<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 17 Apr 2026 06:35:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 17 Apr 2026 06:35:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اسلام آباد لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2021 کالعدم قرار
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1179079/</link>
      <description>&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2021 کالعدم قرار دیتے ہوئے نئے آرڈیننس کے تحت بلدیاتی انتخابات سے روک دیا ہے۔ &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ سنایا جس میں کہا گیا کہ اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات نئے آرڈیننس کے تحت نہیں ہوسکتے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1178190/"&gt;الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;سابق یو سی چیئرمین سردار مہتاب، سی ڈی اے مزدور یونین، سی ڈی اے آفیسرز ایسوسی ایشن اور دیگر درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنایا گیا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست گزاروں نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی موجودگی میں آرڈیننس کے ذریعے نیا بلدیاتی نظام لانے کو چیلنج کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس آرڈیننس کے تحت لوکل گورنمنٹ الیکشن رواں سال مئی میں منعقد ہونے تھے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;میٹروپولیٹن اسلام آباد کارپوریشن اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرنے کے بعد 15نومبر 2021 کو ختم ہو گئی تھی اور آخری مرتبہ بلدیاتی انتخابات نومبر 2015 میں ہوئے تھے جس میں مسلم لیگ(ن) نے کامیابی حاصل کی تھی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے صدارتی آرڈیننس نافذ کردیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1177704"&gt;صدر مملکت نے پیکا اور الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس جاری کردیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست گزاروں کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ آرڈیننس وقتی قانون سازی ہے جس کے پاکستان کے ان صوبوں کے لیے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں جن کے وسائل وفاقی دارالحکومت کی تعمیر و ترقی کے لیے استعمال کیے گئے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے کہا گیا کہ اس نوعیت کی قانون سازی اور وفاقی اکائیوں پر اثاثوں، مالیات اور ملازمت کے امکانات کے حوالے سے اس کے مضمرات پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے تھی اور ایسا نہ کرنے سے آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواستوں میں الزام لگایا گیا تھا کہ محض عارضی قانون کی بنیاد پر وفاق کے پورے درجے کا انتخاب کرنا مضحکہ خیز ہے، منتخب مقامی حکومت کو ممکنہ مدت کے لیے تحفظ کی فراہمی سے محروم اس نوعیت کا قانون آرٹیکل 140 کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواست گزاروں نے دلیل دی کہ یہ قانون واضح طور پر آئین کے آرٹیکل 89 کے مینڈیٹ سے زیادہ ہے جس کا دائرہ کار ایمرجنسی قانون سازی تک محدود ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواستوں میں کہا گیا کہ اس آرڈیننس کو ضروری رسمی کارروائیوں کو پورا کیے بغیر جاری کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1178667"&gt;’حکومت، اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں تعاون نہیں کر رہی‘&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; &lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس حوالے سے مزید کہا گیا کہ آرڈیننس نے اسلام آباد میں مقامی حکومت کا مکمل طور پر نیا ڈھانچہ متعارف کرایا اور مقامی حکومت کے اندر متعدد درجے بنائے، ایسا کرتے ہوئے انہوں نے اسلام آباد کے میئر کے براہ راست انتخاب کے لیے طریقہ کار فراہم کیا، کوئی ڈپٹی میئر نہیں، اس کے نتیجے میں آئی سی ٹی کونسل بنائی جائے گی جو کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے مقرر/نامزد اراکین کی ایک غیر منتخب شدہ باڈی ہو گی اور پڑوسی کونسلیں بھی ہوں گی جن کا اسلام آباد کے میئر سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہو گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;درخواستوں میں استدلال کیا گیا تھا کہ آرڈیننس میں پارلیمنٹ کے ایکٹ پر مبنی ایک قانون کو منسوخ کر دیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد لوکل گورنمنٹ آرڈیننس 2021 کالعدم قرار دیتے ہوئے نئے آرڈیننس کے تحت بلدیاتی انتخابات سے روک دیا ہے۔ </p>

<p>اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے آرڈیننس کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ سنایا جس میں کہا گیا کہ اسلام آباد کے بلدیاتی انتخابات نئے آرڈیننس کے تحت نہیں ہوسکتے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1178190/">الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس اسلام آباد ہائی کورٹ میں چیلنج</a></strong></p>

<p>سابق یو سی چیئرمین سردار مہتاب، سی ڈی اے مزدور یونین، سی ڈی اے آفیسرز ایسوسی ایشن اور دیگر درخواستوں پر محفوظ فیصلہ سنایا گیا۔</p>

<p>درخواست گزاروں نے لوکل گورنمنٹ ایکٹ کی موجودگی میں آرڈیننس کے ذریعے نیا بلدیاتی نظام لانے کو چیلنج کیا تھا۔</p>

<p>اس آرڈیننس کے تحت لوکل گورنمنٹ الیکشن رواں سال مئی میں منعقد ہونے تھے۔</p>

<p>میٹروپولیٹن اسلام آباد کارپوریشن اپنی پانچ سالہ مدت پوری کرنے کے بعد 15نومبر 2021 کو ختم ہو گئی تھی اور آخری مرتبہ بلدیاتی انتخابات نومبر 2015 میں ہوئے تھے جس میں مسلم لیگ(ن) نے کامیابی حاصل کی تھی۔</p>

<p>پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے بلدیاتی انتخابات کے انعقاد کے لیے صدارتی آرڈیننس نافذ کردیا تھا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1177704">صدر مملکت نے پیکا اور الیکشن ایکٹ ترمیمی آرڈیننس جاری کردیا</a></strong></p>

<p>درخواست گزاروں کی جانب سے مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ یہ آرڈیننس وقتی قانون سازی ہے جس کے پاکستان کے ان صوبوں کے لیے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں جن کے وسائل وفاقی دارالحکومت کی تعمیر و ترقی کے لیے استعمال کیے گئے۔</p>

<p>اس حوالے سے کہا گیا کہ اس نوعیت کی قانون سازی اور وفاقی اکائیوں پر اثاثوں، مالیات اور ملازمت کے امکانات کے حوالے سے اس کے مضمرات پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے تھی اور ایسا نہ کرنے سے آئین پاکستان کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔</p>

<p>درخواستوں میں الزام لگایا گیا تھا کہ محض عارضی قانون کی بنیاد پر وفاق کے پورے درجے کا انتخاب کرنا مضحکہ خیز ہے، منتخب مقامی حکومت کو ممکنہ مدت کے لیے تحفظ کی فراہمی سے محروم اس نوعیت کا قانون آرٹیکل 140 کے تقاضوں کے مطابق نہیں ہے۔</p>

<p>درخواست گزاروں نے دلیل دی کہ یہ قانون واضح طور پر آئین کے آرٹیکل 89 کے مینڈیٹ سے زیادہ ہے جس کا دائرہ کار ایمرجنسی قانون سازی تک محدود ہے۔</p>

<p>درخواستوں میں کہا گیا کہ اس آرڈیننس کو ضروری رسمی کارروائیوں کو پورا کیے بغیر جاری کر دیا گیا تھا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1178667">’حکومت، اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں تعاون نہیں کر رہی‘</a></strong> </p>

<p>اس حوالے سے مزید کہا گیا کہ آرڈیننس نے اسلام آباد میں مقامی حکومت کا مکمل طور پر نیا ڈھانچہ متعارف کرایا اور مقامی حکومت کے اندر متعدد درجے بنائے، ایسا کرتے ہوئے انہوں نے اسلام آباد کے میئر کے براہ راست انتخاب کے لیے طریقہ کار فراہم کیا، کوئی ڈپٹی میئر نہیں، اس کے نتیجے میں آئی سی ٹی کونسل بنائی جائے گی جو کہ سیاسی جماعتوں کی جانب سے مقرر/نامزد اراکین کی ایک غیر منتخب شدہ باڈی ہو گی اور پڑوسی کونسلیں بھی ہوں گی جن کا اسلام آباد کے میئر سے کوئی براہ راست تعلق نہیں ہو گا۔</p>

<p>درخواستوں میں استدلال کیا گیا تھا کہ آرڈیننس میں پارلیمنٹ کے ایکٹ پر مبنی ایک قانون کو منسوخ کر دیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1179079</guid>
      <pubDate>Wed, 16 Mar 2022 15:06:38 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (طاہر نصیر)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/03/6231b3d8ab934.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/03/6231b3d8ab934.jpg"/>
        <media:title>اسلام آباد ہائی کورٹ نے حکومت کو لوکل گورنمنٹ ایکٹ کے بجائے نئے آرڈیننس کے تحت بلدیاتی انتخابات سے روک دیا ہے— فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
