<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 03:36:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 03:36:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف کا ذاتی انکم ٹیکس میں تبدیلی کا مطالبہ
</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1179456/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک ایسے وقت میں جب معیشت سیاسی غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار ہے، عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اسلام آباد سے ذاتی انکم ٹیکس (پی آئی ٹی) میں تبدیلی کے لیے اپنے پہلے مطالبے کا اعادہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1681380/imf-asks-for-changes-to-personal-income-tax"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق آئی ایم ایف کے اسٹاف مشن نے گزشتہ ہفتے ٹیکس حکام کے ساتھ بات چیت کے پہلے دور کا انعقاد کیا اور ذاتی انکم ٹیکس میں اصلاحات کا معاملہ اٹھایا، تاکہ خصوصاً تنخواہوں کی آمدن سے زیادہ سے زیادہ ریونیو حاصل کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1175307"&gt;پاکستان کے قرض پروگرام پر آئی ایم ایف جائزہ ملتوی کرنے کی درخواست منظور&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پچھلے سال حکومت نے آئی ایم ایف کا یہی مطالبہ تسلیم نہیں کیا تھا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;یہ مطالبات آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے 6 ارب ڈالر کے ساتویں جائزے کا حصہ ہیں، چھٹے جائزے کے تناظر میں حکومت نے آئی ایم ایف کے 700 ارب روپے کے مطالبے کے مقابلے میں 343 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ واپس لے لی۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;باخبر ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ اصلاحات کے حصے کے طور پر آئی ایم ایف نے شرح میں اضافے کے ساتھ تنخواہ کے انکم ٹیکس سلیب کو موجودہ 12 سے کم کر کے 6 کرنے کا مطالبہ کیا ہے، یہ مطالبہ اگلے بجٹ میں زیر غور آنے والی شرائط میں سے ایک ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ایک تجویز کے مطابق 6 لاکھ روپے سالانہ کمانے والے کم آمدن والوں پر ٹیکس کی ادائیگی کا بوجھ کم کیا جائے گا جبکہ  3 لاکھ روپے ماہانہ سے زیادہ کمانے والوں پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;یہ بھی پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1170767"&gt;آئی ایم ایف نے قرض سے متعلق پاکستانی ڈیٹا کی توثیق کی ہے، شوکت ترین&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے ساتھ ساتھ ٹیکسیشن کے لیے پرویڈنٹ فنڈ اور دیگر الاؤنسز میں بھی اصلاحات لانے کی تجویز دی گئی ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;پاکستان نے پہلے ہی آئی ایم ایف کو بجٹ سے پہلے ذاتی انکم ٹیکس کے بارے میں قانون سازی کی یقین دہانی کرائی ہے تاکہ اس کا یکم جولائی سے نفاذ یقینی بنایا جا سکے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اصلاحات کی وسیع تر اشکال کا مقصد نظام کو آسان بنانا، ترقی کی ترویج اور مزدوروں کو باضابطہ بنانے میں معاونت کرنا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس سے شرحوں کی تعداد اور انکم ٹیکس بریکٹ دونوں میں کمی آئے گی، ٹیکس کریڈٹ اور الاؤنسز میں کمی آئے گی (معذوروں، بزرگ شہریوں اور زکوٰۃ وصول کنندہ)، بہت چھوٹے ٹیکس دہندگان کے لیے خصوصی ٹیکس کا طریقہ کار متعارف کرایا جائے گا اور اضافی ٹیکس دہندگان کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لایا جائے گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;اس کے علاوہ کم آمدنی والے گھرانے محفوظ رہیں گے، آئی ایم ایف کا تخمینہ ہے کہ ذاتی انکم ٹیکس اصلاحات سے مالی سال 2024 میں محصولات میں جی ڈی پی کا 0.3 فیصد ریونیو حاصل ہو گا۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;&lt;strong&gt;مزید پڑھیں: &lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1179237/"&gt;آئی ایم ایف کی 6 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت کی اگلی قسط تعطل کا شکار ہونے کا خدشہ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt;&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذرائع کے مطابق حکومت نے پہلے ہی فروری 2022 کے آخر تک قانون سازی کرنے کا عہد کر رکھا ہے۔&lt;/p&gt;

&lt;p&gt;ذرائع نے کہا کہ ہم اپنی ذاتی انکم ٹیکس میں اصلاحات کے لیے پُرعزم ہیں، اصلاحات میں ٹیکس کی موجودہ شرح کے ڈھانچے کو تبدیل کر کے ٹیکس کی شرح کو کم کرنا شامل ہے، ذاتی انکم ٹیکس نظام کو آسان بنانے اور پیش رفت کو بڑھانے کے لیے شرحیں اور انکم ٹیکس بریکٹ (سلیب) کو آسان بنانا ہوگا، اس سے ٹیکس کے اخراجات اور الاؤنسز بھی کم ہوں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک ایسے وقت میں جب معیشت سیاسی غیر یقینی کی صورتحال سے دوچار ہے، عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے اسلام آباد سے ذاتی انکم ٹیکس (پی آئی ٹی) میں تبدیلی کے لیے اپنے پہلے مطالبے کا اعادہ کیا ہے۔</p>

<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1681380/imf-asks-for-changes-to-personal-income-tax">رپورٹ</a></strong> کے مطابق آئی ایم ایف کے اسٹاف مشن نے گزشتہ ہفتے ٹیکس حکام کے ساتھ بات چیت کے پہلے دور کا انعقاد کیا اور ذاتی انکم ٹیکس میں اصلاحات کا معاملہ اٹھایا، تاکہ خصوصاً تنخواہوں کی آمدن سے زیادہ سے زیادہ ریونیو حاصل کیا جاسکے۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1175307">پاکستان کے قرض پروگرام پر آئی ایم ایف جائزہ ملتوی کرنے کی درخواست منظور</a></strong></p>

<p>پچھلے سال حکومت نے آئی ایم ایف کا یہی مطالبہ تسلیم نہیں کیا تھا۔</p>

<p>یہ مطالبات آئی ایم ایف کے توسیعی فنڈ سہولت (ای ایف ایف) کے 6 ارب ڈالر کے ساتویں جائزے کا حصہ ہیں، چھٹے جائزے کے تناظر میں حکومت نے آئی ایم ایف کے 700 ارب روپے کے مطالبے کے مقابلے میں 343 ارب روپے کی ٹیکس چھوٹ واپس لے لی۔</p>

<p>باخبر ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ اصلاحات کے حصے کے طور پر آئی ایم ایف نے شرح میں اضافے کے ساتھ تنخواہ کے انکم ٹیکس سلیب کو موجودہ 12 سے کم کر کے 6 کرنے کا مطالبہ کیا ہے، یہ مطالبہ اگلے بجٹ میں زیر غور آنے والی شرائط میں سے ایک ہے۔</p>

<p>ایک تجویز کے مطابق 6 لاکھ روپے سالانہ کمانے والے کم آمدن والوں پر ٹیکس کی ادائیگی کا بوجھ کم کیا جائے گا جبکہ  3 لاکھ روپے ماہانہ سے زیادہ کمانے والوں پر ٹیکس کی شرح میں اضافہ کیا جائے گا۔</p>

<p><strong>یہ بھی پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1170767">آئی ایم ایف نے قرض سے متعلق پاکستانی ڈیٹا کی توثیق کی ہے، شوکت ترین</a></strong></p>

<p>اس کے ساتھ ساتھ ٹیکسیشن کے لیے پرویڈنٹ فنڈ اور دیگر الاؤنسز میں بھی اصلاحات لانے کی تجویز دی گئی ہے۔</p>

<p>پاکستان نے پہلے ہی آئی ایم ایف کو بجٹ سے پہلے ذاتی انکم ٹیکس کے بارے میں قانون سازی کی یقین دہانی کرائی ہے تاکہ اس کا یکم جولائی سے نفاذ یقینی بنایا جا سکے۔</p>

<p>اصلاحات کی وسیع تر اشکال کا مقصد نظام کو آسان بنانا، ترقی کی ترویج اور مزدوروں کو باضابطہ بنانے میں معاونت کرنا ہے۔</p>

<p>اس سے شرحوں کی تعداد اور انکم ٹیکس بریکٹ دونوں میں کمی آئے گی، ٹیکس کریڈٹ اور الاؤنسز میں کمی آئے گی (معذوروں، بزرگ شہریوں اور زکوٰۃ وصول کنندہ)، بہت چھوٹے ٹیکس دہندگان کے لیے خصوصی ٹیکس کا طریقہ کار متعارف کرایا جائے گا اور اضافی ٹیکس دہندگان کو ٹیکس کے دائرہ کار میں لایا جائے گا۔</p>

<p>اس کے علاوہ کم آمدنی والے گھرانے محفوظ رہیں گے، آئی ایم ایف کا تخمینہ ہے کہ ذاتی انکم ٹیکس اصلاحات سے مالی سال 2024 میں محصولات میں جی ڈی پی کا 0.3 فیصد ریونیو حاصل ہو گا۔</p>

<p><strong>مزید پڑھیں: <a href="https://www.dawnnews.tv/news/1179237/">آئی ایم ایف کی 6 ارب ڈالر کے توسیعی فنڈ سہولت کی اگلی قسط تعطل کا شکار ہونے کا خدشہ</a></strong></p>

<p>ذرائع کے مطابق حکومت نے پہلے ہی فروری 2022 کے آخر تک قانون سازی کرنے کا عہد کر رکھا ہے۔</p>

<p>ذرائع نے کہا کہ ہم اپنی ذاتی انکم ٹیکس میں اصلاحات کے لیے پُرعزم ہیں، اصلاحات میں ٹیکس کی موجودہ شرح کے ڈھانچے کو تبدیل کر کے ٹیکس کی شرح کو کم کرنا شامل ہے، ذاتی انکم ٹیکس نظام کو آسان بنانے اور پیش رفت کو بڑھانے کے لیے شرحیں اور انکم ٹیکس بریکٹ (سلیب) کو آسان بنانا ہوگا، اس سے ٹیکس کے اخراجات اور الاؤنسز بھی کم ہوں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1179456</guid>
      <pubDate>Wed, 23 Mar 2022 14:06:58 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2022/03/623aad12bfeb6.png" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2022/03/623aad12bfeb6.png"/>
        <media:title>آئی ایم ایف نے تنخواہوں کی آمدن سے زیادہ سے زیادہ ریونیو حاصل کرنے کے لیے ذاتی انکم ٹیکس میں اصلاحات کا معاملہ اٹھایا ہے — فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
