<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 19:14:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 19:14:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لانگ کووڈ کی علامات کی شدت میں کمی لانے کا آسان نسخہ جان لیں
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1179431/</link>
      <description>&lt;p&gt;کورونا وائرس کے بیشتر مریضوں کو بیماری سے نجات کے بعد بھی طویل المعیاد علامات کا سامنا ہوتا ہے جسے لانگ کووڈ کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر روزمرہ کے معمولات میں چہل قدمی یا ورزش کو معمول بناکر لانگ کووڈ سے منسلک علامات ڈپریشن اور ذیابیطس کا خطرہ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی &lt;a href="https://journals.lww.com/acsm-essr/Abstract/2022/04000/Exercise_as_a_Moderator_of_Persistent.2.aspx"&gt;&lt;strong&gt;تحقیق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; سامنے آئی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;لانگ کووڈ کی اصل وجہ جاننے کے لیے ابھی تحقیقی کام جاری ہے مگر اب تک کے شواہد سے عندیہ ملا ہے کہ بیماری کے باعث بننے والا جسمانی ورم کچھ مریضوں میں طویل المعیاد علامات کا باعث بنتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;علامات جیسے ذہنی صحت متاثر ہونے اور انسولین کی سطح متاثر ہونا جس سے بلڈ شوگر بڑھتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پینینگٹن بائیومیڈیکل ریسرچ سینٹر کی اس تحقیق کے مطابق ایسا ہونے سے ورم اور تناؤ کا ایسا چکر بنتا ہے جو خلیات کے افعال روک دیتا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جسمانی سرگرمیوں سے اس سائیکل کی روک تھام ہوسکتی ہے جس سے کووڈ سے جڑے ڈپریشن اور ذہنی بے چینی یا گھبراہٹ میں کمی آسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے بتایا کہ ورزش ان تمام عناصر جیسے تناؤ، مدافعتی ردعمل، ورم اور انسولین کی حساسیت کے حوالے سے مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس خیال کو ابھی لانگ کووڈ کے مریضوں پر آزمایا نہیں گیا مگر یہ پہلے ثابت ہوچکا ہے کہ کم شدت والی ورزشیں جیسے چہل قدمی سے تناؤ میں کمی آتی ہے اور انسولین کی حساسیت بحال ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اس سے ممکنہ طور پر مختلف پیچیدگیوں جیسے ڈپریشن اور ذیابیطس کی روک تھام یا خطرے میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ایروبک اور وزن اٹھانے والی ورزشیں صحت کے لیے مفید ہوتی ہیں اور یہ دونوں ممکنہ طور پر لانگ کووڈ سے جڑے تناؤ اور ورم جیسی علامات کو بہتر کرسکتی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر ان کا کہنا تھا کہ ایروبک ورزشیں انسولین کی حساسیت کو بہتر بنانے کے لیے زیادہ اچھی سمجھی جاتی ہیں تو دوڑنا، سائیکل چلانا یا چہل قدمی اس حوالے سے زیادہ مددگار ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں کے کہا کہ درحقیقت ضروری نہیں کہ بھرپور جسمانی کوشش کی جائے، معتدل سرگرمیاں بھی اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق کے مطابق دن بھر میں 30 منٹ کی معتدل چہل قدمی کرنا مددگار ثابت ہوسکتا ہے جیسا سابقہ تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;تحقیق میں بتایا کہ اس سے بھی کم وقت تک چہل قدمی اچھا آغاز ہوسکتی ہے بالخصوص اگر آپ کو لانگ کووڈ کی علامات کا سامنا ہو۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;محققین نے بتایا کہ اگر آپ کو تھکاوٹ جیسی علامات کا سامنا ہے تو کم وقت سے آغاز کریں اور بتدریج اس کو بڑھاتے رہیں۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ایسا بھی ممکن ہے کہ اس جسمانی سرگرمی سے لانگ کووڈ کی ایک اور علامات یعنی تھکاوٹ میں کمی لانے میں مدد مل سکے۔&lt;/p&gt;

&lt;figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'&gt;
				&lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;a href='https://www.dawnnews.tv/news/1168797' &gt;&lt;img src="https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/large/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/6172ba546c03d.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /&gt;&lt;/a&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
				
			&lt;/figure&gt;
&lt;p&gt;			&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;مگر انہوں نے کہا کہ ابھی ہم حتمی طور پر تو کچھ نہیں کہہ سکتے مگر ورزش سے دیگر امراض سے طاری ہونے والی دائمی تھکاوٹ کو بہتر کرنے میں مدد ملتی ہے، ہمارا خیال ہے کہ ایسا لانگ کووڈ کے ساتھ ہوگا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ اس خیال کی آزمائش کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے ایکسرسائز اینڈ اسپورٹس سائنس ریویوز میں شائع ہوئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>کورونا وائرس کے بیشتر مریضوں کو بیماری سے نجات کے بعد بھی طویل المعیاد علامات کا سامنا ہوتا ہے جسے لانگ کووڈ کہا جاتا ہے۔</p>

<p>مگر روزمرہ کے معمولات میں چہل قدمی یا ورزش کو معمول بناکر لانگ کووڈ سے منسلک علامات ڈپریشن اور ذیابیطس کا خطرہ کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1160985' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/large/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w, https://i.dawn.com/primary/2021/06/60b779dc5bca2.png 269w' sizes='(min-width: 992px)  269px, (min-width: 768px)  269px,  269px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>یہ بات امریکا میں ہونے والی ایک طبی <a href="https://journals.lww.com/acsm-essr/Abstract/2022/04000/Exercise_as_a_Moderator_of_Persistent.2.aspx"><strong>تحقیق</strong></a> سامنے آئی۔</p>

<p>لانگ کووڈ کی اصل وجہ جاننے کے لیے ابھی تحقیقی کام جاری ہے مگر اب تک کے شواہد سے عندیہ ملا ہے کہ بیماری کے باعث بننے والا جسمانی ورم کچھ مریضوں میں طویل المعیاد علامات کا باعث بنتا ہے۔</p>

<p>علامات جیسے ذہنی صحت متاثر ہونے اور انسولین کی سطح متاثر ہونا جس سے بلڈ شوگر بڑھتا ہے۔</p>

<p>پینینگٹن بائیومیڈیکل ریسرچ سینٹر کی اس تحقیق کے مطابق ایسا ہونے سے ورم اور تناؤ کا ایسا چکر بنتا ہے جو خلیات کے افعال روک دیتا ہے۔</p>

<p>تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جسمانی سرگرمیوں سے اس سائیکل کی روک تھام ہوسکتی ہے جس سے کووڈ سے جڑے ڈپریشن اور ذہنی بے چینی یا گھبراہٹ میں کمی آسکتی ہے۔</p>

<p>محققین نے بتایا کہ ورزش ان تمام عناصر جیسے تناؤ، مدافعتی ردعمل، ورم اور انسولین کی حساسیت کے حوالے سے مثبت اثرات مرتب کرتی ہے۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ اگرچہ اس خیال کو ابھی لانگ کووڈ کے مریضوں پر آزمایا نہیں گیا مگر یہ پہلے ثابت ہوچکا ہے کہ کم شدت والی ورزشیں جیسے چہل قدمی سے تناؤ میں کمی آتی ہے اور انسولین کی حساسیت بحال ہوتی ہے۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ اس سے ممکنہ طور پر مختلف پیچیدگیوں جیسے ڈپریشن اور ذیابیطس کی روک تھام یا خطرے میں کمی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔</p>

<p>انہوں نے مزید کہا کہ ایروبک اور وزن اٹھانے والی ورزشیں صحت کے لیے مفید ہوتی ہیں اور یہ دونوں ممکنہ طور پر لانگ کووڈ سے جڑے تناؤ اور ورم جیسی علامات کو بہتر کرسکتی ہے۔</p>

<p>مگر ان کا کہنا تھا کہ ایروبک ورزشیں انسولین کی حساسیت کو بہتر بنانے کے لیے زیادہ اچھی سمجھی جاتی ہیں تو دوڑنا، سائیکل چلانا یا چہل قدمی اس حوالے سے زیادہ مددگار ہوسکتے ہیں۔</p>

<p>انہوں کے کہا کہ درحقیقت ضروری نہیں کہ بھرپور جسمانی کوشش کی جائے، معتدل سرگرمیاں بھی اس حوالے سے مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔</p>

<p>تحقیق کے مطابق دن بھر میں 30 منٹ کی معتدل چہل قدمی کرنا مددگار ثابت ہوسکتا ہے جیسا سابقہ تحقیقی رپورٹس میں ثابت ہوا ہے۔</p>

<p>تحقیق میں بتایا کہ اس سے بھی کم وقت تک چہل قدمی اچھا آغاز ہوسکتی ہے بالخصوص اگر آپ کو لانگ کووڈ کی علامات کا سامنا ہو۔</p>

<p>محققین نے بتایا کہ اگر آپ کو تھکاوٹ جیسی علامات کا سامنا ہے تو کم وقت سے آغاز کریں اور بتدریج اس کو بڑھاتے رہیں۔</p>

<p>انہوں نے کہا کہ ایسا بھی ممکن ہے کہ اس جسمانی سرگرمی سے لانگ کووڈ کی ایک اور علامات یعنی تھکاوٹ میں کمی لانے میں مدد مل سکے۔</p>

<figure class='media  sm:w-1/5  w-full  media--left    media--uneven  media--stretch'>
				<div class='media__item  '><picture><a href='https://www.dawnnews.tv/news/1168797' ><img src="https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png" srcset='https://i.dawn.com/medium/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/large/2021/10/6172ba546c03d.png 280w, https://i.dawn.com/primary/2021/10/6172ba546c03d.png 280w' sizes='(min-width: 992px)  280px, (min-width: 768px)  280px,  280px' alt="" /></a></picture></div>
				
			</figure>
<p>			</p>

<p>مگر انہوں نے کہا کہ ابھی ہم حتمی طور پر تو کچھ نہیں کہہ سکتے مگر ورزش سے دیگر امراض سے طاری ہونے والی دائمی تھکاوٹ کو بہتر کرنے میں مدد ملتی ہے، ہمارا خیال ہے کہ ایسا لانگ کووڈ کے ساتھ ہوگا۔</p>

<p>ان کا کہنا تھا کہ اس خیال کی آزمائش کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔</p>

<p>اس تحقیق کے نتائج طبی جریدے ایکسرسائز اینڈ اسپورٹس سائنس ریویوز میں شائع ہوئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1179431</guid>
      <pubDate>Tue, 22 Mar 2022 18:47:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/03/6239d1ccf16b4.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/03/6239d1ccf16b4.jpg"/>
        <media:title>یہ بات ایک نئی طبی تحقیق میں دریافت کی گئی — شٹر اسٹاک فوٹو
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
