<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 08:17:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 08:17:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روسی خاتون صحافی ٹی وی نشریات کے دوران جنگ مخالف بینر لے کر آگئیں
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1179027/</link>
      <description>&lt;p&gt;روسی حکومت کے زیر کنٹرول ایک نیوز چینل پر براہ راست خبریں نشر ہونے والے دوران ایک خاتون صحافی جنگ مخالف بینر لے کر اسکرین کے سامنے آگئیں، جن کی ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں وائرل ہوگئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خبر رساں ادارے &lt;a href="https://www.reuters.com/world/europe/anti-war-protester-interrupts-main-russian-news-show-2022-03-14/"&gt;&lt;strong&gt;’رائٹرز‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق روسی ٹی وی ’چینل ون‘ پر شام کی خبریں پڑھنے کے دوران چینل کی خاتون ایڈیٹر مرینا اوفسیانیکوفا جنگ مخالف بینر لے کر آگئیں اور ساتھ ہی روسی زبان میں جنگ مخالف نعرے بھی لگائے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;نیوز چینل کی وائرل ہونے والی مذکورہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون ایڈیٹر مرینا اوفسیانیکوفا اچانک نیوز کاسٹر کے پیچھے بینر لے کر کھڑی ہوجاتی ہیں تاکہ دنیا بھر کے لوگ ان کے احتجاج کو بھی دیکھ سکیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خاتون ایڈیٹر کی جانب سے تھامے گئے بینر پر انگریزی میں ’جنگ نہیں‘ کا جملہ لکھا ہوا تھا جب کہ روسی زبان میں بھی جنگ مخالف نعرے درج تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خاتون کے بینر پر روسی زبان میں ’جنگ ختم کریں، پروپیگنڈہ پر یقین مت کریں، آپ سے جھوٹ بولا جا رہا ہے‘۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/Rahimbuxsagar/status/1503722711801077762"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;وائرل ہونے والی ویڈیو میں پروگرام کی نشریات کے دوراں احتجاج کرنے والی خاتون کا آواز سنا جا سکتا ہے جس میں وہ ’ جنگ بند کریں اور جنگ نہیں چاہیے‘ جیسے نعرے لگاتی سنائی دیتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ احتجاج کرنے والی خاتون کی جانب سے نعرے لگائے جانے کے وقت نیوز کاسٹر بھی اپنی آواز کو تیز کردیتی ہیں تاکہ احجاج کرنے والی خاتون کی آواز سمجھ نہ آسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی حوالے سے برطانوی نشریاتی ادارے &lt;a href="https://www.bbc.com/news/world-europe-60744605"&gt;&lt;strong&gt;’بی بی سی‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ بعد ازاں نشریات کے دوران جنگ مخالف بینر لے کر آنے اور نعرے لگانے والی خاتون صحافی کو گرفتار کرلیا گیا، جن پر اب فوج کی بدنامی کرنے جیسے قوانین کے تحت قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;بی بی سی کے مطابق ٹی وی چینل کی نشریات کے دوراں احتجاج کرنے سے قبل مذکورہ خاتون صحافی نے ایک وڈیو پیغام جاری کیا تھا جس میں انہوں نے یوکرین میں جاری جنگی حالات کو ’جرم‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ان کے لیے ایک شرم کی بات ہے کہ وہ کریملن کے پروپیگنڈہ کا حصہ بن کر کام رہی ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا تھا کہ انہیں شرم آتی ہے کہ انہوں نے خود کو ٹیلی وژن اسکرین سے جھوٹ بولنے کی اجازت دی۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خاتون صحافی نے ویڈیو پیغام میں روسی شہریوں کو جنگ کے خلاف احتجاج کرنے کی دعوت دی اور کہا کہ صرف وہ ہی اس ’پاگل پن‘ کو روک سکتے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '&gt;
				&lt;div class='media__item    media__item--twitter  '&gt;            &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
                &lt;a href="https://twitter.com/MowliidHaji/status/1503638641364508672"&gt;&lt;/a&gt;
            &lt;/blockquote&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;خاتون کی شناخت سامنے آنے کے بعد انہیں فیس بک پیج سے روسی اور انگریزی زبان میں لاتعداد کمینٹس وصول ہوئے ہیں جس میں لوگ ان کے عمل کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یاد رہے کہ عام طور پر روس میں میڈیا چینلز حکومت کے کنٹرول میں ہیں اور بڑے چینلز پر آزادانہ تبصرے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علاوہ ازیں روس کے یوکرین پر حملہ کے بعد نئے قوانین متعارف ہونے کے بعد ٹٰی وی چینلز کو مزید پابند کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;رواں ماہ نافذ کیے گئے نئے قوانین میں کہا گیا ہے کہ روسی فوج کے عمل کو قبضہ کہنا اور اس متعلق غلط خبریں نشر کرنا غیر قانونی عمل ہوگا۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;روسی میڈیا جنگ کو ایک ’اہم فوجی آپریشن‘ قرار دے رہا ہے جبکہ یوکرین کو حملہ آور کے طور پر دکھا رہا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;روسی حکام کی جانب سے نافذ کیے گئے نئے قوانین کے بعد آزاد ٹی وی چینلز جن میں ’ایکو آف ماسکو‘ نامی ریڈیو چینل اور ’ٹی وی رین‘ نامی ایک آنلائن ٹی وی چینل شامل ہیں، انہوں نے بھی جنگ سے متعلق خبریں نشر کرنا بند کردی ہیں۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تاہم ’نووایا گزیٹا‘ کے نام سے شائع ہونے والا ایک اخبار نئے قوانین کی خلاف ورزی کیے بغیر جنگ سے متعلق خبریں شائع کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسی طرح روسی حکومت نے غیر ملکی میڈیا ہاؤسز جن میں بی بی سی جیسے ادارے بھی شامل ہیں، انہیں بھی معلومات تک محدود رسائی دے رکھی ہے، علاوہ ازیں متعدد سوشل میڈیا سائٹس اور ایپلی کیشنز کو بھی بند کردیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>روسی حکومت کے زیر کنٹرول ایک نیوز چینل پر براہ راست خبریں نشر ہونے والے دوران ایک خاتون صحافی جنگ مخالف بینر لے کر اسکرین کے سامنے آگئیں، جن کی ویڈیو دیکھتے ہی دیکھتے دنیا بھر میں وائرل ہوگئی۔</p>

<p>خبر رساں ادارے <a href="https://www.reuters.com/world/europe/anti-war-protester-interrupts-main-russian-news-show-2022-03-14/"><strong>’رائٹرز‘</strong></a> کے مطابق روسی ٹی وی ’چینل ون‘ پر شام کی خبریں پڑھنے کے دوران چینل کی خاتون ایڈیٹر مرینا اوفسیانیکوفا جنگ مخالف بینر لے کر آگئیں اور ساتھ ہی روسی زبان میں جنگ مخالف نعرے بھی لگائے۔</p>

<p>نیوز چینل کی وائرل ہونے والی مذکورہ ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ خاتون ایڈیٹر مرینا اوفسیانیکوفا اچانک نیوز کاسٹر کے پیچھے بینر لے کر کھڑی ہوجاتی ہیں تاکہ دنیا بھر کے لوگ ان کے احتجاج کو بھی دیکھ سکیں۔</p>

<p>خاتون ایڈیٹر کی جانب سے تھامے گئے بینر پر انگریزی میں ’جنگ نہیں‘ کا جملہ لکھا ہوا تھا جب کہ روسی زبان میں بھی جنگ مخالف نعرے درج تھے۔</p>

<p>خاتون کے بینر پر روسی زبان میں ’جنگ ختم کریں، پروپیگنڈہ پر یقین مت کریں، آپ سے جھوٹ بولا جا رہا ہے‘۔</p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/Rahimbuxsagar/status/1503722711801077762"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>وائرل ہونے والی ویڈیو میں پروگرام کی نشریات کے دوراں احتجاج کرنے والی خاتون کا آواز سنا جا سکتا ہے جس میں وہ ’ جنگ بند کریں اور جنگ نہیں چاہیے‘ جیسے نعرے لگاتی سنائی دیتی ہیں۔</p>

<p>ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ احتجاج کرنے والی خاتون کی جانب سے نعرے لگائے جانے کے وقت نیوز کاسٹر بھی اپنی آواز کو تیز کردیتی ہیں تاکہ احجاج کرنے والی خاتون کی آواز سمجھ نہ آسکے۔</p>

<p>اسی حوالے سے برطانوی نشریاتی ادارے <a href="https://www.bbc.com/news/world-europe-60744605"><strong>’بی بی سی‘</strong></a> نے اپنی رپورٹ میں بتایا کہ بعد ازاں نشریات کے دوران جنگ مخالف بینر لے کر آنے اور نعرے لگانے والی خاتون صحافی کو گرفتار کرلیا گیا، جن پر اب فوج کی بدنامی کرنے جیسے قوانین کے تحت قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔</p>

<p>بی بی سی کے مطابق ٹی وی چینل کی نشریات کے دوراں احتجاج کرنے سے قبل مذکورہ خاتون صحافی نے ایک وڈیو پیغام جاری کیا تھا جس میں انہوں نے یوکرین میں جاری جنگی حالات کو ’جرم‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ان کے لیے ایک شرم کی بات ہے کہ وہ کریملن کے پروپیگنڈہ کا حصہ بن کر کام رہی ہیں۔ </p>

<p>انہوں نے اپنے پیغام میں مزید کہا تھا کہ انہیں شرم آتی ہے کہ انہوں نے خود کو ٹیلی وژن اسکرین سے جھوٹ بولنے کی اجازت دی۔ </p>

<p>خاتون صحافی نے ویڈیو پیغام میں روسی شہریوں کو جنگ کے خلاف احتجاج کرنے کی دعوت دی اور کہا کہ صرف وہ ہی اس ’پاگل پن‘ کو روک سکتے ہیں۔ </p>

<figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--uneven media--embed  '>
				<div class='media__item    media__item--twitter  '>            <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
                <a href="https://twitter.com/MowliidHaji/status/1503638641364508672"></a>
            </blockquote></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>خاتون کی شناخت سامنے آنے کے بعد انہیں فیس بک پیج سے روسی اور انگریزی زبان میں لاتعداد کمینٹس وصول ہوئے ہیں جس میں لوگ ان کے عمل کو سراہتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کر رہے ہیں۔ </p>

<p>یاد رہے کہ عام طور پر روس میں میڈیا چینلز حکومت کے کنٹرول میں ہیں اور بڑے چینلز پر آزادانہ تبصرے نہ ہونے کے برابر ہیں۔ </p>

<p>علاوہ ازیں روس کے یوکرین پر حملہ کے بعد نئے قوانین متعارف ہونے کے بعد ٹٰی وی چینلز کو مزید پابند کیا گیا ہے۔</p>

<p>رواں ماہ نافذ کیے گئے نئے قوانین میں کہا گیا ہے کہ روسی فوج کے عمل کو قبضہ کہنا اور اس متعلق غلط خبریں نشر کرنا غیر قانونی عمل ہوگا۔ </p>

<p>روسی میڈیا جنگ کو ایک ’اہم فوجی آپریشن‘ قرار دے رہا ہے جبکہ یوکرین کو حملہ آور کے طور پر دکھا رہا ہے۔ </p>

<p>روسی حکام کی جانب سے نافذ کیے گئے نئے قوانین کے بعد آزاد ٹی وی چینلز جن میں ’ایکو آف ماسکو‘ نامی ریڈیو چینل اور ’ٹی وی رین‘ نامی ایک آنلائن ٹی وی چینل شامل ہیں، انہوں نے بھی جنگ سے متعلق خبریں نشر کرنا بند کردی ہیں۔ </p>

<p>تاہم ’نووایا گزیٹا‘ کے نام سے شائع ہونے والا ایک اخبار نئے قوانین کی خلاف ورزی کیے بغیر جنگ سے متعلق خبریں شائع کرنے کی کوششوں میں مصروف ہے۔ </p>

<p>اسی طرح روسی حکومت نے غیر ملکی میڈیا ہاؤسز جن میں بی بی سی جیسے ادارے بھی شامل ہیں، انہیں بھی معلومات تک محدود رسائی دے رکھی ہے، علاوہ ازیں متعدد سوشل میڈیا سائٹس اور ایپلی کیشنز کو بھی بند کردیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1179027</guid>
      <pubDate>Tue, 15 Mar 2022 19:13:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/03/62309778ad343.jpg?r=99377180" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/03/62309778ad343.jpg?r=2029976056"/>
        <media:title>احتجاج کرنے والی خاتون کی ویڈیو وائرل ہوگئی—اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
