ہوسکتے ہیں۔</p>

<p>اس تحقیق کے دوران برطانیہ میں کووڈ کے باعث آئی سی یو میں زیرعلاج رہنے والے مریضوں کے 56 ہزار کے لگ بھگ نمونوں کا جینیاتی تجزیہ کیا گیا تھا۔</p>

<p>جب ان کا موازنہ بیماری سے محفوظ رہنے والے یا معمولی بیمار ہونے والے گروپس سے کیا گیا تو ایسے 16 جینز کی شناخت ہوئی جن کا پہلے علم نہیں تھا۔</p>

<p>محققین نے بتایا کہ نئی دریافت سے ماہرین کو اس وقت دستیاب ادویات کو تلاش کرنے میں مدد مل سکے گی جو کووڈ 19 کے علاج میں ممکنہ طور پر مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔</p>

<p>مثال کے طور پر ماہرین نے دریافت کیا کہ ایسے بنیادی جینز میں بیماری کے دوران تبدیلیاں آتی ہیں جو ایک پروٹین فیکٹر VIII کو ریگولیٹ کرتے ہیں جو بلڈ کلاٹس بننے کے عمل کا حصہ ہیں۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ بلڈ کلاٹس ان چند بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے جن کی وجہ سے کووڈ کے مریضوں کو آکسیجن کی کمی کا سامان ہوتا ہے، تو ایسا ممکن ہے کہ ایسے حصوں کو ہدف بنایا جائے جس سے بلڈ کلاٹس کو بننے سے روکا جاسکے۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1168797' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/large/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/6172ba546c03d.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>انہوں نے مزید کہا کہ مگر ہم ٹرائلز کے بغیر یہ نہیں جان سکتے کہ یہ ادویات کام کریں گی یا نہیں۔</p>

<p>اس سے قبل سائنسدانوں نے کووڈ کی شدت بڑھانے والے ایک جین ٹی وائے کے 2 کو دریافت کیا گیا تھا جس کو مونوکلونل اینٹی باڈی علاج میں ہدف بھی بنایا جاتا ہے۔</p>

<p>اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے جرنل نیچر میں شائع ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1178630</guid>
      <pubDate>Tue, 08 Mar 2022 19:59:40 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/03/62276acd1da7c.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/03/62276acd1da7c.jpg"/>
        <media:title>یہ بات ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
